فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ یقیناً مال میں زکات کے علاوہ اور بھی حقوق (اللہ تعالیٰ کی جانب
سے انسان پر) عائد کئے گئے ہیں (جیسے یہ کہ سائل اور قرض خواہ کو محروم نہ کرے اور گھر کے متعلقہ
ساز و سامان میں سے مثلاً برتن، دیگ وغیرہ کوئی مستعار مانگے تو ان کو دینے سے انکار نہ کرے) پھر
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (استدلال میں) اس آیت کو تلاوت فرمائی:۔ ”لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ
الزَّكٰوةَ‘‘ (آیت شریفہ کا ترجمہ باب فضل الصدقہ کی ابتداء میں ملاحظہ ہو)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
And the words of Allah, the Almighty: “And He increases charity.” (Al-Baqarah 2:276), and His words: “But righteousness is in one who believes in Allah, the Last Day, the angels, the Book, and the prophets and gives wealth, in spite of love for it, to relatives, orphans, the needy, the traveler, those who ask, and for freeing slaves.” (Al-Baqarah 2:177).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 659 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
Gives wealth.
(1) The statement: “Gives wealth.” In Al-Madarik: “This refers to voluntary charity and good deeds.”
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله : آتى المال: قال في المدارك»: المراد به نوافل الصدقات والمبار.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی جائز اور حلال کمائی سے ایک کھجور برابر بھی خیرات کرے تو
اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں اور اس کو اپنے سیدھے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حلال مال
ہی میں سے خیرات کو قبول فرماتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس خیرات کئے ہوئے مال کو خیرات کرنے
والے کے لئے اس طرح بڑھاتے جاتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے کی
پرورش کرتا ہے یہاں تک وہ خیرات بڑھتے بڑھتے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1410 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1014a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال مال سے تھوڑی سی خیرات بھی ثواب میں
اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول اور بے حساب ہے اس کے برخلاف اگر حرام مال سے لاکھوں روپیہ بھی خرچ
کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول نہیں فرماتے اور نہ اس کا کوئی ثواب ہے، اس سے مسلمانوں کو چاہئے کہ
راہ خدا میں خرچ کرتے وقت حلال مال کا خیال رکھیں، تھوڑے، بہت کا خیال نہ کریں۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے نبی! مجھے بتائیے کہ صدقہ (کا ثواب
اور اس کی فضیلت) کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کا ثواب کئی گنا ثواب
ہے (اور اس زیادتی کی کم سے کم مقدار ہر نیکی پر دس گنا ہے) بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ (اور اس
زیادتی کی ایک مقدار ہر نیکی پر سات سو گنا تک ہے) اور اللہ تعالیٰ کے پاس تو اس سے بھی زیادہ ہے
(اور اللہ تعالیٰ چاہیں تو ہر نیکی پر سات سو گنا سے بھی زیادہ ثواب عطا فرماتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا
ارشاد ہے: ”وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ“۔
(سورۂ بقرہ، پ:3، ع:36، آیت نمبر:261) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ خیرات کرنے سے مال کم نہیں ہوتا (بلکہ اس میں برکت ہوتی ہے) اور
باوجود انتقام کی قدرت رکھنے کے) کسی کا قصور معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ اس بندہ کی عزت
بڑھاتے ہیں (جس نے کہ قصور معاف کئے) اور جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع اور انکساری
اختیار کی تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ بڑھاتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص راہ خدا میں کسی مال کا جوڑا دے (مثلاً دو بکرے یا دو گھوڑے یا
دو روپیہ) دے تو اس کو جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں پس جو
شخص نمازی (یعنی زیادہ نوافل پڑھنے والا) ہوگا تو اس کو جنت کے ”بَابُ الصَّلٰوةِ“ (نماز کے
دروازے) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی شخص جہاد کرنے والا یعنی راہ خدا میں بہت لڑنے والا ہوگا تو
اس کو ”بَابُ الْجِهَادِ“ (جہاد کے دروازے) سے بلایا جائے گا اور جو شخص بہت خیر خیرات کرنے
والا ہوگا تو اس کو ”بَابُ الصَّدَقَةِ“ (صدقے کے دروازے) سے بلایا جائے گا اور جو شخص کثرت
سے روزے رکھنے والا ہوگا اس کو ”بَابُ الرَّيَّانِ“ (پیاس بجھانے والا دروازہ) سے بلایا جائے گا یہ
سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بظاہر تو اس کی ضرورت نہیں کہ سب دروازوں
سے (بیک وقت) کسی کو بلایا جائے (جب کہ اس کو ایک دروازے سے بلایا جا چکا ہو اور وہ جنت میں
داخل ہو چکا ہو لیکن) پھر بھی کیا کوئی ایسا شخص ہوگا جس کو جنت کے ان سارے دروازوں سے بلایا
جائے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے: ہاں (بعض ایسے لوگ ہوں گے جن کو ان کے کثرت
صلوٰۃ، کثرت صوم، کثرت جہاد، کثرت خیرات کی وجہ سے ان کی تعظیم اور تکریم کے لئے ان کو جنت
کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا) اور مجھے امید ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہوں گے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو مسلمان راہ خدا میں اپنے مال سے دو دو چیزیں خرچ کرے تو جنت کے
سارے دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر دربان اپنے دروازے والی نعمت کی طرف اس شخص کو
دعوت دے گا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس کی کیا صورت ہوگی،
یعنی دو دو چیزیں کس طرح خرچ کی جائیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام ارشاد فرمائے: اگر اونٹ ہو تو
دو اونٹ اور گائے ہوں تو دو گائے (راہ خدا میں خیرات کرے)۔
اس حدیث کی روایت نسائی نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون آج جنازہ کے ساتھ گیا؟ (یعنی جنازہ کی نماز پڑھی اور
جنازہ کے پیچھے چلا (اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا
:میں (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا: تم میں سے
آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (یارسول اللہ ﷺ)
(اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) دریافت فرمایا کہ تم میں سے آج کس نے
بیمار کی عیادت کی؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے (یارسول اللہ ﷺ) (یہ سن کر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جس کسی شخص میں یہ (چار چیزیں ایک دن میں) جمع
ہو جائیں وہ یقیناً جنت میں جائے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1028a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(2): اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دریافت فرمانے پر حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ”اَنَا“ (میں) کہا ہے، اس بارے میں صاحب مرقات اور صاحب اشعۃ
اللمعات نے لکھا ہے ”اَنَا“ (میں) کہنا دو حیثیتوں سے ہوتا ہے، ایک مذموم (یعنی برا) دوسرے محمود
(یعنی اچھا) ”اَنَا“ کہنے کی مذموم حیثیت یہ ہے کہ بطور فخر ”اَنَا“ کہا جائے جیسے ابلیس کا قول ”اَنَا
خَيْرٌ مِنْهُ“، یا ”اَنَا الْعَالِمُ“ ”اَنَا الزَّاهِدُ“، وغیرہ۔ اور ”اَنَا“ کہنے کی محمود حیثیت یہ ہے کہ طلب ثواب
کے موقع پر یا بطور (انکساری) ”اَنَا“ کہا جائے، جیسے: ”اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ“، ”اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ“
یا ”اَنَا الْحَقِيرُ“، ”اَنَا الْعَبْدُ“، وغیرہ۔12
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (عورتوں سے) ارشاد فرمائے: اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی پڑوسن اپنے پڑوسن کی
(حقیر سے حقیر تحفہ پر) حقارت نہ کرے اگرچہ وہ (تحفہ) بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو (خواہ وہ تحفہ
دینے والی ہو یا لینے والی ہو)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
جابر اور حذیفہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ہر نیکی (خواہ وہ قولی ہو یا فعلی، جس سے اللہ تعالیٰ
کی رضاء مقصود ہو) خیرات (کا ثواب رکھتی) ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6021 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1005 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ کا تعلق صرف مال سے ہی نہیں بلکہ ہر وہ عمل جس
سے رضاء الٰہی حاصل ہو، صدقہ ہے مثلاً کسی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا وغیرہ۔ اشعۃ
اللمعات۔12
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کسی نیکی کو حقیر اور معمولی نہ سمجھو، اگرچہ وہ (نیکی) یہ ہو کہ تم اپنے
(مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی سے ملاقات کرو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر نیک کام (پر) خیرات (کا ثواب ملتا) ہے اور یہ کام بھی یقیناً نیکی میں
شامل ہے کہ تم اپنے (مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی سے ملو، اور یہ بھی (نیکی میں شامل ہے) کہ تم
اپنے ڈول سے اپنے (مسلمان) بھائی کے برتن میں پانی بھر دو۔
اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ تمہارا اپنے (مسلمان) بھائی سے مسکراتے ہوئے (ملنا) صدقہ ہے
(یعنی اس پر ثواب ملتا ہے) اور تمہارا نیک کاموں کی تلقین کرنا (بھی) صدقہ ہے، اور تمہارا برائی سے
منع کرنا (بھی) صدقہ ہے، اور تمہارا کسی راہ بھولے ہوئے شخص کو راہ دکھانا (بھی) تمہارے لئے
صدقہ ہے اور تمہارا کسی نابینا یا کمزور بینائی والے شخص کی رہبری کرنا (بھی) تمہارے لئے صدقہ ہے
اور تمہارا راستے سے پتھر، کانٹا، ہڈی (اور اسی قسم کی تکلیف دہ چیزوں) کا ہٹا دینا (بھی) تمہارے لئے
صدقہ ہے اور اپنے ڈول سے اپنے (مسلمان) بھائی کے ڈول میں پانی بھر دینا (بھی) تمہارے
لئے صدقہ ہے (یعنی ان تمام کاموں پر صدقہ کے جیسا ثواب ملتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابو جُرَیّ جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
(جب) میں مدینہ منورہ آیا تو ایک حضرت کو دیکھا کہ لوگ ان کی رائے پر چلتے ہیں وہ جو کچھ فرماتے
ہیں ان (کے ہر حکم) کی پوری تعمیل کرتے ہیں۔ میں نے (لوگوں سے) دریافت کیا یہ کون حضرت
ہیں تو لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں! تو میں (آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور) کہا:
عليك السلام، يا رسول الله! اور میں نے دو مرتبہ یہ الفاظ کہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمایا: علیک السلام نہ کہہ! (کیونکہ) علیک السلام (کہنا) مردہ کا سلام ہے (اس لئے)
تم ”السلام علیک“ کہا کرو (پھر) میں نے عرض کیا: کیا آپ ہی اللہ کے رسول ہیں، حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ہاں! میں اس اللہ کا رسول ہوں کہ اگر تم پر کوئی مصیبت آن پڑے
اور تم (میرے وسیلہ سے جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) اللہ سے دعا کرو تو
اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو دور کر دیں گے اور اگر تم پر قحط سالی آ جائے اور تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو
تو وہ تمہارے لئے غلہ اور گھاس پیدا کر دیں گے اور اگر تم (کسی وقت) کسی بنجر زمین میں یا کسی ایسے
جنگل میں ہو جو آبادی سے دور ہو اور ایسے میں تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اللہ سے دعا کرو تو وہ
تمہاری سواری تمہارے پاس واپس بھیج دیں گے (صاحب اشعۃ اللمعات کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میں اس اللہ کا رسول ہوں جس میں یہ صفات ہیں، اس سے یہ بتلانا مقصود
ہے کہ میری بعثت وسیلۂ رحمت اور اس اللہ تعالیٰ سے خیر و برکات کے حاصل کرنے کا ذریعہ اور واسطہ
ہے جو حاجتوں کا پورا کرنے والا اور مشکلات کا دور کرنے والا ہے) جابر بن سلیم (راوی) کہتے ہیں
کہ میں (یہ سن کر) عرض کیا: حضور! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے کہ تم کسی کو گالی نہ دیا کرو!۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے نہ تو کسی آزاد کو،
نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو گالی دی (اس کے بعد) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ تو کسی نیکی
کو بھی حقیر نہ سمجھ (یہاں تک کہ) اگر تو اپنے کسی (مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی
سے ملے تو یہ بھی نیکی ہے (اور ثواب کا کام ہے) اور تو اپنے ازار (یعنی تہہ بند اور پاجامہ) کو اپنی
نصف پنڈلی تک اونچا رکھ، اگر اتنا اونچا تجھے پسند نہ ہو تو ٹخنے سے کم ٹخنوں سے اونچا رکھ اور ازار کو
(ٹخنوں سے) نیچا رکھنے سے بچ، اس لئے کہ یہ تکبر کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں فرماتے اور
اگر کوئی شخص تجھے گالی دے اور تجھ کو تیرے ایسے عیب سے جو اسے معلوم ہے عار (یعنی شرم) دلائے تو
تو (اس کے جواب میں) اس کو اس کے اس عیب سے جس سے تو واقف ہے عار نہ دلا، اس لئے کہ
اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے اور ترمذی نے صرف سلام کی حد تک کے
واقعہ کی روایت کی ہے۔
اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ (حضور علیہ الصلوۃ والسلام) ارشاد
فرمائے ہیں کہ کسی شخص کے تجھ کو عار دلانے پر) تیری خاموشی کا ثواب تجھے ملے گا اور اس (عار
دلانے) کا وبال اس شخص پر ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 4084 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2722 (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلیم کو علیک السلام کہنے
سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کی
عادت تھی کہ جب وہ کسی قبر پر سلام کرتے تو ”علیک السلام“ کہتے، اسی عام عادت کی بناء پر
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلیم کو زندوں پر علیک السلام کہنے سے منع فرمایا اور ان کو تعلیم دی
کہ جب وہ کسی کو سلام کریں تو ”السلام علیک“ کہا کریں، ویسے تو مردوں پر ”السلام
علیکم“ کہنا اور احادیث سے ثابت ہے۔12
ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (اللہ تعالیٰ کی گوناگوں نعمتوں کے شکریہ میں) ہر مسلمان پر
صدقہ (یعنی خیرات) واجب ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) اگر کسی کے (پاس صدقہ دینے
کے لئے) کچھ بھی نہ ہو (تو کیا کرے؟) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اپنے ہاتھوں
سے کوئی کسب کرے (اور مال حاصل کرے کہ) خود بھی فائدہ حاصل کرے اور خیرات بھی کرے،
پھر صحابہؓ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کسی میں اس کی بھی قوت نہ ہو یا ایسا نہ کرسکے (تو وہ کیا
کرے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ غمگین حاجت مند اور داد خواہ کی (کسی
طرح بھی) مدد کرے۔ صحابہؓ نے (پھر) عرض کیا کہ اگر کوئی ایسا بھی نہ کرسکے (تو وہ کیا کرے؟) تو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ (لوگوں کو) نیکی کا حکم کرے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے
(پھر) عرض کیا کہ اگر کوئی یہ بھی نہ کرسکے (تو پھر کیا کرے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے (کہ اگر کسی سے یہ سب کچھ نہ ہوسکے تو کم از کم) وہ اپنے آپ کو برائی سے بچائے رکھے اور
یہی اس کے حق میں خیرات ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ہر روز جبکہ دن نکلتا ہے انسان پر اس کے بدن میں جتنے جوڑ ہیں، ان
میں سے ہر ایک کے لئے صدقہ دینا واجب ہے۔ اگر کسی نے دو آدمیوں کے درمیان انصاف کیا تو یہ
(بھی) صدقہ ہے اور اگر کسی نے کسی آدمی کو اس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد دی، اور اس کو سواری
پر سوار کر دیا، یا اس کا سامان سواری پر اٹھا کر رکھ دیا۔ یہ (بھی) اس کے لئے خیرات ہے، اور (ہر)
اچھی بات کہنا (یا سائل) کو نرمی سے جواب دینا بھی) اس کے لئے صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے
لئے (مسجد کی طرف) جانے میں وہ اٹھاتا ہے وہ (بھی) صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کو
ہٹا دے تو یہ (بھی) صدقہ ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں سے پیدا کیا
گیا ہے (یعنی ہر انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور یہ ضروری ہے کہ ہر جوڑ کے کار آمد
ہونے کے شکر یہ میں ہر روز کچھ نہ کچھ خیرات کرے) تو جو کوئی ”اللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہے، ”الْحَمْدُ
لِلّٰهِ“ کہے، ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ پڑھا کرے۔ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ“ کہے، اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے
اور لوگوں کے راستہ سے پتھر یا کانٹا یا ہڈی دور کر دے یا کسی کو نیک بات بتائے یا برائی سے روکے، اور
یہ سب چیزیں (جس دن) تین سو ساٹھ ہو جائیں تو (چونکہ اس نے ہر جوڑ کے بدلے میں ایک ایک
نیکی کر لی ہے اس لئے) اس روز وہ (گناہوں سے پاک و صاف ہو کر) ایسا چلے گا کہ گویا اس نے
اپنے آپ کو دوزخ سے بچا لیا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک شخص ایک درخت کی شاخ پر گزرا، جو سڑک کے درمیان راہ آ گئی تھی تو
اس نے کہا: میں ضرور اس شاخ کو مسلمانوں کے راستہ سے دور کر دوں گا تا کہ یہ ان کو تکلیف نہ
دے۔ پس وہ شخص اس (کار خیر) کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیا گیا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور سے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ میں نے جنت میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ وہاں سیر کرتا پھر رہا تھا
(کیونکہ) اس نے (دنیا میں ایک کار خیر یہ کیا تھا کہ) (لوگوں کے) راستہ سے ایک درخت کو کاٹ
دیا تھا جو لوگوں کو (راستہ میں ہونے کی وجہ سے) تکلیف دیا کرتا تھا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا نبی اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئے جس سے مجھے فائدہ حاصل ہو
تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا
کرو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ہر دفعہ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ“ کہنے پر اور ہر دفعہ ”اللّٰه اكبر“ کہنے پر، اور
ہر دفعہ ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ کہنے پر اور ہر نیک کام کے بتانے پر اور ہر برے کام سے روکنے پر خیرات کا
ثواب ملتا ہے اور (یہاں تک کہ) تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی سے ہم بستری کرے تو اس پر
(بھی) نیکی کا ثواب ملتا ہے (یہ سن کر حیرت سے) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم! کہ ہم میں سے ایک شخص اپنی خواہش نفس کی تکمیل کرتا ہوا اور اس پر بھی اس کو ثواب ملتا
ہو! (یہ بات کیسے ممکن ہے؟) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: دیکھو! اگر وہ حرام (یعنی
ناجائز) طریقہ پر اپنی خواہش نفسانی کی تکمیل کرتا تو کیا اس کو عذاب نہ ہوتا؟ چونکہ اس نے (حرام
طریقہ سے بچ کر) حلال طریقہ سے اپنی خواہش پوری کی ہے (اور اپنی بیوی کا حق ادا کیا ہے) اس
لئے اس کو (اس پر خیرات) کا ثواب ملے گا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ نفس جماع نہ تو صدقہ ہے اور نہ عبادت، البتہ کوئی شخص
جماع کے ذریعے حرام سے اپنے نفس کی نگہداشت کرتا ہے اور اپنی بیوی کا حق بھی ادا کرتا ہے اور نیک
اولاد پیدا ہونے کی نیت کرتا ہے، اس لئے اس طرح اپنی بیوی سے جماع کرنے پر مسلمان کو ثواب ملتا
ہے۔12
بُهَيْسَةَ رضی اللہ عنہا اپنے والد سے دریافت کرتی ہیں کہ ان کے والد نے
(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! وہ کونسی چیز ہے جس سے (کسی کو)
روکنا درست نہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: وہ پانی ہے، انہوں نے پھر دریافت کیا
کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (پانی کے بعد) وہ کونسی چیز ہے جس کو دینے سے انکار کرنا
منع ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: وہ نمک ہے۔ انہوں نے پھر دریافت کیا: اے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کونسی چیز ہے جس کا انکار کرنا درست نہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمائے کہ جس قدر نیک کام تم سے ہو سکے تمہارے لئے، بہتر ہے۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو مسلمان کوئی درخت لگائے یا کھیتی بوئے، اور اس میں سے کوئی انسان یا
پرند یا جانور کچھ کھا لے تو (اس کو اس نقصان پر صبر کرنے کی وجہ سے) خیرات کا ثواب ملتا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور مسلم کی روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے کہ اگر اس
کے (پھل یا کھیتی سے) کچھ چوری ہو جائے تو اس پر بھی اس کو خیرات کا ثواب ملتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کسی نے بنجر زمین کو آباد کیا (یعنی افتادہ زمین میں کھیتی کی) تو اس میں بھی
اس کے لئے ثواب ہے اور کھیتی کا کسی وجہ سے نقصان ہو جائے (یعنی سیلاب آ جائے یا جانور
کھا جائے یا انسان لے جائے اور اس پر وہ صبر کرے) تو اس کو خیرات کا ثواب ملتا ہے۔
اس کی روایت نسائی اور دارمی نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ بہترین صدقہ زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی ہے جو کسی کو مستعار دی
جائے (تاکہ وہ اس کے دودھ سے فائدہ حاصل کرنے کے بعد اس کو واپس کر دے۔ یا بہترین
صدقہ) وہ زیادہ دودھ دینے والی بکری ہے جو کسی کو مستعار دی جائے کہ وہ صبح کو برتن بھر دودھ دیتی
ہو، اور شام کو بھی برتن بھر دودھ۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1019 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 2629 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Given as a gift.
(1) The statement: “Given as a gift.” In Al-Bada’i: “If one gives a milking sheep, camel, or cow as a gift and says: ‘This sheep is a gift for you,’ or ‘This camel,’ or ‘This cow,’ it is considered a loan, and it is permissible for the recipient to benefit from its milk. Even though milk is a physical substance, it is considered a benefit by custom and practice, so it is treated as a benefit, as if he has permitted him to drink the milk. Thus, it is permissible for him to benefit from its milk.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: منحة: وقال في البدائع: ولو منحه شاة حلوبًا أو ناقة حلوبًا أو بقرة حلوبا، وقال: هذه الشاة لك منحة، أو هذه الناقة، أو هذه البقرة كان عارية، وجاز له الانتفاع بلبنها؛ لأن اللبن وإن كان عينا حقيقة فهو معدود من المنافع عرفا وعادةً، فأعطى له حكم المنفعة، كأنه أباح له شرب اللبن، فيجوز له الانتفاع بلبنها.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ”مِنْحَةٌ“ کا لفظ مذکور ہے اور ”مِنْحَةٌ“ عطیہ کو کہتے ہیں اور یہ
عموماً اونٹ، گائے اور بکری میں ہوا کرتا تھا۔ عرب میں یہ معمول تھا کہ صاحب ثروت جس کو اللہ تعالیٰ
توفیق دے، وہ دودھ والی اونٹنی، گائے یا بکری، کسی محتاج کو مستعار دیتا تاکہ وہ دودھ استعمال کرنے کے
بعد مالک کو پھر واپس کر دے، اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت پسند فرمایا اور اس کی تعریف کی
ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات)۔
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں: اگر کوئی شخص کسی کو دودھ دینے والا جانور عاریۃً دے یا کچھ درہم بطور قرض دے
یا کسی کو گلی کوچہ میں راہ بتا دے (کہ وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکے) تو اس کو ایک غلام یا باندی
آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک بدکار عورت کی بخشش (محض) اس بناء پر ہوگئی (کہ اس نے ایک
پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا) جبکہ وہ راستہ سے گزر رہی تھی تو اس نے ایک کتے کو کنویں کے پاس دیکھا
جو (پیاس کے مارے) اپنی زبان باہر نکالے ہوئے تھا اور قریب تھا کہ وہ (پیاس کی شدت کے
مارے) ہلاک ہو جائے۔ پس اس نے اپنا موزہ نکالا اور اس کو اپنی اوڑھنی سے باندھ کر کنویں سے
پانی کھینچا اور کتے کو پلایا۔ اس کام کے صلہ میں اس عورت کو بخش دیا گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض
کیا کہ کیا جانوروں پر احسان کرنے میں بھی ہم کو ثواب ملتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے: ہاں! ہر جاندار کے ساتھ احسان کرنے میں ثواب ملتا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے یہ دونوں حضرات فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک عورت کو (محض) ایک بلی کی وجہ سے
عذاب دیا گیا کہ جس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، نہ تو وہ اس کو
کھلاتی اور نہ کھلا چھوڑتی کہ وہ زمین میں کے جانور (مثلاً چوہے وغیرہ) کھاتی (اور اپنا پیٹ
بھرتی)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں (آپ کی خدمت میں) حاضر ہوا (تا کہ آپ
کے حالات معلوم کر کے دعوائے نبوت کی تصدیق کروں اور اسلام لاؤں)۔ تو جونہی میری نظر
حضورﷺ کے رخ انور پر پڑی تو میں دیکھتے ہی پہچان لیا کہ ایسی (نیک) صورت کسی جھوٹے شخص
کی نہیں ہو سکتی۔ (مدینہ پاک پہنچنے کے بعد لوگوں کو جمع کر کے) پہلی چیز جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمائی وہ یہ تھی کہ اے لوگو! سلام کو رواج دو (یعنی کثرت سے سلام کیا کرو، اور پکار کر
سلام کرو، چاہے وہ اپنا ہو یا پرایا ہو) اور لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا
کرو۔ اور رات میں اس وقت نماز پڑھا کرو جبکہ لوگ سوتے ہوں (تا کہ تم کو یکسوئی اور دلجمعی حاصل
ہو) تو تم (ان کاموں کے صلہ میں) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ بزرگ و برتر کی جو رحمن ہیں عبادت کرو۔ (جس نے اپنی
رحمت سے تم کو قسم قسم کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں) اور (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ اور سلام کو رواج دو (یعنی
کثرت سے سلام کیا کرو، اور با آواز بلند اپنے اور پرائے پر سلام کیا کرو) تو تم (ان کاموں کے صلہ
میں) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور برے خاتمہ سے بچاتا ہے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات اور اشعۃ اللمعات نے سوء خاتمہ کی دو صورتیں بیان کی ہیں: ایک یہ کہ
انسان موت کے وقت غفلت، وسوسے اور جزع فزع میں مبتلا ہوجائے اور شہادت ایمان پر خاتمہ نہ
ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ موت اچانک جلنے، ڈوبنے اور دب کر مرنے سے واقع ہو تو خیرات کرنے
سے اللہ تعالیٰ سوء خاتمہ کی ان دونوں صورتوں سے بچاتے ہیں اور دنیا و آخرت کی سلامتی عطا فرماتے
ہیں۔12
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: “Gives wealth.” In Al-Madarik: “This refers to voluntary charity and good deeds.”
Chapter-heading commentary
(۱) قوله : آتى المال: قال في المدارك»: المراد به نوافل الصدقات والمبار.