امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن کو خود سیکھے اور دوسروں
کو سکھائے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
And the statement of Allah, the Almighty: "O mankind, there has come to you an instruction from your Lord, a healing for what is in the breasts, and a guidance and mercy for the believers." [Yunus: 57]
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5027 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
The best among you...
(1) The statement: "The best among you..." If it is asked: Which is better—learning the Qur’an or learning Fiqh (jurisprudence)? The answer is: The one occupied with Fiqh is better. This depends on a person’s need, because Fiqh is superior to mere recitation. However, in the time of the Prophet (ﷺ), the reciter was the most knowledgeable in Fiqh, which is why the reciter led the prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari’.
Note 1
قوله
(۱) قوله : خيركم إلخ فإن قلت: أيهما أفضل ؟ تعلم القرآن أو تعلم الفقه ؟ قلت: المتشاغل بالفقه أفضل. ذلك راجع إلى حاجة الإنسان؛ لأن الفقه أفضل من القراءة، وإنما كان القارئ في زمن النبي الله هو الأفقه، فلذلك قام القارئ في الصلاة. قاله في عمدة القاري».
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کو (لفظ اور معنی کے ساتھ) پڑھنا سیکھو پھر اس کی تلاوت
ہمیشہ جاری رکھو (اور اس کے احکام پر عمل کرتے جاؤ) کیونکہ جس نے قرآن کو سیکھا پھر پڑھا اور تہجد
میں اس کو پڑھتا رہا اس کی مثال چمڑے کی اس تھیلی کی طرح ہے جس میں مشک بھرا ہوا ہو اور اس کی
خوشبو مکان کے گوشہ گوشہ میں پہنچ جاتی ہے (یعنی اس کی برکت پڑھنے اور سننے والوں کو حاصل ہو
جاتی ہے) اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن کو سیکھا اور اس کو سینہ میں لئے سوتا رہا (یعنی نہ تو خود
ورد کرتا ہے اور نہ دوسروں کو سکھاتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے) اس تھیلی جیسی ہے جس میں مشک تو
بھرا ہوا ہو لیکن اس کا منہ باندھ دیا گیا ہو۔ اس کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو مسلمان قرآن پڑھتا رہتا ہے اس کی مثال ترنج کے پھل
جیسی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے اور مزہ بھی عمدہ ہوتا ہے (یعنی قرآن پڑھنے والے مسلمان کا
ظاہر و باطن دونوں اچھے ہوتے ہیں) اور اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے کھجور کی طرح
ہے کہ اس میں خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس کا مزہ شیریں ہوتا ہے (یعنی اس کا باطن ایمان کی وجہ سے تو
اچھا ہے لیکن قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے ایمان کا اثر اس پر ظاہر نہیں ہے) اور جو منافق قرآن نہیں
پڑھتا اس کی مثال اندرائن کے پھل کی طرح ہے جس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا مزہ بھی کڑوا
ہوتا ہے۔ (یعنی منافق کا نہ ظاہر اچھا ہے اور نہ باطن) اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے
خوشبودار پھول کی طرح ہے کہ بو تو اس کی اچھی ہے لیکن مزہ اس کا کڑوا ہے۔ اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ وہ مسلمان جو قرآن
پڑھ کر عمل کرتا ہو وہ ترنج کی طرح ہے اور وہ مسلمان جو قرآن تو نہیں پڑھتا ہے لیکن اس پر عمل کرتا
ہے کھجور کی طرح ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صُفّہ
پر (جو مسجد نبوی میں ایک سایہ دار چبوترہ ہے) بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف
لائے اور ارشاد فرمائے کہ تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز بُطحان یا عقیق کے
بازاروں میں جائے (بُطحان اور عقیق دو مقام ہیں جو مدینہ منورہ سے دو یا تین میل کے فاصلے پر ہیں
جہاں اونٹوں کی خرید و فروخت ہوا کرتی تھی) اور وہاں سے بغیر گناہ اور قطع رحمی کے دو بڑے کوہان
والی اونٹنیاں لائے؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جب ایسا ہے تو کیا وجہ ہے کہ پھر تم میں سے کوئی مسجد جا کر قرآن کی دو
آیتیں نہیں سکھاتا اور خود نہیں پڑھتا جو اس کے لئے (دو بڑی) اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح
تین آیتیں تین اونٹنیوں سے اور چار آیتیں چار اونٹنیوں کے ملنے سے بہتر ہیں (بہرحال قرآن کی
جتنی زیادہ آیتیں سکھائے گا) وہ اونٹنیوں کی (اتنی ہی زیادہ) تعداد سے (ثواب و اجر میں) بہتر ہیں
اس لئے کہ قرآن پڑھنے اور پڑھانے کا ثواب دنیا کے تمام نفیس مال سے بہتر ہے کیونکہ آخرت کا
ثواب باقی رہنے والا ہے اور دنیا کا اسباب فنا ہونے والا ہے)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہے کہ تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر واپس
جائے اس کو تین فربہ گابھن بڑی اونٹنیاں ملیں؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ہم سب اس کو پسند
کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا: کہ تم میں سے کسی کا نماز میں قرآن کی تین آیتوں کا پڑھنا ثواب اور
اجر میں تین فربہ گابھن بڑی اونٹنیوں کے ملنے سے بہتر ہے۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مرسلاً سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص رات میں کم سے کم قرآن کی سو(100) آیتیں پڑھے تو
قرآن اس کے لئے (اپنے حق تلاوت) کے بارے میں جھگڑا نہیں کرے گا۔ اور جو شخص ایک رات
میں دو سو(200) آیتیں پڑھے تو اس کو رات بھر کی عبادت کا ثواب ملے گا۔ اور جو شخص رات بھر میں
پانچ سو سے ہزار آیتوں تک کی تلاوت کرے گا تو وہ صبح کو اس طرح اٹھے گا کہ اس کو ایک قنطار ثواب
مل چکا ہے۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ یہ قنطار کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بارہ
ہزار (درہم یا دینار)۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہے
کہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کا ماہر (جو قرآن کے حفظ و تجوید میں
مہارت رکھتا ہو اور قرآن کے احکام کا عالم ہو اور ان پر پوری طرح عمل کرنے والا ہو تو اس کا حشر)
ان مقرب اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا جو لوح محفوظ سے کتب الٰہیہ کو لکھتے ہیں اور وہ شخص جو
قرآن کو (عدم مہارت کی وجہ سے دشواری کے ساتھ) دوہرا دوہرا کر رک رک کر پڑھتا ہے تو اس کو
دو اجر ملتے ہیں۔ (قرآن کی تلاوت کا بھی اجر اور پڑھنے کی مشقت کا بھی اجر اس فضیلت سے
مشقت سے قرآن پڑھنے والے کی دلجوئی مقصود ہے تاکہ وہ قرآن کے سیکھنے میں کم ہمت نہ ہو۔ یوں
تو ماہر بالقرآن کی فضیلت ظاہر ہے کہ اس کا حشر ملائکہ مقربین انبیاء اور مرسلین اور صحابہ کرام کے
ساتھ ہوگا)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ارشاد فرماتے ہیں کہ حسد صرف دو شخصوں پر جائز ہے: ایک اس شخص پر جس کو اللہ نے قرآن (یعنی
ذوق تلاوت) عطا فرمایا ہو اور رات دن اس کی تلاوت میں مشغول رہتا ہو اور دوسرا وہ شخص (جس پر
حسد جائز ہے وہ ہے) کہ جس کو اللہ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اس کو (نیک کاموں میں) دن رات
خرچ کیا کرتا ہو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ حسد کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو نعمتوں میں دیکھ کر
اس کو برداشت نہ کرسکے اور یہ تمنا کرے کہ اس کی نعمتیں چھن جائیں اور مجھ کو مل جائیں ایسی تمنا حرام
ہے اور حسد کی دوسری قسم جس کو غبطہ کہتے ہیں یہ ہے کہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر یہ آرزو کرے کہ خدا
ہم کو بھی ایسی ہی نعمتوں سے سرفراز کرے اور دوسرے کی نعمتوں کے زوال کی تمنا نہ کرے اور یہ جائز
ہے اور حدیث شریف میں حسد سے مراد یہی غبطہ مراد ہے۔ (مرقات)
حضرت امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب (یعنی قرآن
) پر ایمان لانے اس کی تعظیم کرنے اور اس پر عمل کرنے سے بعضوں (کے مراتب) کو بلند فرماتے
ہیں (یعنی دنیا میں ان کو حیات طیبہ سے سرفراز فرماتے ہیں اور آخرت میں ان کا حشر انبیاء اور
صدیقین کے ساتھ فرماتے ہیں) اور بعضوں کو (جو قرآن ریاکاری سے پڑھے اور اس پر عمل نہ
کرے) قرآن ہی سے پست (اور ذلیل) کرتے ہیں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
حضور نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تین چیزیں عرش کے نیچے ہوں گی۔ (جو شخص ان کے حقوق ادا
کرے گا اس کے حق میں ان کی شفاعت اللہ کے پاس مقبول ہوگی۔ اور جو ان کے حقوق ضائع
کرے گا تو ان کی گرفت سے بچ نہ سکے گا ان میں سے (1) ایک تو قرآن ہے کہ بندوں کے لئے
جھگڑے گا (اگر انہوں نے اس کے حقوق کی حفاظت کی ہے اور اس کے احکام پر عمل کیا ہے تو ان کے
فائدے کے لئے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کے لئے اڑ جائے گا۔ اور اگر انہوں نے قرآن کا حق ضائع
کیا ہے اور اس کے احکام پر عمل نہیں کیا ہے تو ان کے خلاف حجت کرے گا) اور قرآن کا ایک ظاہر
ہے اور ایک باطن ہے (ظاہر سے مراد تلاوت ہے جس میں سارے مسلمان شریک ہیں) اور باطن
اس کے معانی میں تدبر ہے جو علمائے امت کا حصہ ہے۔ اور (2) دوسری وہ چیز جو عرش کے نیچے ہوگی
وہ) امانت ہے (کہ اس سے مراد لوگوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کے اموال کی نگہداشت ہے
(3) تیسری وہ چیز جو عرش کے نیچے ہوگی) وہ صلہ رحمی ہے (یعنی قرابت داروں کے حقوق کی حفاظت
ہے) اور ان تینوں میں سے ہر ایک قیامت کے روز آواز دے گا کہ آگاہ ہو جاؤ کہ جو مجھ سے ملا
(یعنی میرے حقوق کی حفاظت کی) اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی رحمت سے ملیں گے اور (سرفراز کریں
گے) اور جو مجھ سے ٹوٹا (یعنی میرے حقوق کو ضائع کیا) اللہ تعالیٰ بھی اس کو اپنی رحمت سے دور کریں
گے۔ اس کی روایت شرح السنہ میں کی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ صاحب قرآن سے (جو قرآن کا حافظ ہو اور اس کی تلاوت
کرتا ہو اور اس کے احکام پر عمل بھی کرتا ہو جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو کہا جائے گا کہ (قرآن)
پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا اور جس طرح تو دنیا میں ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھتا تھا
اسی طرح ترتیل کے ساتھ پڑھتا جا اس لئے کہ تیرا انتہائی درجہ جنت میں (قرآن کی) آخری آیت
پر ہوگا جس کو تو پڑھے گا۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ جنت کے درجات قرآن کے آیات کے مطابق ہیں اور صاحب مرقات نے
علامہ دوانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ قرآن کی متفق علیہ آیتیں چھ ہزار ہیں تو اس طرح جنت کے
درجات بھی چھ ہزار ہوں گے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں کچھ بھی قرآن نہ ہو (یعنی اس کو کچھ بھی
قرآن یاد نہ ہو) تو اس کی مثال ویران گھر کی طرح ہے (اس لئے کہ دلوں کی آبادی اور باطن کی
زینت ایمان باللہ اور تلاوت قرآن ہے)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے ”جس کے دل میں کچھ بھی
قرآن نہ“، ہو تو اس سے مراد قرآن کا صرف وہ حصہ نہیں جو نمازوں میں پڑھا جاتا ہو بلکہ اس کے سوا
مسلمان کو کچھ نہ کچھ قرآن یاد کرنا چاہئے اگر یاد نہ کر سکتا ہو تو کم از کم ناظرہ ہی پڑھتا رہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ بزرگ اور برتر ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص کو قرآن
(کی تلاوت اور اس کے معانی میں تدبر اور اس کے احکام پر عمل کی مشغولیت) نے میرے ذکر اور
مجھ سے دعا مانگنے سے باز رکھا تو میں ایسے شخص کو مانگنے والوں سے بہتر دوں گا۔ (یعنی جو شخص
دوسرے اذکار و اوراد کو چھوڑ کر صرف قرآن مجید کو اپنا وظیفہ بنائے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو مرادیں
اصحابہ! اوراد و اذکار سے بڑھ کر بر لائیں گے کیونکہ یہ اللہ کے کلام کے ساتھ مشغول ہے جو سارے
اذکار و اوراد سے افضل ہے سچ ہے: ”كلام الملوك ملوك الكلام“ اور اللہ کے کلام کی
فضیلت دوسرے کلاموں پر ایسی ہے جیسے اللہ عزوجل کی بزرگی اس کی تمام مخلوق پر۔
اس کی روایت ”ترمذی“ اور ”دارمی“ نے کی ہے اور ”بیہقی“ نے ”شعب الایمان“ میں اس
کی روایت کی ہے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص اللہ کی کتاب یعنی قرآن کا ایک حرف بھی پڑھا تو اس
کے لئے ہر حرف کے بدلہ ایک نیکی لکھی جائے گی اور ہر نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ملتا ہے (زیادہ کی کوئی
حد نہیں) میں نہیں کہتا کہ الٓمٓ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے میم ایک
حرف ہے (اس طرح الٓمٓ پڑھنے سے کم از کم تیس نیکیاں ملتی ہیں)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
حضرت حارث اعور رحمہ اللہ سے جو مشہور تابعی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں
ایک دفعہ کوفہ کی ایک مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ (تلاوت قرآن کی بجائے) بے فائدہ
باتوں (غیر ضروری مباحثوں) میں مشغول ہیں۔ یہ دیکھ کر میں امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی
خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپ کو اس کی اطلاع دی۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: کیا لوگ (قرآن
کی تلاوت کو چھوڑ کر مسجد میں) ایسی خرافات میں مشغول ہوگئے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں (یا
امیر المومنین) پھر حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے
سنا ہے کہ خبردار ہو جاؤ! کہ عنقریب ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ یہ سن کر میں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ﷺ! اس فتنہ سے محفوظ رہنے کی کیا صورت ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن کے احکام پر عمل کرنا (ہی اس فتنے سے محفوظ رہنا ہے) اس میں تم سے
پہلے (کی امتوں) کے تذکرے ہیں اور تمہارے بعد (قیامت تک پیش آنے والے واقعات) کا
بیان ہے اور تمہارے مسائل (حلال و حرام وغیرہ) کا ذکر ہے اور وہ یعنی قرآن ہی (حق و باطل کے
درمیان) فیصلہ کرنے والا ہے اور اس میں کوئی بات ناشائستہ نہیں۔ جس سرکش نے اسے چھوڑا اللہ
تعالیٰ اس کو ہلاک کردے گا۔ اور جس نے ہدایت کو قرآن کے سوا (ان کتابوں اور علوم میں) تلاش
کیا (جو کتاب اللہ سے ماخوذ نہیں) تو اللہ تعالیٰ اس کو (ہدایت کے راستے سے) گمراہ کر دیتے ہیں اور
قرآن ہی اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور قرآن ہی حکمت سے بھری ہوئی نصیحت ہے اور قرآن ہی
سیدھا راستہ ہے اور قرآن ہی ایسی کتاب ہے جس کی اتباع کرنے والے کو خواہشات نفس گمراہ نہیں
کرسکتیں اور قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی دوسرا کلام خلط ملط نہیں ہوسکتا۔ (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ
نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے) اور علماء اس سے سیر نہیں ہوتے اور بار بار دوہرانے کے باوجود
یہ پرانا نہیں ہوتا (یعنی اس کی تلاوت کی لذت اور شیرینی کم نہیں ہوتی (بلکہ ہر وقت اس کی لذت
بڑھتی ہی جاتی ہے) اور اس کے عجائب و غرائب ختم نہیں ہوتے۔ ہاں یہ وہی کلام ہے جس کو سنتے ہی
(ایک لمحہ بھی توقف کئے بغیر اجنہ نے یہ کہا: ”إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا . يَهْدِيْ اِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا
بِهٖ“ (سورۃ جن، آیت نمبر: 2:1) ہم نے قرآن کو سنا جو عجیب و غریب کلام ہے اور جو ہدایت
کا راستہ دکھاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے جس نے قرآن کے مطابق؟ سچ کہا اور جس نے اس پر
عمل کیا اجر پایا اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا انصاف کیا جس نے (لوگوں کو) قرآن کی
طرف بلایا اس کو سیدھی راہ کی ہدایت ملی۔ اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”جس نے قرآن کے سوا کسی اور چیز میں ہدایت تلاش
کی تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کر دیں گے‘‘۔
اس ارشاد سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے صرف
قرآن ہی کافی ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ شیخ ابو اسحاق کازرونی رحمۃ اللہ علیہ
سے پوچھا گیا کہ گمراہ فرقے جیسے خوارج، قدریہ، جبریہ وغیرہ سنت کی طرح قدریہ قرآن ہی سے
استدلال کرتے ہیں؟ اس پر علامہ کازرونی نے قرآن کی آیت پڑھی: ’’يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي
بِهِ كَثِيرًا‘‘۔ (سورۃ بقرہ، آیت نمبر:26)
(اللہ تعالیٰ قرآن ہی سے اکثر کو گمراہ کرتے ہیں اور قرآن ہی سے اکثر کو ہدایت دیتے ہیں)
اور علامہ ممدوح نے یہ بھی فرمایا کہ گمراہ فرقے کامل طور پر قرآن سے استدلال نہیں کرتے کیونکہ انھوں
نے ان حدیثوں کو چھوڑ دیا جو حقیقت میں مقاصد قرآنی کی تفسیر ہیں حالانکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے
کہ ’’وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا‘‘
(سورۃ حشر، آیت نمبر:7)
(رسول جو کچھ تم کو دیں تم اس کو لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو باز رکھیں تم اس سے باز رہو)۔ تو
ان فرقوں نے قرآن کی معرفت کا حق ادا نہیں کیا؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی جو
قرآن کی معرفت میں کامل ہیں جس کے نتیجہ میں انھوں نے احادیث کا انکار کیا۔ چنانچہ امام الصوفیہ
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے جو قرآن حفظ نہ کرے اور حدیث نبوی نہ لکھے تو وہ اتباع
کے لائق نہیں ہے اور جو ہمارے طریقہ یعنی تصوف میں بغیر علم کے داخل ہوا اور اپنی جہالت پر اڑا رہا تو
وہ شیطان کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائے گا کیونکہ ہمارا طریقہ کتاب اور سنت کے ساتھ مقید ہے۔
مرقات کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔
قرآن کے ساتھ احادیث نبوی مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے حجت اور ماخذ قرار
دینے کے لئے محدثین کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں متعدد حدیثیں روایت کی ہیں جن میں سے یہاں
بطور مثال کے ابوداؤد کی ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس کو حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ
نے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے
کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے یہ خیال کرتا ہے کہ
اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام کی ہے وہ تو صرف قرآن ہی میں موجود ہے (اب حدیث کی کیا ضرورت
ہے) سن رکھو خدا کی قسم میں نے جن جن چیزوں (کے کرنے کا) کا حکم دیا ہے اور نصیحت کی ہے اور جن
چیزوں سے منع کیا ہے (یعنی میری احادیث) وہ بھی (اپنی نوعیت میں) قرآن کی طرح ہیں بلکہ
(بعض صورتوں میں جہاں قرآن مجمل ہو یا ساکت ہو قرآن سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اعلی
آخر الحدیث۔ اس سے ثابت ہوا کہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرنے والا منکر اور کافر
ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو انکار حدیث کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ
وسلم نے جو ارشاد فرمایا ہے کہ ہے جو شخص قرآن پڑھے اور اس کے احکام پر عمل کرے تو قیامت کے
روز اس کے ماں باپ کو تاج پہنایا جائے گا۔ جس کی روشنی آفتاب کی روشنی سے بہتر ہوگی۔ جب کہ
یہ فرض کر لیا جائے کہ آفتاب تمہارے گھروں میں روشن ہو۔ پھر بھی تم سمجھ لو کہ (جب ماں باپ کا یہ
مرتبہ ہوگا) تو اس شخص کا کیا مرتبہ ہوگا جس نے قرآن پر عمل کیا۔
اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ“ جو قرآن پڑھے۔ اس بارے میں
صاحب مرقات نے ابن حجر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہاں قَرَأَ الْقُرْآنَ سے مراد حفظ قرآن ہے اس
سے حافظ قرآن کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر قرآن کو چمڑے کے اندر بند کیا جائے اور آگ
میں ڈالا جائے تو نہیں جلے گا۔ چمڑے سے مراد جسم انسانی ہے اور آگ سے مراد دوزخ کی آگ
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے مطلب یہ ہے کہ جس جسم میں قرآن رہے گا اس کو دوزخ کی آگ نہیں جلائے گی۔ (جیسا کہ
مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے)۔ اس حدیث کی روایت دارمی نے کی ہے۔
امیر المومنین حضرت علیؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے قرآن پڑھا اور اس کو حفظ کرلیا اور اس کے حلال کو حلال
سمجھا اور اس کے حرام کو حرام سمجھا اور اس کے مطابق عمل کرتا رہا تو اللہ تعالیٰ اس کو (اول وہلہ میں)
جنت میں داخل کریں گے اور اس کے گھر کے ایسے دس آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول
فرمائیں گے جن پر فسق وفجور کی وجہ سے دوزخ واجب ہوگی۔
اس کی روایت امام احمد اور ترمذی ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (اے علمائے امت) قرآن کے معانی (اس کے مطالب اس کے
الفاظ کی ندرت اور اس کے اعراب کی توجیہات) کو بیان کیا کرو اور اس کے غرائب کی اتباع کرو اور
قرآن کے غرائب (اس کے فرائض اور حدود ہیں) فرائض سے مراد قرآن کے اوامر ہیں جن کے
کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور حدود سے مراد نواہی ہیں جن کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس حدیث کی
روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن کا نماز میں پڑھنا غیر نماز میں قرآن پڑھنے یعنی
سادہ تلاوت کرنے سے افضل ہے یعنی زیادہ ثواب رکھتا ہے اور غیر نماز میں قرآن پڑھنا تسبیح
(سبحان اللہ کہنا) اور تکبیر (اللہ اکبر کہنا) سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنا صدقہ سے بہتر ہے
اس لئے کہ عبادت متعدی جس کا فائدہ غیر کو پہنچے اس عبادت سے افضل ہے جس کا فائدہ صرف
کرنے والے کو پہنچے)۔ اور خیرات کرنا نفل روزہ رکھنے سے بہتر ہے۔ اور روزہ دوزخ کی آگ
کے لئے سپر ڈھال ہے۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی اپنے دادا حضرت اوس سے روایت کرتے ہیں
کہ ان کے دادا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ آدمی کا قرآن کو دیکھے
بغیر (اپنی یاد سے حفظ سے) پڑھنا ہزار درجہ ثواب رکھتا ہے اور قرآن کو دیکھ کر پڑھنے کا ثواب (زبانی
پڑھنے کے ثواب سے) بڑھا کر دو ہزار درجہ تک دیا جاتا ہے۔
اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ قرآن کو دیکھ کر پڑھنے کا ثواب یاد سے قرآن پڑھنے
سے زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کو دیکھنا بھی عبادت ہے اور قرآن کو دیکھ کر پڑھنے میں قرآن کو
اٹھاتے ہیں اور اس کو مس کرتے ہیں اور اس کے معانی میں تفکر کرتے ہیں ان وجوہ سے قرآن کو دیکھ کر
پڑھنے کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کو دیکھ کر پڑھتے تھے اور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کے بکثرت دیکھ کر قرآن پڑھنے سے دو
قرآن مجید کے اوراق شکستہ ہو گئے ہیں۔ (مرقات اور اشعۃ اللمعات)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ دل یقیناً زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح لوہا پانی کے اثر سے زنگ
آلود ہو جاتا ہے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ان کو (یعنی دلوں کو) روشن کرنے والی چیز کیا ہے تو ارشاد
فرمایا: موت کو بکثرت یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت، (اس سے دل روشن ہوتے ہیں)۔
اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ابو سعید بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ
میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مجھے آواز دے کر) بلایا میں
نے جواب نہیں دیا اس لئے کہ میں نماز میں مشغول تھا، جب نماز سے فارغ ہوا تو پھر حضور کی خدمت
میں حاضر ہوا اور (بطور عذر کے) عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں نماز پڑھ رہا تھا اس لئے جواب نہ
دے سکا یہ سن کر حضور نے ارشاد فرمایا کہ: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا ہے ”اِسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ
وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ“ (سورۂ انفال، آیت نمبر:23) تم اللہ اور اس کے رسول کے کہنے کو
بجا لایا کرو (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصیات میں شامل ہے
کہ آپ کے بلاوے پر حالت نماز میں بھی نمازی آپ کے حکم کی تعمیل کرے۔ (طحاوی) جب کہ
رسول تمہیں بلائیں۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تم کو قرآن کی سب سے بڑھ کر عظمت والی
سورت نہ سکھلاؤں (قبل اس کے کہ تم مسجد سے باہر جاؤ) یہ کہہ کر حضور نے میرا ہاتھ پکڑ لیا (کچھ دیر
بعد) جب ہم مسجد سے نکلنے کا ارادہ کئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ آپ نے فرمایا تھا کہ تم کو
قرآن کی سب سے بڑھ کر عظمت والی سورت سکھلاؤں گا تو آپ نے فرمایا (ہاں) وہ سورۃ الحمد
لله رب العالمين (یعنی سورۂ فاتحہ ہے) اس میں سات آیتیں ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی
ہیں اور یہی قرآن عظیم ہے۔ جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4474 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
Respond to Allah and the Messenger...
(1) The statement: "Respond to Allah and the Messenger..." Al-Hafiz said in Al-Fath: "The scholars ‘Abdul Wahhab and Abu al-Walid from the Malikis held that responding to the Prophet (ﷺ) during prayer is obligatory, and neglecting it is sinful—a ruling specific to the Prophet (ﷺ). The Shafi’is also hold this view, though they differ on whether the prayer becomes invalid or not."
I say: As for the Hanafis, al-Tahtawi said in Hashiyat Maraqi al-Falah: "It is obligatory for the one praying to respond to the Prophet (ﷺ), and there is no disagreement that the prayer becomes invalid if he does not, as mentioned by Badr in his Tafsir of Surah Al-Anfal."
Note 2
Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin
(2) The statement: "Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin" indicates that the Basmalah is not part of Surah Al-Fatihah, otherwise he would have said, "Bismillahir-Rahmanir-Rahim, Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin."
Note 1
قوله
(۱) قوله: استجيبوا إلخ: قال الحافظ في «الفتح»: والذي تأوّل القاضيان عبد الوهاب وأبو الوليد أن إجابة النبي ﷺ في الصلاة فرض، يعصي المرء بتركه، وإنه حكم يختص بالنبي ﷺ ، وما جنح إليه القاضيان من المالكية هو قول الشافعية على اختلاف عندهم بعد قولهم بوجوب الإجابة، هل تبطل الصلاة أم لا؟ انتهى.
قلت: وأما عند الحنفية فقال الطحطاوي في حاشية مراقي الفلاح: يفترض على المصلي إجابة النبي ﷺ لا خلاف في بطلانها حينئذ، كذا ذكره البدر في تفسير سورة الأنفال. قاله في بذل المجهود».
Note 2
قوله
(۲) قوله : قال الحمد لله رب العالمين بدل على أن التسمية ليست بجزء من سورة الفاتحة، وإلا قال: بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين.
Note 1
(ف 1): اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ فاتحہ کی ابتداء ”الحمد
لله رب العالمين “ سے فرمائی ہے اور ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سے سورہ فاتحہ کی ابتدا نہیں
کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے بلکہ ایک
مستقل آیت ہے۔
(ف 2): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ فاتحہ کو
اعظم سورة من القرآن: قرآن شریف کی سب سے عظمت والی سورت ارشاد فرمایا ہے) اس بارے
میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ قرآن شریف کی اس سورت میں جو جامعیت ہے وہ کسی اور سورت
میں نہیں ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء سے اس کی ابتداء کی گئی ہے پھر الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں صالحین کے
لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ کے وعدہ کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد ”مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ“ میں
نافرمان بندوں کے لئے آخرت میں سزا اور ان کے لئے وعید کا ذکر ہے پھر عبادت و استعانت کا اللہ
تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص ہونے کا بیان ہے اس کے بعد بندوں کے لئے سوال کرنے کا طریقہ بتایا
گیا ہے۔ ان کا بہترین سوال ہدایت کی طلب ہے۔ اور ان لوگوں کے راستہ کی طلب ہے جن پر انعام
ہو۔ جیسے انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین اور آخر میں گمراہوں اور مغضوبین کے راستہ اور پیروی سے
نجات کی طلب کا بھی بیان ہے اس طرح سے سورہ فاتحہ میں سارے سالکین کے سارے معاملات اور
منازل کا ذکر ہے۔ اور حدیث شریف میں اس سورت کو قرآن ”عظیم“ جو فرمایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے
کہ جو مطالب پورے قرآن میں مفصل مذکور ہیں ان کا بیان سورہ فاتحہ میں مجمل موجود ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ
وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تم نماز میں (قرآن) کس طرح پڑھتے ہو؟ تو
انہوں نے ام القرآن یعنی سورہ فاتحہ پڑھ کر سنایا تو یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ قسم ہے ذات باری تعالیٰ کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اس سورت کے مثل نہ تو کوئی
سورت نازل ہوئی اور نہ تو انجیل میں نہ تو زبور میں اور نہ قرآن (کے بقیہ حصہ) میں اور یہ یعنی سورۃ
فاتحہ سات آیتیں ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں تو اور یہی یعنی سورۃ فاتحہ قرآن عظیم ہے۔ جو
مجھے عطا کیا گیا۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور دارمی نے بھی اس کی اسی طرح روایت کی ہے۔
عبدالملک بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جو مشہور تابعی اور کوفہ کے
قاضی تھے مرسلاً روایت ہے) کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاتحہ الکتاب
یعنی سورۃ فاتحہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ سورۃ فاتحہ (کے پڑھنے کے بارے میں لکھ کر لگانے
اور لکھ کر پینے) میں ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔
اس کی روایت دارمی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
29/3064۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا اُسید بن حُضیر
رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان سے کیا کہ ایک دفعہ وہ رات میں سورہ بقرہ تلاوت کر رہے تھے کہ
اچانک ان کا گھوڑا جو ان سے قریب ہی بندھا ہوا تھا اچھلنے اور کودنے لگا تو حضرت اُسید نے قرآن
پڑھنا روک دیا تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا جب انہوں نے پھر تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر اچھلنے
بدکنے لگا یہ دیکھ کر انہوں نے تلاوت روک دی تو ادھر گھوڑا بھی خاموش کھڑا ہو گیا۔ حضرت اسید
تیسری بار پھر قرآن پڑھنے لگے تو گھوڑا پھر بدکنا شروع کیا۔ یہ دیکھ کر حضرت اُسید اس خوف سے
خاموش ہو گئے۔ ان کا بچہ بھی گھوڑے سے قریب ہی سو رہا تھا کہیں گھوڑا اس کو زخمی نہ کر دے جب
حضرت اُسید نے اپنے بچہ کو سلا دیا تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ابر کی مانند کوئی
چیز سایہ فگن ہے جس میں چراغوں کی طرح کچھ چیزیں روشن ہیں جب صبح ہوئی تو حضرت اسید نے
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر (یہ واقعہ) عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابن حضیر کاش تم پڑھتے ہی رہتے۔ اے ابن حضیر کاش تم قرآن پڑھتے ہی
رہتے یہ سن کر حضرت اسید نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں ڈر گیا تھا کہ تلاوت کو جاری رکھنے کی
صورت میں کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ روند ڈالے جو اس سے قریب ہی سو رہا تھا پس میں قرآن
کی تلاوت کو روک کر بچے کے پاس گیا اور آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی چیز ابر کی
طرح سایہ فگن ہے جس میں چراغوں کے مانند کچھ چیزیں روشن ہیں۔ پھر میں باہر نکلا تو دیکھا کہ کچھ
بھی نہ تھا حضور نے ان سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ وہ کیا تھا۔ میں نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم! تو حضور نے فرمایا سنو وہ فرشتے تھے (جو لطیف اور نورانی اجسام کی شکل میں) تمہاری
قرأت سننے کے لئے آئے تھے اگر تم اپنی قرأت جاری رکھتے تو صبح لوگ فرشتوں کو اس طرح دیکھ
لیتے تو وہ یعنی فرشتے ان سے پوشیدہ نہ رہتے یعنی لوگ فرشتوں کو برملا دیکھ لیتے)۔
اس کی روایت متفقہ طور پر بخاری اور مسلم نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے گھروں کو مقبروں کی طرح نہ بناؤ۔ یعنی گھروں میں مردوں کی
طرح بے عمل نہ رہا کرو بلکہ گھروں میں تلاوت قرآن، نفل عبادات اور اذکار وغیرہ کیا کرو کیونکہ شیطان
اس گھر سے نکل جاتا ہے۔ جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: اے ابوالمنذر (یہ حضرت ابی بن کعب کی کنیت ہے)
تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن کی کون سی آیت سب سے بڑھ کر فضیلت والی
ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ حضور نے دوبارہ پھر فرمایا: اے
ابوالمنذر، اے ابوالمنذر! قرآن کی کون سی آیت تمہارے خیال میں افضل ہے؟ اب میں نے عرض
کیا: ”اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ“ (یعنی پوری آیہ الکرسی) حضرت ابی بن کعب کہتے
ہیں کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت سے اپنا دست مبارک میرے سینہ پر مارا
اور ارشاد فرمایا: اے ابوالمنذر تم کو تمہارا یہ علم مبارک ہو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The greatest...
(1) The statement: "The greatest..." It is mentioned in Al-‘Alamgiriyyah: "Some Surahs and verses are superior, like Ayat al-Kursi, in that their recitation carries greater reward and awakens the heart. However, it is best not to prefer some parts of the Qur’an over others at all—this is the preferred view."
Note 1
قوله
(۱) قوله : أعظم وقال في العالمگيرية: يفضل بعض السور والآيات كآية الكرسي ونحوها، ومعنى الأفضلية أن ثواب قراءته كثير وقليل بأنه للقلب أيقظ، وهذا أقرب إلى الصواب، وبهذا المعنى يقال: إن القرآن أفضل من سائر الكتب المنزلة، والأفضل أن لا يفضل بعض القرآن على بعض أصلا، وهو المختار . كذا في جواهر الأخلاطي».
Note 1
ف: فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ قرآن کی بعض سورتوں کو دوسری سورتوں پر اور بعض آیتوں
کو دوسری آیتوں پر فضیلت ہے۔ جیسے آیہ الکرسی وغیرہ۔ اور افضل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان کے
پڑھنے کا ثواب زیادہ ملتا ہے اور افضل ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ایسی سورتیں اور آیتیں اپنے معنی
اور مضامین کے اعتبار سے دل کو زائد متنبہ کرنے والی ہیں۔ اور فضیلت کا یہی مفہوم زیادہ قرین صواب
ہے۔ یہ جواہر الاخلاطی میں مذکور ہے۔ اس بارے میں دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یوں تو پورا قرآن کلام
اللہ کی حیثیت سے مساوی مرتبہ کا حامل ہے۔ اس لیے اس کے کسی جزو کو کسی جزو پر فضیلت ہرگز نہ دی
جائے اور یہی مسلک مختار اور مفتی بہ ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان کی زکات یعنی صدقہ فطر کے غلہ کی حفاظت اور نگرانی پر مامور فرمایا۔
پس میرے پاس ایک شخص آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے غلہ سمیٹنے لگا میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس
سے کہا: میں ضرور تجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤں گا، اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں
محتاج ہوں اور صاحب اولاد ہوں جن کا نفقہ میرے ذمہ ہے اور میں سخت ضرورتمند ہوں۔ حضرت
ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے اس کو چھوڑ دیا اور جب صبح ہوئی تو (حضور کی خدمت میں
حاضر ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کچھ کہے بغیر خود ہی مجھ سے دریافت
فرمایا: اے ابو ہریرہ! تمہارا رات والا قیدی کیا ہوا؟ میں نے کہا یا رسول اللہ اس نے اپنی سخت ضرورت
اور عیال داری کی شکایت کی تو مجھ کو اس پر ترس آ گیا۔ اور میں نے اسے چھوڑ دیا (یہ سن کر) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یاد رکھو اس نے تم سے جھوٹ کہا ہے اور کل پھر آئے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے پر کہ وہ کل پھر آئے گا کہ چنانچہ میں اس کی تاک میں رہا۔
وہ پھر آیا اور دونوں ہاتھوں سے غلہ سمیٹنے لگا۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا: میں تجھ کو ضرور آج رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر کروں گا اس نے پھر کہا مجھے چھوڑ دو۔ میں بہت محتاج ہوں اور
بچوں کا سارا بوجھ میری گردن پر ہے میں اب پھر نہیں آؤں گا۔ مجھے اس پر پھر رحم آ گیا اور میں نے
اس کو چھوڑ دیا اور جب صبح ہوئی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ہریرہ تمہارا رات والا قیدی کیا ہوا؟ میں نے
عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے اپنی سخت ضرورت کی شکایت کی اور بچوں کی
ضرورت کا بھی اظہار کیا تو مجھے اس پر رحم آ گیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا تو حضور نے فرمایا اس نے تم
سے جھوٹ کہا وہ پھر آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے سے کہ وہ پھر آئے گا میں
نے یقین کر لیا کہ وہ ضرور دوبارہ آئے گا چنانچہ میں اس کو پکڑنے کے لئے تاک میں رہا وہ پھر آیا اور
غلہ سمیٹنے لگا میں اس کو پکڑ لیا اور کہا میں تجھ کو ضرور آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر
کروں گا۔ اور یہ تین دفعہ میں آخری مرتبہ ہے کہ تو نے وعدہ کیا تھا کہ نہیں آؤں گا اور پھر آ گیا ہے۔
اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں تم کو چند کلمے ایسے سکھا دیتا ہوں جن کے ذریعہ سے اللہ تمہیں فائدہ دے
گا۔ جب تم سونے کے لئے بستر پر جاؤ تو آیۃ الکرسی ”اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ“ تا ختم
آیت یعنی ”وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ“ تک پڑھ لیا کرو تو خدا کی طرف سے تمہارا ایک نگہبان یعنی ایک
فرشتہ مقرر کیا جائے گا اور (اس کی برکت سے) صبح تک کوئی شیطان اور جن تمہاری ایذا رسانی کے
لئے تمہارے قریب نہیں آئے گا تو میں نے اسے پھر چھوڑ دیا جب صبح ہوئی اور میں حضور کی خدمت
میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارا قیدی کیا ہوا؟ میں
نے عرض کیا: یا رسول اللہ مجھے چند کلمات ایسے سکھا دئے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ دیں
گے (چنانچہ اس نے مجھے سوتے وقت یہ آیۃ الکرسی پڑھنے کی فضیلت بتائی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے جو کچھ بتایا ہے سچ بتایا ہے آیۃ الکرسی کی وہی خاصیت ہے (اگرچہ کہ اور
باتوں میں) وہ جھوٹا ہے۔ (ابو ہریرہ) کیا تم کو خبر ہے کہ تین راتوں سے تم کس سے مخاطب تھے؟ میں
نے عرض کیا: یا رسول اللہ نہیں میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھا۔ حضور نے فرمایا کہ: وہ شیطان تھا۔ (جو
صدقات میں نقص پیدا کرنے اور خیر کے کاموں میں خلل ڈالنے کے لئے آیا کرتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ)
حضرت جبرئیل علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ
یکایک حضرت جبرئیل نے اوپر کی جانب سے ایک سخت آواز سنی تو انہوں نے آسمان کی طرف اپنے
سر کو اٹھایا اور کہا: یہ آواز آسمان کے ایک دروازہ کے کھلنے کی تھی۔ اور آسمان کا یہ دروازہ آج سے پہلے
کبھی نہیں کھولا گیا تھا اور اس دروازہ سے ایک فرشتہ اترا تو حضرت جبرئیل علیہ نے فرمایا: یہ فرشتہ جو
زمین پر اترا ہے آج سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا ہے۔ اس فرشتے نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خدمت میں آ کر سلام عرض کیا اور کہا: آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دو نور
ایسے عطا کئے گئے ہیں جو آج سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کئے گئے۔ ایک تو فاتحہ الکتاب یعنی سورۂ
فاتحہ ہے اور دوسرے سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں ہیں۔ (جو آمن الرسول سے شروع ہو کر ختم
سورت ہوتی ہیں) ان میں سے جو حرف آپ پڑھیں گے اس کا ثواب آپ کو دیا جائے گا (اور ان
میں جو دعا ہے وہ قبول ہوگی)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 806 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کو نورین دو نور فرمایا گیا
ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ یہ دونوں آیتیں پڑھنے والے لئے قیامت کے دن
روشنی کی صورت میں آگے آگے چلیں گے اور جنت کے راستہ کی رہبری کرینگے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "The best among you..." If it is asked: Which is better—learning the Qur’an or learning Fiqh (jurisprudence)? The answer is: The one occupied with Fiqh is better. This depends on a person’s need, because Fiqh is superior to mere recitation. However, in the time of the Prophet (ﷺ), the reciter was the most knowledgeable in Fiqh, which is why the reciter led the prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari’.
Note 1
(۱) قوله : خيركم إلخ فإن قلت: أيهما أفضل ؟ تعلم القرآن أو تعلم الفقه ؟ قلت: المتشاغل بالفقه أفضل. ذلك راجع إلى حاجة الإنسان؛ لأن الفقه أفضل من القراءة، وإنما كان القارئ في زمن النبي الله هو الأفقه، فلذلك قام القارئ في الصلاة. قاله في عمدة القاري».