حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں
نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما کو ایک دفعہ سورہ فرقان ایسے طریقہ یعنی قرأت کے خلاف
پڑھتے ہوئے سنا جس طریقہ یعنی قرأت پر میں پڑھا کرتا تھا۔ اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے
(اس قرأت سے) یہ سورت سورہ فرقان پڑھائی تھی۔ قریب تھا کہ میں اس معاملہ میں ان سے الجھ
پڑوں لیکن میں نے سکون سے کام لیا۔ اور ان کو مہلت دی یہاں تک کہ انہوں نے اس سورت کو ختم
کر لیا (جو نہی انہوں نے اپنی قرأت ختم کی) میں نے ان کے گلے میں ان کی چادر ڈال کر کھینچتا ہوا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ ہشام سورۂ فرقان
اس طریقہ کے خلاف پڑھتے ہیں جس طریقہ سے آپ نے مجھے اس کی قرأت سکھائی ہے یہ سن کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا: ان کو چھوڑ دو اور حضرت ہشام سے فرمایا: پڑھو تو
انہوں نے سورۂ فرقان کی اس طرح قرأت کی جس طرح میں ان سے پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ حضرت
ہشام کی قرأت سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ سورت اسی قرأت پر نازل کی گئی ہے تو
پھر حضور نے مجھ سے ارشاد فرمایا اے عمر! اب تم پڑھو تو میں نے اس سورت کو اس طریقہ سے پڑھا
جس طریقہ سے مجھے حضور نے سکھائی تھی تو حضور نے مجھ سے سن کر یہی فرمایا کہ یہ سورت اسی طرح
اتاری گئی ہے پھر ارشاد فرمایا: سنو! قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے لہذا تم کو ان سات
متواتر قرأتوں میں سے جس قرأت سے پڑھنا آسان ہو پڑھ لیا کرو۔ اس کی روایت بخاری اور
مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور اس حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4992 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 818a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
So recite, etc.
(3) His statement: "So recite, etc." That is, from the types of recitations. This was mentioned in Al-Marqat, compiled from it.
Note 1
In seven different modes, etc.
(1) His statement: "In seven different modes, etc." It is permissible with the seven narrations, and even with the ten, as stated in Asl al-Usul. However, it is preferable not to recite rare narrations among the common people to safeguard their religion, meaning rare narrations and inclinations, as some fools say what they do not know, falling into sin and misery. Imams should not burden the common people with what diminishes their religion. They should not recite among them like the recitations of Abu Jafar, Ibn Amir, Ali ibn Hamza, and Al-Kisai to protect their religion, lest they mock or laugh, even though all recitations and narrations are correct and eloquent. Our scholars chose the recitation of Abu Amr and Hafs from Asim. This is from Al-Tatarkhaniyyah, from Fatawa al-Hujjah, as mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar. He ordered its writing, but it was scattered on parchments and the like. Abu Bakr ordered its copying from one place to a collected place, like papers found in the Prophet’s house with the Qur'an dispersed, which a compiler gathered and tied with a thread so nothing would be lost. This is in Al-Itqan. Al-Marqat and Umdat al-Qari, compiled from them.
Chapter-heading commentary
قوله
(۳) قوله: فاقرؤوا إلخ : أي من أنواع القراءات. «مرقاة» ملتقط منه.
Note 1
قوله
(۱) قوله : على سبعة أحرف إلخ: ويجوز بالروايات السبع، بل يجوز بالعشر أيضًا، كما نص عليه أصل الأصول»، لكن الأولى أن لا يقرأ بالغريبة عند العوام صيانة لدينهم، أي بالروايات الغريبة والإمالات؛ لأن بعض السفهاء يقولون ما لا يعلمون، فيقعون في الإثم والشقاء، ولا ينغي للأئمة أن يحملوا العوام على ما فيه نقصان دينهم، ولا يقرأ عندهم مثل قراءة أبي جعفر وابن عامر وعلي بن حمزة والكسائي صيانة لدينهم، فلعلهم يستخفون أو يضحكون وإن كان كل القراءات والروايات صحيحة فصيحة، ومشايخنا اختاورا قراءة أبي عمرو وحفص عن عاصم انتهى من التتارخانية عن فتاوى الحجة، هكذا في الدر المختار» و«رد المحتار».فإنه كان يأمر بكتابته، ولكنه كان مفرقًا في الرقاع ونحوها، وإنما أمر الصديق بنسخها من مكان إلى مكان مجتمعا، وكان ذلك بمنزلة أوراق وجدت في بيت رسول الله ، فيها القرآن منتشرا، فجمعها جامع، وربطها بخيط حتى لا يضيع منها شيء. كذا في «الإتقان». «مرقاة» و «عمدة القاري» ملتقط منهما.
Note 1
ف: واضح ہو کہ قرآن کے سات (7) حروف پر نازل ہونے سے مراد یہ ہے کہ قرآن سات
قرأتوں پر نازل ہوا ہے اس لئے اہل اصول نے لکھا کہ قرآن شریف سات متواتر قرأتوں بلکہ دس
قرأتوں سے بھی پڑھا جا سکتا ہے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ عوام میں انتشار پیدا ہونے کے خوف سے قرآن
ان غیر معروف قرأتوں سے عوام کے سامنے نہ پڑھا جائے چنانچہ ہمارے اسلاف نے حضرت عاصم کی
قرأت کو حضرت ابوعمرو حفص کی روایت سے لیا ہے اور یہی عوام میں رائج ہے۔
(ماخوذ از: در مختار اور رد المحتار)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو
قرآن پڑھتے ہوئے سنا اور ان کی یہ قرأت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سے مختلف تھی جس کو
میں نے سنا تھا۔ اس لئے میں نے ان صاحب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں پیش
کیا اور اس اختلاف قرأت کی خبر دی۔ میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر ناگواری
کے آثار ظاہر ہیں۔ پس حضور نے فرمایا: تم دونوں کی قرأت صحیح ہے اس لئے آپس میں اختلاف نہ
کرو اس لئے کہ تم سے پہلے کی قومیں یہود و نصاریٰ آپس میں اختلاف کئے اور اللہ کی کتاب کو ضائع
کئے جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں مسجد
میں تھا ایک صاحب آئے اور نماز پڑھنے لگے اور نماز میں قرآن کو ایسی قرأت سے پڑھتے جس کو میں
نے درست نہیں سمجھا اتنے میں ایک اور صاحب آئے اور انہوں نے قرآن کو اس طریقہ کے خلاف
پڑھا جو پہلے صاحب نے پڑھی تھی۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم تینوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں ہو پہنچے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! ان صاحب نے ایسی قرأت سے
قرآن پڑھا ہے۔ جس کو میں درست نہیں سمجھا اور دوسرے صاحب نے بھی ان پہلے صاحب سے بھی
مختلف قرأت سے قرآن پڑھا ہے۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو قرآن
پڑھنے کا حکم دیا تو ان دونوں نے اپنی اپنی قرأت سے قرآن پڑھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان
دونوں کی قرأت کی تحسین فرمائی یہ دیکھ کر میرے دل میں سخت تردد پیدا ہوا کہ گویا میں اس کو جھوٹ سمجھ
رہا ہوں۔ جس کا میں زمانہ قبل اسلام میں بھی مرتکب نہیں ہوا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
میری کو ملاحظہ فرمایا اور میرے سینے پر ہاتھ مارا، میں پسینہ پسینہ ہوگیا، اور خوف الٰہی مجھ پر طاری
ہوا، اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوگیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد
فرمایا: اے اُبی! اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ حکم دے کر بھیجا
کہ آپ قرآن کو ایک قرأت سے پڑھیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل کو اللہ تعالیٰ
کے پاس یہ عرض کرنے کے لئے بھیجا کہ میری امت پر آسانی فرمائیں تو حکم ہوا کہ دو قرأتوں سے
قرآن پڑھیں تو حضور ﷺ نے پھر حضرت جبرئیل کے ذریعہ عرض کیا: امت پر اور آسانی کی جائے
تو حکم ہوا کہ تین قرأتوں سے قرآن پڑھا جائے۔ حضور نے پھر عرض کیا کہ امت پر مزید آسانی کی
جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ سات قرأتوں سے قرآن پڑھا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ
تعالی نے یہ حکم دیا اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اپنی امت پر شفقت اور سہولت کے لئے
تین مرتبہ ہم سے جو درخواست کی ہے اتنی ہی بار یعنی مقبول دعاؤں کا حق آپ کو دیا جاتا ہے۔ ان
تینوں دعاؤں کو ہم یقیناً قبول کرلیں گے۔ تا آخر حدیث۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (9)
Note 1
And the memories of men
(1) The statement: "And the memories of men"—because they had memorized its miraculous composition and recognized its structure. They had witnessed its recitation from the Prophet (ﷺ) for twenty years, so falsifying anything not part of it was impossible. The only concern was the loss of some authentic parts. As stated in Al-Mirqah.
Note 2
I did not find it with anyone else
(2) The statement: "I did not find it with anyone else"—this indicates that Zayd (may Allah be pleased with him) was not satisfied with merely finding it written down unless he also had oral testimony confirming it, even though he himself had memorized it. He did this as an extra precaution. Al-Sakhawi in Jamal al-Qurra’ said: The meaning is that both witnesses confirmed that what was written had been transcribed in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ), or that it was one of the authentic recitations. Abu Shama said their intention was to only write what had been transcribed before the Prophet (ﷺ), not merely based on oral transmission. As cited in Al-Mirqah.
Note 3
Write them, for the Messenger of Allah (ﷺ) considered his testimony equal to that of two men.
(3) The statement: Indeed, there has come to you...—The last verses of Surah Bara’ah were only found with Abu Khuzaymah ibn Thabit. He said, "Write them, for the Messenger of Allah (ﷺ) considered his testimony equal to that of two men." So they wrote it. Umar also brought the verse of stoning, but it was not written because it was only attested by him alone. The summary is that they only compiled what was confirmed by definitive evidence in wording and probable evidence in writing. As stated in Al-Mirqah.
Note 4
The compiled sheets remained with Abu Bakr...
(4) The statement: "The compiled sheets remained with Abu Bakr..."—It is disliked to recite the Qur’an in reverse order, such as reciting a higher-numbered surah in the second rak‘ah than in the first, because the order of surahs is part of the etiquette of recitation. However, it is permitted for children to facilitate learning, except when completing the Qur’an. As mentioned in Sharh al-Muniyyah: In Al-Walawaliyyah, it is stated that one who completes the Qur’an in prayer should, after finishing Al-Mu‘awwidhatayn in the first rak‘ah, bow and then recite Al-Fatihah and part of Surah Al-Baqarah in the second rak‘ah, because the Prophet (ﷺ) said, "The best of people are those who are constantly engaged (with the Qur’an)." Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar, summarized.
Note 1
قوله
(۱) قوله: وصدور الرجال: لأنهم كانووا يبدرون عن تأليف معجز ونظم معروف، وقد شاهدوا تلاوته من النبي ﷺ عشرين سنة، فكان تزوير ما ليس منه مأمونا، وإنما كان الخوف من ذهاب شيء من صحيحه. قاله في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲)قوله: لم أجدها إلخ: هذا يدل على أن زيدا له كان لا يكتفي بمجرد وجدانه مكتوبا حتى يشهد به من تلقاه سماعًا مع كون زيد كان يحفظه، فكان يفعل ذلك مبالغة في الاحتياط. قال السخاوي في جمال القراء»: المراد أنهما يشهدان على أن ذلك المكتوب كتب بين يدي رسول الله الله، أو المراد يشهدان على أن ذلك من الوجوه التي نزل بها القرآن. قال أبو شامة وكان غرضهم أن لا يكتب إلا من عين ما كتب بين يدي النبي ﷺ لا من مجرد اللفظ . كذا في المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله: لقد جائكم إلخ وإن آخر سورة براءة لم يوجد إلا مع أبي خزيمة بن ثابت، فقال: اكتبوها، فإن رسول الله جعل شهادته شهادة رجلين، فكتب وإن عمر أتى بآية الرجم فلم يكتبها؛ لأنه كان وحده انتهى. والحاصل: أنهم ما جمعوا إلا بعد ما ثبت عندهم بالدليل القطعي لفظه، وبالدليل الظني كتابته. قاله في «المرقاة».
Note 4
قوله
(٤)قوله: فكانت الصحف إلخ ويكره أن يقرأ منكوسا، بأن يقرأ في الثانية سورة أعلى مما قرأ في الأولى؛ لأن ترتيب السور في القراءة من واجبات التلاوة، وإنما جوز للصغار تسهيلا لضرورة التعليم إلا إذا ختم. قال في شرح المنية»: وفي «الولوالجية»: من يختم القرآن في الصلاة إذا فرغ من المعوذتين في الركعة الأولى يركع، ثم يقرأ في الثانية بالفاتحة وشيء من سورة البقرة؛ لأن النبي الله قال: خير الناس الحال المرتحل أي الخاتم المفتتح «الدر المختار» و«رد المحتار» ملتقط منهما.
Note 1
مذکورہ دونوں روایتوں میں سے پہلی روایت میں حضرت جبرئیل کے تین مرتبہ حکم لے کر
تشریف لانے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مقبول دعاؤں کا حق دیا گیا۔ اور دوسری روایت میں نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبرئیل کے ذریعہ سے تین مرتبہ درخواست کرنے پر تین مقبول
دعاؤں کا حق دیا گیا اس دوسری روایت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شفقت ظاہر ہوتی
ہے۔12
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ
امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور حضرت حذیفہ اس وقت جہاد میں
شریک تھے اور حضرت عثمان بحیثیت خلیفہ اہل شام اور اہل عراق کو ارمینیہ اور آذربائیجان کی فتح کے
لئے تیار کرنے میں مصروف تھے حضرت حذیفہ کو لوگوں کی قرأت قرآن میں اختلاف نے (جو ایک
دوسرے قرأت کے انکار سے پیدا ہو گیا تھا) بہت پریشان کر دیا تھا۔ (اس صورت حال سے بے چین
) ہوکر حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے عرض کیا: امیر المومنین! آپ امت کے اس انتشار کو جو
اختلاف قرأت کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔ اس سے قبل ہی دفع کر دیجئے کہیں یہود و نصاریٰ کی طرح
کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کا شکار نہ ہو جائیں۔ یہ سن کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام
المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس کہلا بھیجا کہ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مرتب کردہ)
صحیفے (جو آپ کے پاس محفوظ ہیں)۔ بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کی نقل کر کے پھر اس کی اصل کو آپ کے
پاس واپس کر دیں۔ حضرت حفصہ نے یہ صحیفے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیج دئے پھر حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن الزبیر، سعید بن العاص، اور عبداللہ بن الحارث بن ہشام
(جن میں آخری تین حضرات قریشی تھے) کو اس کام پر مامور فرمایا۔ اور ان حضرات نے (اس نسخے
کے مطابق) چند نسخے تیار کر لئے اور حضرت عثمان نے ان تینوں قریشی حضرات سے فرمایا کہ قرآن
کی کتابت کے وقت تمہارا اور زید بن ثابت کا قرآن کی کسی آیت کی قراءت میں اختلاف ہو تو تم
اس کو صرف قریش کی لغت یعنی قراءت کے مطابق لکھو اس لئے کہ قرآن قریش کی زبان میں نازل
ہوا ہے (اگرچہ سات قرآئتوں سے قرآن پڑھا جا سکتا ہے) چنانچہ ان حضرات نے ایسا ہی کیا (یعنی
پورے قرآن کو قریش کی زبان کے مطابق نقل کیا) جب ان حضرات نے اس طرح پورے صحیفے تیار
کر لئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اصل نسخہ حضرت حفصہ کے پاس واپس فرمایا۔ پھر حضرت
عثمان نے ان صحیفوں کو (بلاد اسلامیہ میں) ہر طرف روانہ فرمایا۔ (اس طرح کہ ایک نسخہ کوفہ، ایک
بصرہ ایک ملک شام کو روانہ فرمایا اور ایک نسخہ مدینہ منورہ میں محفوظ رکھوا دیا۔ پھر اس کے بعد بحرین،
مکہ معظمہ اور یمن کو بھی اس کی نقلیں روانہ کر دی گئیں) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس اختلاف
اور انتشار کو دور کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ ان صحیفوں کے سوا جس کسی کے پاس کوئی اختلافی جزء ہو تو
اس کو نذر آتش کیا جائے۔
ابن شہاب (جو اس حدیث کی سند کے ایک راوی ہیں)۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ خارجہ بن زید
بن ثابت نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے زید بن ثابت کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جب ہم ان
صحیفوں کی نقل کرنے کے لئے جمع ہوئے تو مجھے سورۂ احزاب کی یہ آیت ”مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ“ ،،
الخ جس کو میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا لکھی ہوئی نہیں ملی اور ہم کو یہ آیت حضرت
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس مل گئی تو ہم نے اس آیت کو جو آیت یہ ہے: ’’مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ‘‘ اس کو سورۂ احزاب میں ان صحیفوں میں شامل کر دیا اس
کی روایت امام بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4987 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
He sent a copy to every region...
(1) The statement: "He sent a copy to every region..."—The difference between Abu Bakr’s compilation and Uthman’s is that Abu Bakr’s was motivated by the fear that parts of the Qur’an might be lost with the death of its memorizers, as it had not yet been compiled in one place. He gathered it into sheets, arranging its verses and surahs as the Prophet (ﷺ) had taught them. The purpose of Abu Bakr’s compilation was to preserve the Qur’an in all its recitations and dialects, including those of Quraysh and others. Uthman’s compilation, however, was prompted by widespread differences in recitation as people read in their own dialects. This led some to accuse others of error, so Uthman feared escalation. He thus transcribed the sheets into a single codex, arranging its surahs and limiting it to the dialect of Quraysh, arguing that the Qur’an was revealed in their tongue. Although other dialects had initially been permitted to ease difficulty, Uthman saw that the need for this had passed and restricted it to one dialect. Thus, Abu Bakr’s compilation differed from Uthman’s. Summarized from Al-Mirqah.
From him...
(1) The statement: "From him..."—Mentioned in Majma‘ al-Zawa’id.
Note 2
Be burned
(2) The statement: "Be burned"—Our Hanafi scholars state that if a Qur’anic codex becomes worn and unusable, it should be buried in a clean place away from foot traffic. As mentioned in ‘Umdat al-Qari, this is supported by Ibn Abi Dawud’s narration that a member of Abu Talhah’s family said Uthman buried the codices between the grave and the pulpit. As for burning, Abd al-Razzaq reported that Ibrahim disliked it. Al-Qari said analogizing Uthman’s action is impermissible because he only burned what was confirmed not to be part of the Qur’an or what was irretrievably mixed with it. He chose burning to eliminate doubt—had it been Qur’an, no Muslim would have permitted its burning. This is further evidenced by the lack of instruction to preserve its ashes from impurity, contrary to the Shafi‘i view of transformation. The discussion here concerns what is definitively established. Given the distinction and apparent disrespect, burial is obligatory. In Nafi‘ al-Mufti wa al-Sa’il, it is stated that discarded papers containing Allah’s name should be erased and then thrown into abundant water or buried in clean earth. As in Nasab al-Ihtisab, people neglect this, tearing and scattering such papers in pathways and filth without concern. In Al-Dhakhirah: A worn codex that can no longer be read should not be burned—this is Muhammad’s view, and we follow it. Burial is not disliked; it should be wrapped in a clean cloth and placed in a niche to avoid trampling. Alternatively, it may be washed with water or stored in a clean place safe from contamination. This honors the speech of Allah. As in Radd al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: وأرسل إلى كل أفق بمصحف إلخ الفرق بين جمع أبي بكر وجمع عثمان أن جمع أبي بكر كان الخشية أن يذهب من القرآن شيء لذهاب حملته؛ لأنه لم يكن مجموعا في موضع واحد، فجمعه في صحائفه مرتبا لآيات سوره على ما وقفهم عليه النبي ، فكان غرض الصديق جمع القرآن بجميع أحرفه ووجوهه التي نزل بها، وذلك على لغة قريش وغيرها، وجمع عثمان كان لما كثر الاختلاف في وجوه القراءات حين قرؤوا بلغاتهم على اتساع اللغات، فأدى ذلك بعضهم إلى تخطئة بعض، فخشي من تفاقم الأمر في ذلك، فنسخ تلك الصحف في مصحف واحد مرتبا لسوره واقتصر من سائر اللغات على لغة قريش محتجا بأنه نزل بلغتهم، وإن كان قد وسع في قرائته بلغة غيرهم رفعا للحرج والمشقة في ابتداء الأمر، فرأى أن الحاجة إلى ذلك انتهت، فاقتصر على لغة واحدة، فكان غرض عثمان تجريد لغة قريش من تلك القراءات، فجمع أبي بكر غير جمع عثمان «مرقاة» ملتقط منه.
قوله
(۱) قوله : عنه إلخ وذكره في مجمع الزوائد».
Note 2
قوله
(۲) قوله: أن يحرق وقال أصحابنا الحنفية: إن المصحف إذا بلي بحيث لا ينتفع به يدفن في مكان طاهر بعيد عن وطئ الناس. قاله في عمدة القاري ويؤيده ما رواه ابن أبي داود عن بعض آل أبي طلحة أنه قال: دفن عثمان المصاحف بين القبر والمنبر، وأما الإحراق فذكر عبد الرزاق أن إبراهيم كرهه، وقال عا القاري والقياس على فعل عثمان لا يجوز؛ لأن صنيعه كان بما ثبت أنه ليس من القرآن أو مما اختلط به اختلاطا لا يقبل الانفكاك، وإنما اختار الإحراق؛ لأنه يزيل الشك في كونه ترك بعض القرآن؛ إذ لو كان قرآنا لم يجوز مسلم أنه يحرقه، ويدل عليه أنه لم يؤمر بحفظ رماده من الوقوع في النجاسة بناءً على عدم اعتبار الاستحالة، كما قال به الشافعية، والكلام الآن فيما هو الثابت قطعا انتهى. قلت: فمع وجود الفرق وحصول ظاهر الإهانة يتعين الدفن، وقال في نفع المفتي والسائل» أن الرسائل التي يستغنى عنها وفيها اسم الله تمحى، ثم تلقى في الماء الكثير أو تدفن في أرض طيبة. كذا في «نصاب الاحتساب»، والناس عنه غافلون، فإنهم عند ما يستغنون من الرسائل يخرقونه وينشرونه في الطريق والنجاسات، ولا يبالون في ذلك انتهى.
وفي «الذخيرة»: المُصْحَف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد، وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف، وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث، ولا غبار ولا قدر تعظيما لكلام الله عَزَّ وَجَلَّ. قاله في رد المحتار».
Note 1
ف: (1) واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لغت
قریش کے مطابق قرآن جمع کرنے کا حکم دیا اور اس سے پہلے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی
روایت سے جو حدیث گزری ہے اس میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کا حکم دیا
تھا۔ ان دونوں حضرات کے جمع قرآن میں فرق یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قرآن کو
اس اندیشہ سے جمع فرمایا تھا کہ کہیں حفاظ کے شہید ہو جانے کی وجہ سے قرآن کا کوئی حصہ ضائع نہ
ہو جائے اور اس جمع اول میں حضرت صدیق نے اس بات کا اہتمام فرمایا تھا کہ لغت قریش کے ساتھ
ساتھ اور دیگر لغات اور وجوہ قراءت کو بھی جمع کیا جائے لیکن جب اسلام عرب سے نکل کر عجم میں
پہنچا اور لوگوں نے وجوہ قراءت کے بارے میں اختلاف کرنا شروع کیا یہاں تک کہ ایک دوسرے
کی قرأت کا انکار کرنے لگے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس انتشار کو ختم کرنے کے لئے صرف
لغت قریش کے مطابق قرآن کی کتابت کروائی کیونکہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اور ان
نسخوں کو بلاد اسلامیہ روانہ فرما دیا تاکہ انتشار دور ہو جائے اور ان ہی صحائف عثمانی کے مطابق پورے
عالم اسلامی میں قرآن کی کتابت جاری ہے۔ یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔12
ف: (2) واضح ہو کہ ہمارے فقہائے احناف رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن یا اوراق متبرکہ
جن پر اللہ اور اس کے رسول کا نام لکھا ہوا ہے اگر وہ استفادہ کے قابل نہ ہوں اور پارہ پارہ و بوسیدہ
ہو جائیں تو ان کو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر ایسے مقام پر دفن کر دیا جائے جو لوگوں کی آمد و رفت سے
دور ہو تا کہ ان کی بے حرمتی نہ ہو اور قرآن کو جلانا مکروہ ہے۔ اور اگر وہ کسی وجہ سے جل جائے تو اس کی
راکھ کو محفوظ کر دینا چاہئے۔ (عمدة القاری، ردالمحتار)12
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے کہ آپ نے سورۂ انفال کو جس کا
شمار مثانی (یعنی وہ سورتیں جن کی آیتیں سو سے کم ہیں۔ اور ان میں قصے مکرر بیان کئے گئے ہیں اس
لئے ان کو مثانی کہا جاتا ہے۔ اور یہ سورۂ شعراء سے لے کر سورۂ فتح تک کی سورتیں ہیں) میں ہونا
چاہئے اس کو سورۂ براءت سے ملا دیا جس کو آیتوں کی تعداد کے اعتبار سے) مئین ہونا چاہئے (جن
میں سو یا سو سے زیادہ آیتیں ہیں اور یہ سورۂ یونس سے سورۂ فرقان تک کی سورتیں ہیں) اور آپ نے
ان دونوں سورتوں یعنی سورۂ انفال اور سورۂ براءت کے درمیان میں ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
“ نہیں لکھی اس طرح آپ نے ان کو سبع طوال یعنی سات بڑی سورتوں میں شریک کر دیا۔ اس کی کیا
وجہ ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جیسے
جیسے زمانہ گزرتا جاتا مختلف آیتوں والی سورتیں نازل ہوتی رہتیں تو آپ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ
جیسے کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ کاتبین وحی کو طلب فرماتے اور حکم دیتے کہ ان آیتوں کو ان
سورتوں میں جن میں فلاں فلاں مضامین کا ذکر ہے لکھ دو پھر جب کبھی کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ
فرماتے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں جن میں ان مضامین کا ذکر ہے لکھ دو اور سورۂ انفال ان سورتوں
میں سے ہے جو مدینہ منورہ میں ابتداءً نازل ہوئیں اور سورۂ براءت نزول کے اعتبار سے قرآن کی
آخری وحی میں سے ہے لیکن ان دونوں سورتوں کے مضامین ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات فرمائے اور ہم پر یہ واضح نہیں فرمایا کہ سورۂ براءت سورۂ انفال ہی کا حصہ
ہے یا نہیں۔ اس وجہ سے میں نے ان دونوں کو ساتھ ساتھ رکھا ہے۔ اور اسی وجہ ان دونوں کے
درمیان ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ نہیں لکھی اور ترتیب میں ان کو میں نے سبع طوال میں
شامل کر دیا ہے۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ قرآن مجید کی سورتوں کو اس طرح تقسیم کیا گیا ہے کہ سورہ بقرہ سے سورہ توبہ تک
سبع طوال سات بڑی سورتیں کہا جاتا ہے۔ اور سورہ یونس سے سورہ فرقان تک کی سورتوں کو مئین (سو یا
سو(100) سے زیادہ آیتوں والی سورتیں) اور سورہ شعراء سے سورہ فتح تک کو مثانی سو آیتوں سے کم
والی سورتیں جن میں قصے مکرر ہیں۔ اور سورہ حجرات سے آخر قرآن تک کی سورتوں کو مفصل کہتے ہیں کہ
ان سورتوں کے درمیان بسم اللہ کا فاصلہ قریب قریب ہے۔
پھر مفصل کی تین قسمیں ہیں ایک طوال دوسری اوسط تیسری قصار: سورہ حجرات سے سورہ
انشقاق تک کو طوال مفصل یعنی لمبی اور فاصلہ والی سورتیں اور والسماء ذات البروج سے سورہ لَمْ
يَكُنْ تک کو اوساط مفصل یعنی درمیانی فاصلہ والی سورتیں اور یہاں سے آخر قرآن تک کو قصار مفصل یعنی
چھوٹے فاصلہ والی سورتیں کہا جاتا ہے۔12
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب
تک آیت بسم الله الرحمن الرحيم نازل نہیں ہوتی۔ آپ اس وقت تک ایک سورت کے ختم ہونے کو
(اور دوسری سورہ کے شروع ہونے کو) نہیں جانتے تھے۔ جب ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ “
کی آیت نازل ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو گیا کہ ایک سورت ختم ہوئی اور دوسری سورت
شروع ہوئی۔
اس کی روایت بزار نے دو سندوں سے کی ہے۔ جس میں سے ایک سند کے رجال صحیح یعنی
بخاری اور مسلم کے راوی ہیں۔
He would not recognize the end of a surah until 'Bismillah...' was revealed...
(1) The statement: "He would not recognize the end of a surah until 'Bismillah...' was revealed..." - Scholars have differed over this matter with nine opinions. Al-Shafi'i held it is an ayah of Surah al-Fatihah and every surah. Early Shafi'i scholars said it's not part of the Qur'an but was revealed to separate surahs. Later Hanafi scholars said it's part of the Qur'an revealed for separation but not part of any surah. They ruled that omitting Basmalah once during complete Qur'an recitation in Taraweeh doesn't invalidate the Sunnah - this being the most correct view as verified by Al-Taftazani in his marginalia on Al-Kashshaf and Al-Zayla'i in Nasb al-Rayah [Al-Sa'ayah].
In Al-Binayah: The discussion on Basmalah has three aspects:
Whether it's part of the Qur'an
Whether it's part of al-Fatihah
Whether it's part of every surah
For the first: The correct Hanafi view is that it's part of the Qur'an because the ummah agrees anything written between the covers by revelation is Qur'an - and Basmalah is written thus. Al-Mu'alla narrated from Muhammad: "I asked Muhammad: 'Is Basmalah a Qur'anic verse?' He replied: 'Everything between the two covers is Qur'an.'" Similarly Al-Jassas reported Muhammad said: "Basmalah is part of the Qur'an revealed to separate surahs, recited initially for blessing but not part of any surah." Based on this, the recitation obligation is fulfilled by Basmalah according to Abu Hanifah when recited with intent of recitation not praise, since it's a Qur'anic verse.
Some of our scholars disagreed because there's doubt whether it's a complete verse, as Al-Awza'i said: "Allah only revealed 'Bismillah...' in Surah an-Nahl (16:98), and it's not a complete verse - the complete verse is "Indeed, it is from Solomon, and indeed, it is: 'In the name of Allah...'" (27:30)." Thus since there's doubt about it being a complete verse, it can't be relied upon, and it's prohibited for those in major impurity to recite it as Qur'an. According to Al-Karkhi's view, even less than a verse is prohibited for them, and similarly in At-Tahawi's narration due to possibility of it being a complete verse, so it's prohibited as precaution.
In 'Umdat al-Qari': At-Tahawi said: "The Prophet's (ﷺ) not reciting Basmalah aloud proves it's not part of the Qur'an, because Qur'an must be recited aloud. The Basmalah in an-Naml (27:30) must be recited aloud like other Qur'an, but it's established to recite it quietly like seeking refuge and opening supplications. Since we see it written at surah beginnings in the mus'haf but it's not part of non-Fatihah surahs, this proves it's not part of al-Fatihah either."
For the second and third aspects: Our view and the majority's is that it's not part of any surah - neither al-Fatihah nor others. Ash-Shafi'i held it's definitely part of al-Fatihah and famously held it's part of every surah [Al-Sa'ayah]. If one argues: "Had it not been part of every surah, why did the Prophet (ﷺ) recite it with al-Kawthar?" We reply: This doesn't prove it's part of every surah, only that it's an independent verse. Evidence includes the revelation's beginning when the angel said: "Read in the name of your Lord..." (96:1) - had Basmalah been part of every surah's beginning, he would have said: "Read 'Bismillah... Read in the name of your Lord...'" Also, the Prophet (ﷺ) said: "A surah of thirty verses interceded..." (referring to al-Mulk without Basmalah) [Narrated by at-Tirmidhi as hasan, and others] - had Basmalah been part of it, he would have mentioned it Umdat al-Qari.
Note 1
قوله
(۱)قوله: لا يعرف خاتمة السورة حتى تنزل إلخ: اختلفوا فيه على أقوال تسعة ولكل وجهة هو موليها، فاختار الشافعي أنها آية من سورة الفاتحة، بل ومن كل سورة، ومذهب متقدمي أصحابه أنها ليست آية من القرآن، أنها أنزلت للفصل بين السور، واختار المتأخرون من أصحابنا أنها آية من القرآن أنزلت للفصل، لكن لا من سورة. وفرعوا عليه أن من لم يقرأ بسملة في صلاة التراويح في تمام القرآن مرَّةً واحدة أيضًا لا تتأدى سنة، وهذا هو الأصح، كما حققه التفتازاني في حواشي الكشاف والزيلعي في نصب الراية لأحاديث الهداية وغيرهما. قاله «في السعاية»، وقال في «البناية»: تفصيله: أن الكلام في التسمية على وجوه، الأول: في كونها عن القرآن أم لا. والثاني: أنها من الفاتحة أم لا؟ والثالث: أنها من أول كل سورة أم لا؟.
أما الأول، فالصحيح من مذهب أصحابنا أنها من القرآن؛ لأن الأمة اجتمعت على أن ما كان مكتوبا بين الدفتين بقلم الوحي، فهو من القرآن والتسمية كذلك، وكذلك روى المعلى عن محمد، فقال: قلت لمحمد: التسمية آية من القرآن؟ فقال: ما بين الدفتين كله من القرآن، كذا روى الجصاص عن محمد أنه قال: التسمية من القرآن، أنزلت للفصل بين السور، والبداية منها تبركًا، وليست بآية من كل واحدة منها. ويبنى على هذا أن فرض القراءة يتأدى بها عند أبي حنيفة إذا قرأها على قصد القراءة دون الثناء؛ لأنها آية من القرآن.
وقال بعض أصحابنا : لا يتأدى؛ لأن في كونها آية تامة احتمال، فإنه روي عن الأوزاعي أنه قال: ما أنزل الله تعالى في القرآن بسم الله الرحمن الرحيم إلا في سورة النحل وحدها، وليست بآية تامة، وإنما الآية في قوله: ﴿إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴾ (النمل: ۳۰) فوقع الشك في كونها آية تامة فلا يجوز بالشك، ولذا يحرم على الجنب والحائض والنفساء قرائتها على قصد القرآن. أما على قول الكرخي فظاهر؛ لأن ما دون الآية محرم عليهم، وكذا على رواية الطحاوي؛ لاحتمال كونها آية تامة، فيحرم عليهم قرائتها احتياطاً انتهى.
وقال في عمدة القاري»: قال الطحاوي: لما ثبت عن رسول الله له ترك الجهر بالبسملة ثبت أنها ليست من القرآن، ولو كانت من القرآن لوجب أن يجهر بها، كما يجهر بالقرآن سواها، فلا يرى أن بسم الله الرحمن الرحيم التي في «النمل يجب أن يجهر بها كما يجهر بغيرها من القرآن؛ لأنها من القرآن، وثبت أن يخافت بها كما يخافت بالتعوذ والافتتاح وما أشبهها، وقد رأيناها أيضًا مكتوبة في فواتح السور في المُصْحَف في فاتحة الكتاب وفي غيرها، ولما كانت في غير فاتحة الكتاب ليست بآية ثبتت أيضًا أنها في فاتحة الكتاب ليست بآية.
وأما الثاني والثالث فمذهبنا ومذهب الجمهور أنها ليست آية من سورة لا من الفاتحة، ولا من غيرها وعند الشافعي آية من الفاتحة قولا واحدًا، ومن كل سورة في قول مشهور عنه. قاله في السعاية، فإن قلت: لو لم تكن من أول كل سورة لما قرأها النبي ﷺ بالكوثر . قلت: لا نسلم أنه يدلُّ على أنها من أول كل سورة، بل يدلُّ على أنها آية منفردة، والدليل على ذلك ما ورد في حديث بدء الوحي فجاءه الملك، فقال له: اقرأ، فقال: ما أنا بقارئ، ثلاث مرات، ثم قال له: اقرأ باسم ربك الذي خلق، فلو كانت البسملة آية من أول كل سورة لقال: اقرأ ﴿بسم الله الرحمن الرحيم «اقرأ باسم ربك»﴾. ويدل على ذلك أيضًا ما رواه أصحاب السنن الأربعة عن أبي هريرة عن النبي قال: إن سورة من القرآن شفعت لرجل حتى غفر له، وهي تبارك الذي بيده الملك. وقال الترمذي حديث حسن، ورواه أحمد في مسنده وابن حبان في صحيحه والحاكم في مستدكه، ولو كانت البسملة من أول كل سورة ! ة لا فتحها بذلك، ذكره في «عمدة القاري».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب تک کہ ”بسم
الله الرحمن الرحيم“ کی آیت نازل نہیں ہوتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورتوں کے درمیان فصل
نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 788 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Until Bismillah... was revealed
(1) The statement: "Until Bismillah... was revealed"—Our scholars cite this as evidence that the Basmalah is an ayah revealed to separate surahs. The apparent meaning of the hadith indicates its revelation was repeated, which carries no objection. Rather, it demonstrates its virtue, like the repeated revelation of Al-Fatihah according to one opinion (Al-Mirqah)
Note 1
قوله
(۱) قوله: حتى ينزل إلخ : قال في المرقاة»: تعلّق به أصحابنا حيث قالوا: إن البسملة آية نزلت للفصل، وظاهر الحديث أن الإنزال مكرر، ولا محذور فيه، بل يدلُّ على شرفها كتكرار نزول الفاتحة على قول.
Note 1
ف: مرقات میں لکھا ہے کہ ہمارے فقہاء احناف نے فرمایا ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيمِ“ ایک مستقل آیت ہے جو سورتوں کے درمیان فصل کے لئے نازل کی گئی ہے اور یہ کسی
سورت کا جزو نہیں ہے اور صدر کی حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيمِ“ کا نزول مکرر ہوا ہے۔ (ایک مرتبہ تو (سورۂ نمل، آیت نمبر:30) میں ”إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ
وَإِنَّهُ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ ہے اور دوسری بار سورتوں کے فصل کے لئے ”بِسْمِ اللّٰهِ
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ کا نزول ہوا ہے اس لئے بھی اس کی عظمت اور فضیلت معلوم ہوتی ہے جس طرح
ایک روایت میں ہے کہ سورۂ فاتحہ بھی دو مرتبہ نازل ہوئی۔ جو اس کی عظمت اور بزرگی پر دلالت کرتی
ہے۔12
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
روایت کرتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ قرآن کی ایک سورت نے جس کی 30 آیتیں ہیں اس
سورت نے ایک آدمی کی (جو اس کی پابندی کے ساتھ تلاوت کرتا تھا سفارش کی یہاں تک کہ اس
کے گناہ بخش دئے گئے۔ اور یہ سورت ”تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ“ ہے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ اور امام احمد نے بھی اس کی
روایت اپنی مسند میں کی ہے۔
اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے اپنی مستدرک میں روایت کی ہے اور حاکم نے اس
کو صحیح قرار دیا ہے اور طبرانی نے اس کی روایت کبیر میں صحیح سند کے ساتھ کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
It is Blessed is He...
(2) The statement: "It is Blessed is He..."—The evidence from this is that this surah consists of thirty verses excluding the Basmalah, without dispute among those who count the verses. Additionally, its opening with Blessed is He... proves the Basmalah is not part of it (Al-Binayah)
Note 2
قوله
(۲) قوله : وهي تبارك إلخ : وجه الاستدلال به أن هذه السورة ثلاثون آية بدون البسملة بلاخلاف بين العادين، وأيضا فافتتاحه بقوله: تبارك الذي بيده الملك دليل على أن البسملة ليست منها. قاله في «البناية».
Note 1
ف: واضح ہو کہ بنایہ میں لکھا ہے کہ اس سورت ”تَبٰرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ“ میں تیس
آیتیں ہیں جس میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ کا شمار نہیں ہے اور یہ سب کے پاس مسلم ہے کہ
بسم الله الرحمن الرحيم کو شامل کئے بغیر اس سورت کی تیس آیتیں ہیں۔ اس سے اس بات کا
ثبوت ملتا ہے کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ کسی سورت کا جزو نہیں ہے۔12
ابوسعید بن المعلی رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے (جس کے
آخر میں اس طرح مذکور ہے کہ وہ فرماتے ہیں) کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا
کہ آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا کہ میں تم کو قرآن کی سب سے بڑھ کر عظمت والی سورۃ
سکھلاؤں گا۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ہاں وہ سورت ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ
رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ“ ہے۔ یعنی سورۂ فاتحہ ہے اور یہی سبع مثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کی
گئی ہے۔ اس کی روایت امام بخاری نے کی ہے
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4474 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 5006 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
He said: Alhamdulillahi Rabbil-‘alamin
(1) The statement: "He said: Alhamdulillahi Rabbil-‘alamin"—This clearly indicates the Basmalah is not part of the surah, as he began with Alhamdulillah... (Ta‘liq I‘la as-Sunan)
Note 2
It is the seven oft-repeated verses
(2) The statement: "It is the seven oft-repeated verses"—If the Basmalah were an ayah of it, they would be eight, since they are seven without it (Al-Binayah)
Note 1
قوله
(۱) قوله: قال: الحمد لله رب العالمين إلخ: دل على عدم كون التسمية جزءًا من السورة افتتاحه من قوله تعالى: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴾ دلالة ظاهرة. قاله في تعليق إعلاء السنن».
Note 2
قوله
(۲) قوله: هي السبع المثاني ولو كانت البسملة آية منها لكانت ثامنا؛ لأنها . سبع آيات بدون البسملة. قاله في «البناية».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ عظمت والی
سورت ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ“ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ“ سورۂ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ فاتحہ کو ’الحمد لله
رب العالمين“ سے شروع فرمایا ہے۔ یہ تعلیق اعلاء سنن میں مذکور ہے۔12
ف(2): اس حدیث میں یہ بھی ارشاد ہے کہ یہ سورت سبع مثانی ہے۔ یعنی سورۂ فاتحہ سات
آیتوں والی سورت ہے جو سب کے پاس مسلم ہے اور ان سات آیتوں میں ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ“ شامل نہیں ہے ورنہ پھر اس کی آیتیں آٹھ ہو جائیں گی۔ یہ بنایہ میں مذکور ہے۔12
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے (جس میں اس طرح
مذکور ہے وہ فرماتے ہیں) کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ میں نے
صلوٰۃ یعنی سورہ فاتحہ کو اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں (جیسا کہ امام نووی نے شرح مسلم
میں بیان کیا ہے اور یہ دلیل بیان کی ہے کہ یہاں صلوٰۃ سے سورہ فاتحہ مراد ہے۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ حج نام ہے عرفہ کا) برابر تقسیم کر دیا ہے اس کے ذریعہ
سے میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا میں اسے دوں گا جب بندہ(1)”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“،
پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تعریف کی۔ پھر جب بندہ
(2)”الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“، پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری شان بیان کی
اور جب بندہ(3)”مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ“، پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: میرے بندے نے
میری بزرگی بیان کی۔ اور کبھی یہ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے اپنے معاملات میرے حوالے
کر دئے۔ پھر جب بندہ(4)”إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ“، پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
کہ: یہ بات میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ کہ اس آیت میں اللہ اور بندے کے بارے
میں مشترکہ مضمون ہے) اور بندہ مجھ سے جو مانگے گا میں اسے دوں گا۔ پس جب بندہ(5) ”اهْدِنَا
عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“، پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میرے بندے کی دعا ہے اور بندہ نے
یہ جو سوال کیا ہے میں اسے ضرور دوں گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 395a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 3
The servant says: Alhamdulillahi Rabbil-‘alamin
(3) The statement: "The servant says: Alhamdulillahi Rabbil-‘alamin"—Ibn ‘Abd al-Barr said: This hadith resolves the confusion about the omission of the Basmalah from Al-Fatihah. It is an explicit text that cannot be interpreted otherwise. The evidence is that Allah began the division with Alhamdulillah... without the Basmalah. Had it been part of the surah, He would have started with it. Moreover, making Iyyaka na‘budu the midpoint results in three verses for Allah’s praise, three for the servant, and one between them. Including the Basmalah would invalidate this division. Also, the Prophet (ﷺ) said the servant recites Ihdina as-sirat al-mustaqim to the end, then said: "These are for My servant"—narrated by Abu Dawud and An-Nasa’i with sound chains. This implies three verses, whereas according to Ash-Shafi‘i’s view (counting the Basmalah), it would be two, making four and a half for Allah—contradicting the hadith’s explicit "half." Here, "prayer" means recitation (Al-Binayah)
Note 3
قوله
(۳) قوله: قال العبد: الحمد لله رب العالمين إلخ: قال ابن عبد البر : هذا حديث قد رفع الإشكال في سقوط بسم الله الرحمن الرحيم من الفاتحة، وهو نص لا يحتمل التأويل، ولا أعلم حديثا في سقوط البسملة أبين منه. قلت: وجه التمسك به أنه ابتدأ القسمة بـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ دون البسملة، فلو كانت منها لابْتَدَأَ بها، وأيضًا فقد جعل النصف إِيَّاكَ نَعْبُدُ فيكون ثلاث آيات الله تعالى في الثناء عليه، وثلاث آيات للعبد، وآية بينهما، وفي جعل التسمية منها إبطال هذه القسمة فيكون باطلا.
وأيضًا أنه قال: يقول العبد: ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ إلى آخرها، ثم قال : هؤلاء لعبدي، هكذا ذكره أبو داود والنسائي بإسنادين صحيحين، وهو جمع، فيقتضي ثلاث آيات، وعلى قول الشافعي يكون اثنين، وللبارئ أربع ونصف، إذا لم يعدوا أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ آية، وإن عدوها آية تصير ثمان آيات، وهذا كله خلاف تصريح الحديث بالنصف، والمراد بالصلاة القراءة. قاله في «البناية».
Note 1
ف: واضح ہو کہ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ صدر کی یہ حدیث اس بات پر صریح
دلیل ہے کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے اور اس بارے میں اس سے
زیادہ واضح کوئی حدیث مجھے نہیں ملی جو نص صریح کا حکم رکھتی ہو اور جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہ ہو۔
فرماتے ہیں کہ اس حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے دو برابر حصوں میں سورہ فاتحہ کی تقسیم فرمائی ہے اور
سورہ فاتحہ کی ابتداء ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ سے کی ہے اور اگر ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو ہوتا تو سورہ فاتحہ کی ابتداء ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سے کی جاتی۔
”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ کا جزو نہ ہونے پر دوسری دلیل میں یہ بیان
فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ”إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ“ کی آیت کو درمیانی قرار دی ہے اور
ابتدائی تین آیتیں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء میں ہیں۔
اور آخری تین آیتیں ”اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ“ سے آخر تک بندے کی استدعا میں
ہیں۔ اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو سورہ فاتحہ کا جزو نہ قرار
دیا جائے ورنہ حدیث قدسی کی مذکورہ تقسیم باطل ہوجائے گی، کیونکہ اس صورت میں سورہ فاتحہ کی آیتیں
آٹھ ہوجائیں گی۔
علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے تیسری دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ ابوداؤد اور نسائی نے بھی دو صحیح
سندوں کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث روایت کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”هٰؤُلَاءِ
لعبدی“ یعنی یہ آخری تین آیتیں ”اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ“ سے اخیر تک بندے کی استدعا
میں ہیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ جو تین سے کم کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا۔
اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ کی تقسیم حدیث قدسی کے لحاظ سے سات آیتوں
پر اس طرح ہوگی کہ ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ“ سے ”مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ“ تک تین آیتیں
”إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ“ درمیانی آیت اور ”اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ“ سے
”وَلَا الضَّآلِّينَ“ تک آخری تین آیتیں۔
اس طرح جملہ سات آیتیں پوری ہیں، جن میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کی آیت
شامل نہیں ہے اور اگر اس کے سوا کوئی اور طرح کی تقسیم کی جائے تو حدیث قدسی کے صریحاً خلاف ہوگی۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے (ایک طویل حدیث مروی
ہے جو وحی کی ابتداء کے بارے میں ہے اس میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مجھے لپٹا کر دبوچا اور پھر چھوڑ دیا اور کہا ”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي
الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمْ ” پڑھے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ نے پوری حدیث بیان فرمائی ہے۔ اور
اس حدیث کی روایت امام بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4953 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سورۃ فاتحہ کی
طرح کسی اور سورۃ کا بھی جزو نہیں ہے ورنہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اس سورت کو ”اِقْرَأْ بِاسْمِ
رَبِّكَ“ سے شروع نہیں کرتے بلکہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ سے شروع کرتے
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ایک قاری کے پاس سے
گزرے جو قرآن پڑھ رہا تھا اور (قرآن پڑھنے کے بعد لوگوں سے مانگ رہا تھا یہ دیکھ کر آپ نے
ناراضگی کے اظہار کے لئے) ”إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“ پڑھا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو قرآن پڑھے اس کو چاہئے کہ قرآن کو وسیلہ بنا کر اللہ
سے نہ مانگے کیونکہ عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھ پڑھ کر لوگوں سے مانگیں گے۔
اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2917 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Then beg
(1) The statement: "Then beg"—In Al-Bahr: Some scholars disliked giving charity to those who recite the Qur’an in markets as a deterrent.
Note 1
قوله
(۱) قوله : ثم يسأل إلخ: وفي البحر»: كره بعض المشايخ التصدق على الذي يقرأ القرآن في الأسواق زجرا له.
Note 1
(ف): بحر الرائق میں لکھا ہے کہ علماء نے ایسے شخص کو خیرات دینا مکروہ قرار دیا ہے جو بازاروں
میں قرآن پڑھ کر لوگوں سے بھیک مانگے تا کہ اس کی تنبیہ ہو اور وہ اس کا اعادہ نہ کرے۔12
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں جو قرآن اس لئے پڑھتا ہے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کا مال کھائے تو وہ قیامت
کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہ ہوگا۔ (ہڈی ہی ہڈی ہوگی اور وہ بڑا
رسوا ہوگا)۔ اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(3) His statement: "So recite, etc." That is, from the types of recitations. This was mentioned in Al-Marqat, compiled from it.
Note 1
(1) His statement: "In seven different modes, etc." It is permissible with the seven narrations, and even with the ten, as stated in Asl al-Usul. However, it is preferable not to recite rare narrations among the common people to safeguard their religion, meaning rare narrations and inclinations, as some fools say what they do not know, falling into sin and misery. Imams should not burden the common people with what diminishes their religion. They should not recite among them like the recitations of Abu Jafar, Ibn Amir, Ali ibn Hamza, and Al-Kisai to protect their religion, lest they mock or laugh, even though all recitations and narrations are correct and eloquent. Our scholars chose the recitation of Abu Amr and Hafs from Asim. This is from Al-Tatarkhaniyyah, from Fatawa al-Hujjah, as mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar. He ordered its writing, but it was scattered on parchments and the like. Abu Bakr ordered its copying from one place to a collected place, like papers found in the Prophet’s house with the Qur'an dispersed, which a compiler gathered and tied with a thread so nothing would be lost. This is in Al-Itqan. Al-Marqat and Umdat al-Qari, compiled from them.
Chapter-heading commentary
(۳) قوله: فاقرؤوا إلخ : أي من أنواع القراءات. «مرقاة» ملتقط منه.
Note 1
(۱) قوله : على سبعة أحرف إلخ: ويجوز بالروايات السبع، بل يجوز بالعشر أيضًا، كما نص عليه أصل الأصول»، لكن الأولى أن لا يقرأ بالغريبة عند العوام صيانة لدينهم، أي بالروايات الغريبة والإمالات؛ لأن بعض السفهاء يقولون ما لا يعلمون، فيقعون في الإثم والشقاء، ولا ينغي للأئمة أن يحملوا العوام على ما فيه نقصان دينهم، ولا يقرأ عندهم مثل قراءة أبي جعفر وابن عامر وعلي بن حمزة والكسائي صيانة لدينهم، فلعلهم يستخفون أو يضحكون وإن كان كل القراءات والروايات صحيحة فصيحة، ومشايخنا اختاورا قراءة أبي عمرو وحفص عن عاصم انتهى من التتارخانية عن فتاوى الحجة، هكذا في الدر المختار» و«رد المحتار».فإنه كان يأمر بكتابته، ولكنه كان مفرقًا في الرقاع ونحوها، وإنما أمر الصديق بنسخها من مكان إلى مكان مجتمعا، وكان ذلك بمنزلة أوراق وجدت في بيت رسول الله ، فيها القرآن منتشرا، فجمعها جامع، وربطها بخيط حتى لا يضيع منها شيء. كذا في «الإتقان». «مرقاة» و «عمدة القاري» ملتقط منهما.
Note 1
ف: واضح ہو کہ قرآن کے سات (7) حروف پر نازل ہونے سے مراد یہ ہے کہ قرآن سات قرأتوں پر نازل ہوا ہے اس لئے اہل اصول نے لکھا کہ قرآن شریف سات متواتر قرأتوں بلکہ دس قرأتوں سے بھی پڑھا جا سکتا ہے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ عوام میں انتشار پیدا ہونے کے خوف سے قرآن ان غیر معروف قرأتوں سے عوام کے سامنے نہ پڑھا جائے چنانچہ ہمارے اسلاف نے حضرت عاصم کی قرأت کو حضرت ابوعمرو حفص کی روایت سے لیا ہے اور یہی عوام میں رائج ہے۔ (ماخوذ از: در مختار اور رد المحتار)