Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2365

Chapter on The Virtue of Charity

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Chapter on The Virtue of Charity

Zujajat al-Masabih 2365Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2770Noor 2771
ابو جُرَیّ جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (جب) میں مدینہ منورہ آیا تو ایک حضرت کو دیکھا کہ لوگ ان کی رائے پر چلتے ہیں وہ جو کچھ فرماتے ہیں ان (کے ہر حکم) کی پوری تعمیل کرتے ہیں۔ میں نے (لوگوں سے) دریافت کیا یہ کون حضرت ہیں تو لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں! تو میں (آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور) کہا: عليك السلام، يا رسول الله! اور میں نے دو مرتبہ یہ الفاظ کہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا: علیک السلام نہ کہہ! (کیونکہ) علیک السلام (کہنا) مردہ کا سلام ہے (اس لئے) تم ”السلام علیک“ کہا کرو (پھر) میں نے عرض کیا: کیا آپ ہی اللہ کے رسول ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ہاں! میں اس اللہ کا رسول ہوں کہ اگر تم پر کوئی مصیبت آن پڑے اور تم (میرے وسیلہ سے جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) اللہ سے دعا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو دور کر دیں گے اور اگر تم پر قحط سالی آ جائے اور تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو وہ تمہارے لئے غلہ اور گھاس پیدا کر دیں گے اور اگر تم (کسی وقت) کسی بنجر زمین میں یا کسی ایسے جنگل میں ہو جو آبادی سے دور ہو اور ایسے میں تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اللہ سے دعا کرو تو وہ تمہاری سواری تمہارے پاس واپس بھیج دیں گے (صاحب اشعۃ اللمعات کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میں اس اللہ کا رسول ہوں جس میں یہ صفات ہیں، اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ میری بعثت وسیلۂ رحمت اور اس اللہ تعالیٰ سے خیر و برکات کے حاصل کرنے کا ذریعہ اور واسطہ ہے جو حاجتوں کا پورا کرنے والا اور مشکلات کا دور کرنے والا ہے) جابر بن سلیم (راوی) کہتے ہیں کہ میں (یہ سن کر) عرض کیا: حضور! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ تم کسی کو گالی نہ دیا کرو!۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے نہ تو کسی آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو گالی دی (اس کے بعد) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ تو کسی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھ (یہاں تک کہ) اگر تو اپنے کسی (مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی سے ملے تو یہ بھی نیکی ہے (اور ثواب کا کام ہے) اور تو اپنے ازار (یعنی تہہ بند اور پاجامہ) کو اپنی نصف پنڈلی تک اونچا رکھ، اگر اتنا اونچا تجھے پسند نہ ہو تو ٹخنے سے کم ٹخنوں سے اونچا رکھ اور ازار کو (ٹخنوں سے) نیچا رکھنے سے بچ، اس لئے کہ یہ تکبر کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں فرماتے اور اگر کوئی شخص تجھے گالی دے اور تجھ کو تیرے ایسے عیب سے جو اسے معلوم ہے عار (یعنی شرم) دلائے تو تو (اس کے جواب میں) اس کو اس کے اس عیب سے جس سے تو واقف ہے عار نہ دلا، اس لئے کہ اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے اور ترمذی نے صرف سلام کی حد تک کے واقعہ کی روایت کی ہے۔ اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ (حضور علیہ الصلوۃ والسلام) ارشاد فرمائے ہیں کہ کسی شخص کے تجھ کو عار دلانے پر) تیری خاموشی کا ثواب تجھے ملے گا اور اس (عار دلانے) کا وبال اس شخص پر ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4084 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2722 (unverified) 86% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلیم کو علیک السلام کہنے سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کی عادت تھی کہ جب وہ کسی قبر پر سلام کرتے تو ”علیک السلام“ کہتے، اسی عام عادت کی بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلیم کو زندوں پر علیک السلام کہنے سے منع فرمایا اور ان کو تعلیم دی کہ جب وہ کسی کو سلام کریں تو ”السلام علیک“ کہا کریں، ویسے تو مردوں پر ”السلام علیکم“ کہنا اور احادیث سے ثابت ہے۔12