اردو
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو مسلمان قرآن پڑھتا رہتا ہے اس کی مثال ترنج کے پھل
جیسی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے اور مزہ بھی عمدہ ہوتا ہے (یعنی قرآن پڑھنے والے مسلمان کا
ظاہر و باطن دونوں اچھے ہوتے ہیں) اور اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے کھجور کی طرح
ہے کہ اس میں خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس کا مزہ شیریں ہوتا ہے (یعنی اس کا باطن ایمان کی وجہ سے تو
اچھا ہے لیکن قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے ایمان کا اثر اس پر ظاہر نہیں ہے) اور جو منافق قرآن نہیں
پڑھتا اس کی مثال اندرائن کے پھل کی طرح ہے جس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا مزہ بھی کڑوا
ہوتا ہے۔ (یعنی منافق کا نہ ظاہر اچھا ہے اور نہ باطن) اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے
خوشبودار پھول کی طرح ہے کہ بو تو اس کی اچھی ہے لیکن مزہ اس کا کڑوا ہے۔ اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ وہ مسلمان جو قرآن
پڑھ کر عمل کرتا ہو وہ ترنج کی طرح ہے اور وہ مسلمان جو قرآن تو نہیں پڑھتا ہے لیکن اس پر عمل کرتا
ہے کھجور کی طرح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 797a (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5020 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.