Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues of the Qur’an

Hadith 2671

Chapter

In this book

Current reading

the Virtues of the Qur’an

Chapter

Zujajat al-Masabih 2671Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3156
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور حضرت حذیفہ اس وقت جہاد میں شریک تھے اور حضرت عثمان بحیثیت خلیفہ اہل شام اور اہل عراق کو ارمینیہ اور آذربائیجان کی فتح کے لئے تیار کرنے میں مصروف تھے حضرت حذیفہ کو لوگوں کی قرأت قرآن میں اختلاف نے (جو ایک دوسرے قرأت کے انکار سے پیدا ہو گیا تھا) بہت پریشان کر دیا تھا۔ (اس صورت حال سے بے چین ) ہوکر حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے عرض کیا: امیر المومنین! آپ امت کے اس انتشار کو جو اختلاف قرأت کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔ اس سے قبل ہی دفع کر دیجئے کہیں یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کا شکار نہ ہو جائیں۔ یہ سن کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس کہلا بھیجا کہ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مرتب کردہ) صحیفے (جو آپ کے پاس محفوظ ہیں)۔ بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کی نقل کر کے پھر اس کی اصل کو آپ کے پاس واپس کر دیں۔ حضرت حفصہ نے یہ صحیفے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیج دئے پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن الزبیر، سعید بن العاص، اور عبداللہ بن الحارث بن ہشام (جن میں آخری تین حضرات قریشی تھے) کو اس کام پر مامور فرمایا۔ اور ان حضرات نے (اس نسخے کے مطابق) چند نسخے تیار کر لئے اور حضرت عثمان نے ان تینوں قریشی حضرات سے فرمایا کہ قرآن کی کتابت کے وقت تمہارا اور زید بن ثابت کا قرآن کی کسی آیت کی قراءت میں اختلاف ہو تو تم اس کو صرف قریش کی لغت یعنی قراءت کے مطابق لکھو اس لئے کہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے (اگرچہ سات قرآئتوں سے قرآن پڑھا جا سکتا ہے) چنانچہ ان حضرات نے ایسا ہی کیا (یعنی پورے قرآن کو قریش کی زبان کے مطابق نقل کیا) جب ان حضرات نے اس طرح پورے صحیفے تیار کر لئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اصل نسخہ حضرت حفصہ کے پاس واپس فرمایا۔ پھر حضرت عثمان نے ان صحیفوں کو (بلاد اسلامیہ میں) ہر طرف روانہ فرمایا۔ (اس طرح کہ ایک نسخہ کوفہ، ایک بصرہ ایک ملک شام کو روانہ فرمایا اور ایک نسخہ مدینہ منورہ میں محفوظ رکھوا دیا۔ پھر اس کے بعد بحرین، مکہ معظمہ اور یمن کو بھی اس کی نقلیں روانہ کر دی گئیں) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس اختلاف اور انتشار کو دور کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ ان صحیفوں کے سوا جس کسی کے پاس کوئی اختلافی جزء ہو تو اس کو نذر آتش کیا جائے۔ ابن شہاب (جو اس حدیث کی سند کے ایک راوی ہیں)۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ خارجہ بن زید بن ثابت نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے زید بن ثابت کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جب ہم ان صحیفوں کی نقل کرنے کے لئے جمع ہوئے تو مجھے سورۂ احزاب کی یہ آیت ”مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ“ ،، الخ جس کو میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا لکھی ہوئی نہیں ملی اور ہم کو یہ آیت حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس مل گئی تو ہم نے اس آیت کو جو آیت یہ ہے: ’’مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ‘‘ اس کو سورۂ احزاب میں ان صحیفوں میں شامل کر دیا اس کی روایت امام بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4987 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

He sent a copy to every region...

(1) The statement: "He sent a copy to every region..."—The difference between Abu Bakr’s compilation and Uthman’s is that Abu Bakr’s was motivated by the fear that parts of the Qur’an might be lost with the death of its memorizers, as it had not yet been compiled in one place. He gathered it into sheets, arranging its verses and surahs as the Prophet (ﷺ) had taught them. The purpose of Abu Bakr’s compilation was to preserve the Qur’an in all its recitations and dialects, including those of Quraysh and others. Uthman’s compilation, however, was prompted by widespread differences in recitation as people read in their own dialects. This led some to accuse others of error, so Uthman feared escalation. He thus transcribed the sheets into a single codex, arranging its surahs and limiting it to the dialect of Quraysh, arguing that the Qur’an was revealed in their tongue. Although other dialects had initially been permitted to ease difficulty, Uthman saw that the need for this had passed and restricted it to one dialect. Thus, Abu Bakr’s compilation differed from Uthman’s. Summarized from Al-Mirqah.

From him...

(1) The statement: "From him..."—Mentioned in Majma‘ al-Zawa’id.

Note 2

Be burned

(2) The statement: "Be burned"—Our Hanafi scholars state that if a Qur’anic codex becomes worn and unusable, it should be buried in a clean place away from foot traffic. As mentioned in ‘Umdat al-Qari, this is supported by Ibn Abi Dawud’s narration that a member of Abu Talhah’s family said Uthman buried the codices between the grave and the pulpit. As for burning, Abd al-Razzaq reported that Ibrahim disliked it. Al-Qari said analogizing Uthman’s action is impermissible because he only burned what was confirmed not to be part of the Qur’an or what was irretrievably mixed with it. He chose burning to eliminate doubt—had it been Qur’an, no Muslim would have permitted its burning. This is further evidenced by the lack of instruction to preserve its ashes from impurity, contrary to the Shafi‘i view of transformation. The discussion here concerns what is definitively established. Given the distinction and apparent disrespect, burial is obligatory. In Nafi‘ al-Mufti wa al-Sa’il, it is stated that discarded papers containing Allah’s name should be erased and then thrown into abundant water or buried in clean earth. As in Nasab al-Ihtisab, people neglect this, tearing and scattering such papers in pathways and filth without concern. In Al-Dhakhirah: A worn codex that can no longer be read should not be burned—this is Muhammad’s view, and we follow it. Burial is not disliked; it should be wrapped in a clean cloth and placed in a niche to avoid trampling. Alternatively, it may be washed with water or stored in a clean place safe from contamination. This honors the speech of Allah. As in Radd al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: وأرسل إلى كل أفق بمصحف إلخ الفرق بين جمع أبي بكر وجمع عثمان أن جمع أبي بكر كان الخشية أن يذهب من القرآن شيء لذهاب حملته؛ لأنه لم يكن مجموعا في موضع واحد، فجمعه في صحائفه مرتبا لآيات سوره على ما وقفهم عليه النبي ، فكان غرض الصديق جمع القرآن بجميع أحرفه ووجوهه التي نزل بها، وذلك على لغة قريش وغيرها، وجمع عثمان كان لما كثر الاختلاف في وجوه القراءات حين قرؤوا بلغاتهم على اتساع اللغات، فأدى ذلك بعضهم إلى تخطئة بعض، فخشي من تفاقم الأمر في ذلك، فنسخ تلك الصحف في مصحف واحد مرتبا لسوره واقتصر من سائر اللغات على لغة قريش محتجا بأنه نزل بلغتهم، وإن كان قد وسع في قرائته بلغة غيرهم رفعا للحرج والمشقة في ابتداء الأمر، فرأى أن الحاجة إلى ذلك انتهت، فاقتصر على لغة واحدة، فكان غرض عثمان تجريد لغة قريش من تلك القراءات، فجمع أبي بكر غير جمع عثمان «مرقاة» ملتقط منه.

قوله

(۱) قوله : عنه إلخ وذكره في مجمع الزوائد».

Note 2

قوله

(۲) قوله: أن يحرق وقال أصحابنا الحنفية: إن المصحف إذا بلي بحيث لا ينتفع به يدفن في مكان طاهر بعيد عن وطئ الناس. قاله في عمدة القاري ويؤيده ما رواه ابن أبي داود عن بعض آل أبي طلحة أنه قال: دفن عثمان المصاحف بين القبر والمنبر، وأما الإحراق فذكر عبد الرزاق أن إبراهيم كرهه، وقال عا القاري والقياس على فعل عثمان لا يجوز؛ لأن صنيعه كان بما ثبت أنه ليس من القرآن أو مما اختلط به اختلاطا لا يقبل الانفكاك، وإنما اختار الإحراق؛ لأنه يزيل الشك في كونه ترك بعض القرآن؛ إذ لو كان قرآنا لم يجوز مسلم أنه يحرقه، ويدل عليه أنه لم يؤمر بحفظ رماده من الوقوع في النجاسة بناءً على عدم اعتبار الاستحالة، كما قال به الشافعية، والكلام الآن فيما هو الثابت قطعا انتهى. قلت: فمع وجود الفرق وحصول ظاهر الإهانة يتعين الدفن، وقال في نفع المفتي والسائل» أن الرسائل التي يستغنى عنها وفيها اسم الله تمحى، ثم تلقى في الماء الكثير أو تدفن في أرض طيبة. كذا في «نصاب الاحتساب»، والناس عنه غافلون، فإنهم عند ما يستغنون من الرسائل يخرقونه وينشرونه في الطريق والنجاسات، ولا يبالون في ذلك انتهى. وفي «الذخيرة»: المُصْحَف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد، وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف، وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث، ولا غبار ولا قدر تعظيما لكلام الله عَزَّ وَجَلَّ. قاله في رد المحتار».

Note 1

ف: (1) واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لغت قریش کے مطابق قرآن جمع کرنے کا حکم دیا اور اس سے پہلے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت سے جو حدیث گزری ہے اس میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کا حکم دیا تھا۔ ان دونوں حضرات کے جمع قرآن میں فرق یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قرآن کو اس اندیشہ سے جمع فرمایا تھا کہ کہیں حفاظ کے شہید ہو جانے کی وجہ سے قرآن کا کوئی حصہ ضائع نہ ہو جائے اور اس جمع اول میں حضرت صدیق نے اس بات کا اہتمام فرمایا تھا کہ لغت قریش کے ساتھ ساتھ اور دیگر لغات اور وجوہ قراءت کو بھی جمع کیا جائے لیکن جب اسلام عرب سے نکل کر عجم میں پہنچا اور لوگوں نے وجوہ قراءت کے بارے میں اختلاف کرنا شروع کیا یہاں تک کہ ایک دوسرے کی قرأت کا انکار کرنے لگے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس انتشار کو ختم کرنے کے لئے صرف لغت قریش کے مطابق قرآن کی کتابت کروائی کیونکہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اور ان نسخوں کو بلاد اسلامیہ روانہ فرما دیا تاکہ انتشار دور ہو جائے اور ان ہی صحائف عثمانی کے مطابق پورے عالم اسلامی میں قرآن کی کتابت جاری ہے۔ یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔12 ف: (2) واضح ہو کہ ہمارے فقہائے احناف رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن یا اوراق متبرکہ جن پر اللہ اور اس کے رسول کا نام لکھا ہوا ہے اگر وہ استفادہ کے قابل نہ ہوں اور پارہ پارہ و بوسیدہ ہو جائیں تو ان کو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر ایسے مقام پر دفن کر دیا جائے جو لوگوں کی آمد و رفت سے دور ہو تا کہ ان کی بے حرمتی نہ ہو اور قرآن کو جلانا مکروہ ہے۔ اور اگر وہ کسی وجہ سے جل جائے تو اس کی راکھ کو محفوظ کر دینا چاہئے۔ (عمدة القاری، ردالمحتار)12