English
Abu Jurayy Jabir ibn Sulaym (may Allah be pleased with him) narrated: “I came to Madinah and saw a man whose opinion people followed. He did not say anything except that people acted upon it. I asked: ‘Who is this?’ They said: ‘This is the Messenger of Allah.’ I said: ‘Peace be upon you, O Messenger of Allah,’ twice. He said: ‘Do not say: “Peace be upon you,” for that is the greeting of the dead. Say: “Peace be upon you.”’ I said: ‘Are you the Messenger of Allah?’ He said: ‘I am the Messenger of Allah. If harm befalls you and you call upon Him, He will remove it. If a year of drought befalls you and you call upon Him, He will make it grow for you. If you are in a barren land and your mount strays, and you call upon Him, He will return it to you.’ I said: ‘Advise me.’ He said: ‘Do not curse anyone.’ After that, I did not curse any free person, slave, camel, or sheep. He said: ‘Do not belittle any good deed, even if it is speaking to your brother with a cheerful face. That is a good deed. Raise your garment to mid-calf, and if you refuse, then to the ankles. Beware of letting your garment drag, for it is a sign of arrogance, and Allah does not love arrogance. If someone insults you and shames you with what he knows about you, do not shame him with what you know about him, for the burden of that will be on him.’”
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٣٦٥ - وَعَنْ أَبِي جُرَيٌّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ (رضي الله عنه) قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ لَا يَقُوْلُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُوْلُ اللَّهِ. قَالَ: قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَرَّتَيْنِ. قَالَ: «لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ؛ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلْ : السَّلَامُ عَلَيْكَ». قُلْتُ: أَنْتَ رَسُوْلُ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضِ قَفْرَاءَ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ». قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ. قَالَ: «لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا» قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً. قَالَ: «وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوْفِ، وَأَنْ تُكَلَّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطُ إِلَيْهِ وَجْهُكَ، إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوْفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ؛ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيْكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيْهِ؛ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ». رواهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ السَّلَامِ. وَفِي رِوَايَةٍ: فَيَكُوْنُ لَكَ أَجْرُ ذَلِكَ وَوَبَالُهُ عَلَيْهِ».
اردو
ابو جُرَیّ جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
(جب) میں مدینہ منورہ آیا تو ایک حضرت کو دیکھا کہ لوگ ان کی رائے پر چلتے ہیں وہ جو کچھ فرماتے
ہیں ان (کے ہر حکم) کی پوری تعمیل کرتے ہیں۔ میں نے (لوگوں سے) دریافت کیا یہ کون حضرت
ہیں تو لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں! تو میں (آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور) کہا:
عليك السلام، يا رسول الله! اور میں نے دو مرتبہ یہ الفاظ کہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمایا: علیک السلام نہ کہہ! (کیونکہ) علیک السلام (کہنا) مردہ کا سلام ہے (اس لئے)
تم ”السلام علیک“ کہا کرو (پھر) میں نے عرض کیا: کیا آپ ہی اللہ کے رسول ہیں، حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ہاں! میں اس اللہ کا رسول ہوں کہ اگر تم پر کوئی مصیبت آن پڑے
اور تم (میرے وسیلہ سے جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) اللہ سے دعا کرو تو
اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو دور کر دیں گے اور اگر تم پر قحط سالی آ جائے اور تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو
تو وہ تمہارے لئے غلہ اور گھاس پیدا کر دیں گے اور اگر تم (کسی وقت) کسی بنجر زمین میں یا کسی ایسے
جنگل میں ہو جو آبادی سے دور ہو اور ایسے میں تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اللہ سے دعا کرو تو وہ
تمہاری سواری تمہارے پاس واپس بھیج دیں گے (صاحب اشعۃ اللمعات کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میں اس اللہ کا رسول ہوں جس میں یہ صفات ہیں، اس سے یہ بتلانا مقصود
ہے کہ میری بعثت وسیلۂ رحمت اور اس اللہ تعالیٰ سے خیر و برکات کے حاصل کرنے کا ذریعہ اور واسطہ
ہے جو حاجتوں کا پورا کرنے والا اور مشکلات کا دور کرنے والا ہے) جابر بن سلیم (راوی) کہتے ہیں
کہ میں (یہ سن کر) عرض کیا: حضور! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے کہ تم کسی کو گالی نہ دیا کرو!۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے نہ تو کسی آزاد کو،
نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو گالی دی (اس کے بعد) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ تو کسی نیکی
کو بھی حقیر نہ سمجھ (یہاں تک کہ) اگر تو اپنے کسی (مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی
سے ملے تو یہ بھی نیکی ہے (اور ثواب کا کام ہے) اور تو اپنے ازار (یعنی تہہ بند اور پاجامہ) کو اپنی
نصف پنڈلی تک اونچا رکھ، اگر اتنا اونچا تجھے پسند نہ ہو تو ٹخنے سے کم ٹخنوں سے اونچا رکھ اور ازار کو
(ٹخنوں سے) نیچا رکھنے سے بچ، اس لئے کہ یہ تکبر کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں فرماتے اور
اگر کوئی شخص تجھے گالی دے اور تجھ کو تیرے ایسے عیب سے جو اسے معلوم ہے عار (یعنی شرم) دلائے تو
تو (اس کے جواب میں) اس کو اس کے اس عیب سے جس سے تو واقف ہے عار نہ دلا، اس لئے کہ
اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے اور ترمذی نے صرف سلام کی حد تک کے
واقعہ کی روایت کی ہے۔
اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ (حضور علیہ الصلوۃ والسلام) ارشاد
فرمائے ہیں کہ کسی شخص کے تجھ کو عار دلانے پر) تیری خاموشی کا ثواب تجھے ملے گا اور اس (عار
دلانے) کا وبال اس شخص پر ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4084 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2722 (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلیم کو علیک السلام کہنے سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کی عادت تھی کہ جب وہ کسی قبر پر سلام کرتے تو ”علیک السلام“ کہتے، اسی عام عادت کی بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابر بن سلیم کو زندوں پر علیک السلام کہنے سے منع فرمایا اور ان کو تعلیم دی کہ جب وہ کسی کو سلام کریں تو ”السلام علیک“ کہا کریں، ویسے تو مردوں پر ”السلام علیکم“ کہنا اور احادیث سے ثابت ہے۔12