اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3224
حنظلہ بن ربیع اسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک
دفعہ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ تو آپ نے دریافت فرمایا: اے
حنظلہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو میں نے کہا: کیا عرض کروں) حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے۔ تو یہ سن کر حضرت
صدیق نے تعجب سے فرمایا: حنظلہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو (تم جیسے مومن کامل کے لئے یہ کیسے ممکن ہے)
اس پر میں نے عرض کیا کہ: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر رہتے
ہیں اور حضور ہم کو نصیحت فرماتے ہیں اور دوزخ و جنت کا تذکرہ فرماتے ہیں تو اس وقت یہ محسوس ہوتا
ہے کہ گویا یہ دونوں ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں اور جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس
سے اٹھ کر بیوی، بچوں اور باغوں (وغیرہ کام کاج) میں مشغول ہو جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے
ہیں (اور وہ استحضار اور دلجمعی باقی نہیں رہتی۔ یہ سن کر) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ہمارا
بھی یہی حال ہے۔ پھر میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں
(عرض حال کے لئے) پہنچے اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے۔ یہ سن کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: کیوں کیا بات ہے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!
جب ہم آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ ہم کو نصیحت فرماتے ہیں کہ اور آپ
دوزخ و جنت کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے
ہیں اور جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ جاتے ہیں اور بیوی بچوں اور کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاتے
ہیں - تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں (اور وہ استحضار باقی نہیں رہتا ہے یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم میرے پاس
سے دور رہنے کی حالت میں بھی (اگر صفائی قلب، خوف الٰہی، واستغراق اور دلجمعی کے ساتھ) ذکر
الٰہی پر مداومت کرتے رہو تو فرشتے تم سے تمہارے گھروں میں اور راستوں میں (یعنی تمہاری فرصت
اور کاروبار کی جگہ تمہاری اس حالت کی عظمت میں تم سے ملاقات اور کاروبار کی جگہ، مصافحہ کیا کرتے
، اے حنظلہ (حضوری کے بعد غفلت کی حالت کو نفاق مت سمجھو یہ نفاق نہیں ہے) تمہارے لئے
ایک وقت (حقوق اللہ کی ادائیگی کا ہے اور ایک وقت (اپنے ضروریات اور حقوق العباد اور اہل
وعیال کی خدمت کا) ہے اور اس جملہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکید کے لئے تین بار فرمایا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2750a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.