Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں دعاؤں کی فضیلت اور اس کے استحباب کا بیان ہے) · Chapter 2

(یہ باب اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس سے تقرب حاصل کرنے کے بیان میں ہے)

26 narrations · In source reading order

Hadith 2716

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3205
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم مکہ کے راستہ سے گزر رہے تھے۔ اور مدینہ منورہ تشریف لے جا رہے تھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جمران نامی پہاڑی پر سے جو مدینہ سے ایک رات کی مسافت پر ہے گزرے تو صحابہ کرام سے) ارشاد فرمایا ہے۔ یہ تو جمران کی پہاڑیاں آگئیں ہیں (مدینہ قریب ہی ہے ذرا تیز چلو مفردون سبقت لے گئے۔ یعنی وہ لوگ جو جماعت سے آگے مدینہ کی طرف قربت کی وجہ سے نکل گئے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ”مُفْرِدُون“ کون ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مفردون وہ مرد ہیں جو اللہ کو بہت یاد کریں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2676 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Those who remember Allah abundantly...

(1) His statement: "Those who remember Allah abundantly..." Imam Muhammad said in Al-Muwatta: "The remembrance of Allah is good in every state."

Note 1

قوله

(۱)قوله : الذاكرون الله كثيرا إلخ : قال محمد في موطئه : ذكر الله حسن على كل حال.

Hadith 2717

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3206
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اس شخص کی مثال جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے زندہ انسان کی ہے اور اس شخص کی مثال جو اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا مردہ انسان کی ہے (یعنی جس شخص کے دل میں خدا کی یاد ہوتی ہے۔ وہ بابرکت اور بارونق ہے۔ اور جس میں خدا کی یاد نہیں ہوتی وہ بے برکت اور ویران ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6407 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 779 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2718

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3207Noor 3208
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہونچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ’’اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرنے والوں پر (غافلوں) میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے شخص کی مثال اس مجاہد کی طرح ہے جو کفار سے تنہا جہاد کر رہا ہو (اور اس کے ساتھی دشمن کے خوف سے) بھاگ رہے ہوں۔ ایک اور روایت میں یوں ہے: یا اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل لوگوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا اس سرسبز درخت کی طرح ہے جو سوکھے درختوں کے درمیان ہو۔ یا غافل انسانوں میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والا اس چراغ کے مانند ہے جو تاریک گھر میں ہو۔ اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ غافل انسانوں میں اللہ تعالیٰ کی یاد کرنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں یعنی دنیا ہی میں جنت میں اس کے مقام کو دکھا دیتے ہیں اور غافل انسانوں میں اللہ کی یاد کرنے والے شخص کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ بخش دیتے ہیں۔ اگرچہ اس کے گناہ انسانوں اور جانوروں کی تعداد کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی روایت رزین نے کی ہے۔

Hadith 2719

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3209
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جہاں کہیں کوئی جماعت بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی ہے تو فرشتوں کی وہ جماعت (جو اللہ کا ذکر کرنے والوں کی تلاش میں گشت کرتی رہتی ہے) ان کو گھیر لیتی ہے اور اس جماعت کو اللہ کی رحمت ڈھانک لیتی ہے اور انوار الٰہی چھا جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان پر اطمینان قلب نازل ہوتا ہے (اور حضور قلب بھی حاصل ہوتا ہے) اور اللہ تعالیٰ ان ذکر کرنے والوں کا (بھلائی کے ساتھ) اپنے (ملائکہ مقربین اور انبیاء اور مرسلین کی ارواح کے) سامنے (بطور فخر) ذکر فرماتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2700a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2720

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3210
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندۂ مومن کے گمان (اور خیال کے ساتھ ہوں کہ) وہ میری نسبت جیسا خیال کرتا ہے میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے معافی کا طالب ہے تو میں اس کو معاف کر دیتا ہوں اگر وہ مجھ سے مدد مانگتا ہے تو میں اس کی مدد کرتا ہوں۔ اور جب وہ (زبان یا دل سے) میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ میرا ذکر اپنے دل میں کرتا ہے تو میں بھی اس کو نفس میں یاد کرتا ہوں۔ اور اگر وہ میرا ذکر مسلمانوں کی جماعت میں کرتا ہے تو میں بھی اس کا ذکر ایسی جماعت میں کرتا ہوں کہ جو ان سے بہتر ہے (چنانچہ شرح عقائد نسفیہ کے حواشی میں لکھا ہے کہ خواص الملائکہ متوسط درجہ کے بشر سے افضل ہیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7405 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2675a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

If he remembers Me in a gathering...

(1) His statement: "If he remembers Me in a gathering..." Scholars differed on the permissibility of audible remembrance (dhikr). Some prohibited it absolutely, some permitted it absolutely, and others made distinctions, like the author of Al-Fatawa Al-Khayriyyah, who said: "If the loudness is excessive, it is prohibited; otherwise, it is permissible. However, silent remembrance is superior to audible remembrance, but that is another matter." This is the relied-upon position among the verified scholars of our school, though some Hanafi scholars prohibited audible remembrance absolutely. Mawlana Muhammad Abdul Hayy Al-Lakhnawi stated this in Hashiyat Al-Husn. In Rad Al-Muhtar, it is said: "The author of Al-Bazzaziyyah was inconsistent on this matter—sometimes calling it impermissible, sometimes permissible." Al-Fatawa Al-Khayriyyah mentions both dislike and preference: Some hadiths encourage audible remembrance, such as: "If he remembers Me in a gathering, I remember him in a better gathering." (Bukhari & Muslim), while others encourage secrecy. The reconciliation is that it varies based on individuals and circumstances, similar to the reconciliation between hadiths on loud and silent Qur’an recitation.

Note 2

I remember him in a gathering better than his...

(2) His statement: "I remember him in a gathering better than his..." At-Tibi said: "This refers to the gathering of the noble angels and the spirits of the prophets. It does not prove that angels are superior to humans." Ibn Al-Malik said: "There is disagreement over whether humans are superior to angels or not—some favor one view, others the opposite." Mirqat Al-Mafatih mentions this.

Note 1

قوله

(۱) قوله: وإن ذكرني في ملأ إلخ: اختلفوا في جواز الذكر بالجهر، فمنهم من منعه مطلقا، ومنهم من جوزه مطلقا، ومنهم من فصل كصاحب الفتاوى الخيرية»، فقال: إن كان الجهر مُفرِطاً منع عنه وإلا جاز نعم، السر أفضل من الجهر لكنه أمر آخر، وهذا هو المعتمد عند محققي أصحابنا، وإن كان بعض أصحابنا الحنفية قد منعوا الجهر مطلقا. قاله مولانا محمد عبد الحي اللكنوي في حاشية الحصن». وقال في رد المحتار: أقول: اضطرب كلام صاحب «البزازية» في ذلك، فتارة قال: إنه حرام، وتارة قال: إنه جائز . وفي الفتاوى الخيرية من الكراهية والاستحسان: جاء في الحديث ما اقتضى طلب الجهرية نحو : وإن ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منهم. رواه الشيخان، وهناك أحاديث اقتضت طلب الإسرار. والجمع بينهما: بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال، كما جمع بذلك بين أحاديث الجهر والإخفاء بالقراءة، ولا يعارض ذلك حديث خير الذكر الخفي؛ لأنه حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام، فإن خلا مما ذكر، فقال بعض أهل العلم: إن الجهر أفضل؛ لأنه أكثر عملا ، ولتعدي فائدته إلى السامعين ويوقظ قلب الذاكر، فيجمع عمدًا إلى الفكر ويصرف سمعه إليه، ويطرد النوم ويزيد النشاط، ملخصا. وتمام الكلام هناك فراجعه، وفي «حاشية الحموي» عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفًا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ.

Note 2

قوله

(۲) قوله: ذكرته في ملأ خير منهم قال الطيبي: أي من الملائكة المقربين وأرواح المرسلين، فلا دلالة على كون الملائكة أفضل من البشر، وقال ابن الملك: اختلف هل البشر خير من الملائكة أم لا ؟ رجح كلا مرجحون. قاله في المرقاة». وقال في هامش شرح العقائد النسفية عن المحيط»: والصحيح أن خواص البشر أفضل من جملةالملائكة، وخواص الملائكة أفضل من أوساط البشر، وأوساط البشر أفضل من أوساط الملائكة، وعوام الملائكة أفضل من عوام البشر. وعن الإمام الحلواني: أنه قال: من غلب عقله شهوته فهو خير من الملائكة، ومن غلب شهوته عقله فهو شر من البهيمة.

Hadith 2721

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3211Noor 3212
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتوں کی ایک جماعت مقرر ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کی تلاش میں پھرتی رہتی ہے (تاکہ ان سے ملیں۔ اور ان کے ذکر کو سنیں) جب وہ ذاکرین کی جماعت کو سنتے ہیں تو وہ فرشتے اپنے ساتھیوں کو آواز دے کر کہتے ہیں کہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دوڑو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ سن کر فرشتوں کی جماعت ذاکرین کے پاس جمع ہو جاتی ہے) اور اپنے پروں سے ان کو گھیر لیتی ہے اور ان کا یہ سلسلہ پہلے آسمان کو پہنچ جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ (جب یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حضور میں جاتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ باوجود اس کے فرشتوں سے زیادہ اپنے بندوں کے حال سے واقف ہیں فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ مرے بندے کیا کہہ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ آپ کی پاکی، بڑائی، تعریف اور عظمت کے ساتھ آپ کا ذکر کر رہے تھے۔ حضور نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا ان لوگوں نے مجھے دیکھا ہے، تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ: آپ کی ذات کی قسم انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا؟ اللہ تعالیٰ دریافت فرماتے ہیں کہ: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ہے۔ یہ سن کر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ: اگر وہ آپ کو دیکھ لیتے تو آپ کی اور زیادہ عبادت کرتے۔ اور آپ کی اور زیادہ بزرگی اور پاکی بیان کرتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پھر فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ: وہ آپ سے جنت کے طلبگار ہیں۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ: آپ کی ذات کی قسم انہوں نے جنت نہیں دیکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ جنت دیکھ لیتے تو ان میں جنت کی خواہش طلب اور رغبت زیادہ بڑھ جاتی۔ اللہ تعالیٰ پھر فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ مجھ سے کس چیز کی پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ آپ سے دوزخ کی پناہ چاہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا، انہوں نے دوزخ دیکھی ہے؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ آپ کی ذات کی قسم انہوں نے دوزخ نہیں دیکھی ہے، اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ اگر وہ دوزخ دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ دوزخ دیکھ لیتے تو اس سے بہت زیادہ بھاگتے اور خوف زدہ ہوتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ (فرشتوں کو مخاطب کر کے) فرماتے ہیں کہ میں تم لوگوں کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ: میں نے ان کو بخش دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: (یہ سن کر) ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے کہ ان میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جو (ذکر کرنے کے لئے حاضر نہیں ہوا تھا۔ بلکہ) وہ اپنے کسی کام کے لئے ان کے پاس آیا تھا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ ایسے کامل لوگ ہیں ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کی بھی بخشش ہو جاتی ہے اور ذاکرین کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا ہے۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے12۔ اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فرشتوں کی ایک جماعت ہے جو زیادہ گشت کیا کرتی ہے اور ذکر کے مجالس کی تلاش میں رہتی ہے۔ اور جب یہ فرشتے کسی ایسی مجلس کو پا لیتے ہیں جس میں اللہ کا ذکر ہو رہا ہو تو یہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے پروں سے ڈھانک لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ساری فضاء جو اس مجلس اور آسمان کے درمیان ہے فرشتوں سے بھر جاتی ہے اور جب (ذکر کی مجلس برخواست ہوتی ہے) تو یہ فرشتے منتشر ہو کر (ساتویں) آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (فرشتوں کے بارگاہ رب العزت پہونچنے پر) اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے زیادہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہیں۔ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ کے ان بندوں کے پاس سے آ رہے ہیں جو زمین پر آپ کی پاکی، بزرگی اور آپ کا کلمہ اور حمد بیان کرنے کے لئے جمع تھے اور آپ سے دست بدعا تھے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ آپ سے آپ کی جنت کا سوال کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں: اے پروردگار انہوں نے (آپ کی جنت کو) نہیں دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا خوب ہوتا اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیتے۔ پھر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ: وہ آپ سے پناہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ آپ کی دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا انہوں نے میری دوزخ کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اے خداوند انہوں نے (دوزخ کو) نہیں دیکھا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ: کیا ہی بہتر ہوتا اگر وہ میری دوزخ کو دیکھ لیتے فرشتے پھر عرض کرتے ہیں: کہ اے خداوند وہ آپ سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ (تم گواہ رہو) کہ میں نے ان کی مغفرت کردی۔ اور جس چیز (یعنی جنت کو) انہوں نے مانگا میں نے وہ چیز انہیں بخش دی اور جس چیز (یعنی دوزخ) سے انہوں نے پناہ مانگی میں نے ان کو اس سے پناہ دیدی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ سن کر فرشتے پھر اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں: ان میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو بڑا گنہگار ہے اور ادھر سے گزر رہا تھا۔ اور اس مجلس میں بیٹھ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ فرشتوں سے یہ سن کر فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو بھی بخش دیا کہ یہ ایسے سعادت مند لوگ ہیں کہ ان کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی بدبخت اور محروم نہیں ہوتا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6408 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2689 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (19)

Note 1

A group remembering Allah...

(1) His statement: "A group remembering Allah..." indicates the virtue and elevated status of communal remembrance. Mirqat Al-Mafatih mentions this.

Note 2

Have they seen Me?

(2) His statement: "Have they seen Me?" hints that the glorification of humans is superior because it occurs despite barriers, unlike the angels' glorification, which is direct. Mirqat Al-Mafatih.

Note 3

They would praise You more

(3) His statement: "They would praise You more" implies that the effort in worship corresponds to knowledge and love. Mirqat Al-Mafatih.

Note 4

They ask for Your Paradise

(4) His statement: "They ask for Your Paradise" shows that desiring Paradise is not blameworthy, as it is the abode of reward and meeting Allah. What is criticized is worship solely for Paradise or fear of Hell, for Allah deserves worship for His sake. Mirqat Al-Mafatih.

Note 5

Have they seen it?

(5) His statement: "Have they seen it?" indicates that Paradise is a created, existing, tangible reality. Mirqat Al-Mafatih.

Note 6

They would fear it more

(6) His statement: "They would fear it more" demonstrates the profound dialogue resulting from abundant remembrance. This may be the meaning of: "Whoever remembers Me in a gathering, I remember him in a better one." The hadith also highlights the superiority of worship in the unseen realm, just as faith in the unseen is superior to faith in the seen. Mirqat Al-Mafatih.

Note 7

None who sits with them is wretched

(7) His statement: "None who sits with them is wretched" encourages keeping company with those who remember Allah. Mirqat Al-Mafatih.

Note 8

Mobile (angels)

(8) His statement: "Mobile (angels)" refers to those who frequently travel, from which the Sufi concept of spiritual travel (siyahah) is derived. Mirqat Al-Mafatih.

Note 9

Their companion is not wretched

(9) His statement: "Their companion is not wretched" encourages sitting with the righteous to gain their blessings. Mirqat Al-Mafatih.

Note 1

قوله

(۱) قوله : قوما يذكرون الله وفيه دلالة على أن للاجتماع على الذكر مزية ومرتبة. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: هل رأوني إلخ فيه تنبيه على أن تسبيح بني آدم وتقديسهم أعلى وأشرف؛ لأنه في عالم الغيب مع وجود الموانع، وتقديس الملائكة في عالم الشهادة بلا صارف. قاله في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : وأكثر لك تسبيحا : فيه إيماء إلى أن تحمل مشقة الخدمة على قدر المعرفة والمحبة. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: يسألونك الجنة فيه إشارة إلى أن سؤال الجنة ليس بمذموم، فإنها دار الجزاء واللقاء، وإنما ذم من لا يعبد الله إلا لرجاء الجنة أو لخوف النار، فإن الله تعالى يستحق العبادة لذاته. كذا في «المرقاة».

Note 5

قوله

(٥) قوله : هل رأوها فيه إشعار بأن الجنة مخلوقة موجودة حسية. كذا في «المرقاة».

Note 6

قوله

(٦) قوله: أشهد لها مخافة: هذا بسط عظيم في السؤال والجواب اقتضاه كثرة ذكر رب الأرباب في جمع أولى الألباب ولعل هذا هو المعنى بقوله : من ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منه، وفي الحديث إشعار بأفضلية العبادة في عالم الغيب، كما أن الإيمان بالغيب أفضل من الإيمان بالشهادة. كذا في «المرقاة».

Note 7

قوله

(۷)قوله : لا يشقى جليسهم وفي الحديث ترغيب في مخالطة أهل الذكر. قاله في «المرقاة».

Note 8

قوله

(٨)قوله: سيارة: أي كثيرة السير ومنه أخذ سياحة الصوفية. قاله في «المرقاة».

Note 9

قوله

(٩) قوله : لا يشقى بهم جليسهم وفي هذا ترغيب العباد في مجالسة الصلحاء لينالوا نصيبا منهم. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: واضح ہو کہ بخاری اور مسلم کی مذکور الصدر حدیث سے حسب ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں: منجملہ فوائد کے ایک فائدہ یہ ہے کہ ذکر الٰہی کے لئے مجالس کا قائم کرنا بڑی اہمیت اور فضیلت کا باعث ہے دوسرے یہ کہ بنی آدم کا کئی موانعات کے باوجود عالم ناسوت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی تسبیح اور تقدیس بیان کرنا ملائکہ کی تسبیح اور تقدیس سے افضل ہے اس لئے کہ فرشتوں کو مشاہدہ حق کے سوا وہ موانعات بھی نہیں ہیں جو انسانوں کو حاصل ہوئے ہیں۔ تیسرے یہ کہ جنت کا سوال کرنا مذموم نہیں البتہ یہ مذموم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف جنت کے شوق اور دوزخ کے خوف سے کی جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت فی نفسہ مطلوب ہے۔ اور اس کی عبادت میں کسی غرض کو وابستہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس حدیث شریف میں یہ بھی مذکور ہے کہ فرشتے ذکر الٰہی کی مجالس کی تلاش میں گشت کرتے رہتے ہیں۔ اس سے علماء نے صوفیاء کرام کی سیاحت کا جواز ثابت کیا ہے۔ آخر میں حدیث میں ارشاد ہے کہ ذاکرین کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں ہوتا۔ اس میں اس بات کی ترغیب ہے کہ نیک اور صالحین کی صحبت اختیار کرنا چاہئے تاکہ ان کی صحبت سے فیوض اور برکات حاصل ہوں۔ اور یہ فوائد مرقات سے ماخوذ ہیں۔12

Hadith 2722

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3213
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں اپنی رحمت توفیق اور امداد کے ذریعہ اپنے بندہ مومن کے ساتھ رہتا ہوں جب کہ وہ میرا ذکر (دل یا زبان) سے کرتا ہے اور میرے ذکر میں اس کے ہونٹ ہلتے ہوں (یعنی حضور قلب کے ساتھ میرا ذکر زبان سے کرتا ہو)۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2265 (unverified) 35% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7524 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2265

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2723

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3214
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جب تم ریاض الجنۃ یعنی جنت کے باغوں سے گزرو تو خوب میوہ خوری کیا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ریاض الجنۃ کیا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ریاض الجنۃ ذکر کے حلقے ہیں جہاں مسلمان دنیا میں اللہ کا ذکر کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3510 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2271 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 2271

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ذکر کے حلقوں کو ریاض الجنۃ یعنی جنت کے باغ فرمایا گیا ہے اس لئے کہ آدمی ان کی وجہ سے جنت میں داخل ہوتا ہے، امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ: جس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا مستحب ہے اسی طرح ذکر کے لئے حلقہ بنا کر بیٹھنا بھی مستحب ہے۔ مرقات۔12

Hadith 2724

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3215
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (کہ ایک روز) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مسجد پر پہونچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہیں (اور ذکر الٰہی میں مشغول ہیں) تو حضرت معاویہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کس چیز نے یہاں جمع کیا ہے؟ تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ: ہم اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے جمع ہوئے ہیں اس پر حضرت معاویہ نے ان لوگوں کو قسم دے کر پوچھا یہاں بیٹھنے سے تمہاری غرض اللہ کے ذکر کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم کو اللہ کے ذکر کے سوا کسی اور چیز نے یہاں نہیں بٹھایا ہے۔ حضرت معاویہ نے فرمایا کہ میں نے تم کو یہ قسم کسی بدگمانی کی وجہ سے نہیں دی ہے۔ بلکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں تم کو یہ قسم دی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرا راستہ جس قدر قریبی ہے اور کسی کا نہیں (کیونکہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسبتی برادر ہیں) اس کے باوجود میں احتیاطاً صحابہ میں سب سے کم حدیثیں بیان کیا ہوں (ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک حلقہ میں تشریف لائے۔ اور دریافت کیا کہ تم کو یہاں کس چیز نے بٹھایا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس کی حمد بیان کر رہے ہیں کہ اس نے ہم کو اسلام کی ہدایت دی۔ اور مسلمان بنا کر ہم پر احسان کیا اس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ: صرف اللہ کے ذکر ہی نے تم کو یہاں جمع کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: (جی ہاں حضور) اللہ کی قسم یہاں اسی لئے بیٹھے ہیں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تم کو کسی بدگمانی کی وجہ سے قسم نہیں دلائی بلکہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اس طرح (حلقے بنا کر) ذکر کرنے سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے (کہ میرے ان بندوں کو دیکھو کہ خواہشات نفس اور شیطان کے غلبہ کے باوجود یہ میرے ذکر میں مشغول ہیں)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2701 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2725

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3216
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص کسی جگہ بیٹھے اور اس جگہ اللہ کو یاد نہ کرے تو اس کا وہاں اس طرح بیٹھنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وبال ہوگا۔ اور جو شخص اپنی خواب گاہ میں لیٹے اور وہاں بھی اللہ کو یاد نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وبال ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہر حال
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4856 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

میں خواب ہو یا بیداری نشست ہو یا برخاست۔ اللہ کا ذکر اور اس کو یاد کرتے رہنا چاہئے خصوصاً جب رات میں سونے کے لئے لیٹے تو ذکر کرتے ہوئے سو جائے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔

Hadith 2726

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3217
ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب لوگ کسی ایسی مجلس سے اٹھیں جس میں اللہ کا ذکر نہیں ہوا ہو تو ان کا اس طرح (غافل) اٹھنا ایسا ہے گویا کہ اٹھوں نے مردار گدھے کا گوشت کھا کر اٹھا ہے اور قیامت کے دن ان کے اس طرح خدا کی یاد سے غافل ہو کر (اٹھنا) ان کے لیے حسرت ہوگی۔ اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4855 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ مجلسوں میں خدا کی یاد سے غافل اٹھنے کو گدھے کا گوشت کھا کر اٹھنا اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ گدھا سارے حیوانات میں کم تر حیوان ہے اور اس کی بے وقوفی ضرب المثل ہے اور گدھے کا لگاؤ شیطان سے ہوتا ہے اور یہ رحمان سے دور کرنے والا ہے اس لئے اس کی آواز پر اَعُوْذُ پڑھنے کا حکم ہے۔ مرقات12

Hadith 2727

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3218
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کو یاد نہ کریں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجیں تو یہ مجلس ان کی حق میں وبال ہوگی اللہ تعالیٰ چاہیں تو (ان کو ذکر اور درود سے غفلت کی پاداش میں) عذاب دیں یا پھر (اپنے فضل اور کرم سے ایمان کے بدلہ ان کے اس قصور کو) معاف فرما دیں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3380 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2728

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3219
ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: انسان کی ہر بات اس کے اوپر وبال ہے اس کو نفع دینے والی نہیں ہے سوائے اس بات کے جس میں کسی نیکی کی ہدایت یا کسی برائی سے روکا گیا ہے۔ یا جس میں اللہ کا ذکر ہو۔ (جیسے تلاوت، درود، تسبیح یا ماں باپ کے لئے دعاء وغیرہ)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2412 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3974 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2729

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3220
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اللہ کی یاد کے بغیر کثرت سے کلام نہ کیا کرو۔ اس لئے کہ بغیر ذکر الٰہی کے کثرت کلام دل کی سختی کا سبب ہوجاتا ہے۔ اور سخت دل والے لوگ اللہ (کی رحمت اور نظر عنایت) سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2411 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ دل کی سختی کی علامت یہ ہے کہ انسان حق بات سننے سے اعراض کرے اور لوگوں سے میل جول زیادہ رکھے اور اس میں خوف خدا اور خشوع اور گریہ بھی نہ ہو اور آخرت کی یاد سے غافل ہوجائے۔ اور صاحب اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے کہ جس شخص میں یہ باتیں پائی جائیں اس کا ذکر قبول نہیں ہوتا ہے۔12

Hadith 2730

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3221
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: ذکر خفی کی فضیلت جس کو نامۂ اعمال لکھنے والے فرشتے بھی نہیں سن پاتے (ذکر جلی) پر 70 درجہ زائد ہے۔ جب قیامت ہوگی اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو حساب کے لئے جمع فرمائیں گے۔ اور یہ فرشتے ان اعمال کو پیش کریں گے جن کو انہوں نے لکھا اور محفوظ رکھا ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے کہ: کیا ان ذکر خفی کرنے والوں کی کوئی اور نیکی (لکھنے سے) رہ گئی ہے؟ تو فرشتے عرض کریں گے کہ: ہم کو جہاں تک معلوم تھا ہم نے سب کچھ لکھ دیا اور اس کی حفاظت کی ہے پھر ان کو اللہ تعالیٰ ذکر خفی کرنے والوں سے مخاطب ہوکر فرمائیں گے کہ تیری ایک نیکی میرے پاس محفوظ ہے۔ (جس کے مرتبہ) کو تو نہیں جانتا اور اس کی جزاء میں خود تجھے دوں گا اور وہ نیکی تیرا ذکر خفی ہے۔ جس کو دنیا میں کرتا تھا۔ اس کی روایت ابو یعلی نے کی ہے اور علامہ

[Narrated by Abu Ya'la, mentioned by As-Suyuti in Al-Budur As-Safirah]

Commentary and footnotes (1)

Note 1

سیوطی نے اس کو بدور سافرہ احوال و آخرت کے بیان میں لکھا ہے۔

Hadith 2731

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3222
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: جو شخص (خالصۃً میرے لئے) کوئی ایک نیکی کرے تو اس کو اس طرح کی دس نیکیوں کا ثواب دیا جائے گا اور (اس کے عمل کو صدق اور اخلاص کے لحاظ سے سات سو گنا اور) اس سے زیادہ ثواب دوں گا۔ اور جو کوئی ایک گناہ کرے تو اس کو اس کی سزا اس برائی کے برابر ہی دی جائے گی یا میں چاہوں تو (اپنے فضل سے) اس کو بخش دوں گا۔ اور جو شخص (اطاعت کے ساتھ) مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اپنی رحمت کے ساتھ اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔ اور جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔ اور جو میری طرف آہستہ چل کر آتا ہے تو میں تیزی کے ساتھ چل کر اس کی طرف آتا ہوں اور جو کوئی زمین بھر گناہ لے کر مجھ سے ملتا ہے بشرطیکہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو میں اس سے اتنی ہی مغفرت کے ساتھ ملتا ہوں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2687a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2732

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3223
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس کسی نے میرے کسی ولی کو ایذاء پہنچائی تو میں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں اور ایسے بندۂ مومن کے لئے جو میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہو۔ مجھے یہ بات بہت پسند ہے کہ وہ میرے فرائض کی ادائی کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرے۔ اور میرا بندہ (فرائض کی تکمیل کے ساتھ) ہمیشہ نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں) اور جب اس کو محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کے ذریعہ وہ سنتا ہے۔ اور میں اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کے ذریعہ وہ دیکھتا ہے ۔ اور میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس کے ذریعہ وہ چلتا ہے۔ اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ چاہے تو میں اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں۔ اور میں جس کام کو کرنا چاہتا ہوں اس میں توقف اور تردد نہیں کرتا۔ سوائے اس کے کہ مجھے اس بندہ مومن کی روح کو قبضہ کرنے میں تردد اور تامل ہوتا ہے جو ابھی موت کو برا سمجھتا ہے۔ اس لئے کہ مجھے اس کی ناخوشی پسند نہیں (یہاں تک کہ میں اس کو آخرت کے انعامات بتلاتا ہوں تا کہ اس سے موت کا خوف نکل آئے اور آخرت کا شوق بڑھ جائے اس لئے کہ ) موت سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6502 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2266 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 2266

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I declare war upon him

(1) His statement: "I declare war upon him" - The scholars said: Among sins, none are met with Allah's warning of war except this (enmity to His friends) and usury, as Allah says: "Then take a notice of war from Allah and His Messenger" (Al-Baqarah 2:279). This indicates the gravity of these two sins, for Allah's declaration of war against a servant suggests his evil end - whoever fights Allah will never succeed. Mirqat al-Mafatih mentions this.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فقد آذنته بالحرب قال الأئمة: ليس في المعاصي من توعد الله أربابها بأنه محاربه إلا هذا وآكل الربا، قال تعالى: ﴿فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ ﴾ (البقرة : ۲۷۹)، وهذا يدلُّ على ما في هاتين الخصلتين من عظم الخطر؛ إذ محاربة الله للعبد تدل على سوء خاتمته؛ لأن من حارب الله لا يفلح أبدا. قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو میرے کسی ولی کو ایذاء پہنچائے تو میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں اس بارے میں صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ ائمہ کرام کا ارشاد ہے کہ گناہوں میں صرف دو گناہ ایسے ہیں جس کے بارے میں ایسی سخت وعید وارد ہوئی ہے ایک تو سود خواری اور دوسرے اولیاء اللہ کو ایذاء پہنچانا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں گناہ عظیم خطرہ میں انسان کو پہنچانے والے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ ایسے شخص کے سوئے خاتمہ کا اندیشہ یقینی ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جس سے جنگ کریں تو پھر اس کو کون بچا سکتا ہے۔12 اس حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ جب بندہ نوافل کے ذریعہ مجھ سے قرب حاصل کرتا ہے تو میں اس کو محبوب بنا لیتا ہوں اور اس کی سماعت اور بصارت بن جاتا ہوں۔ الخ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ: یہاں اس مقام کا بیان ہے جس کو علم سلوک میں فانی فی اللہ اور بقا باللہ کہتے ہیں کہ جب بندہ نفل پر مداومت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل اعضاء اور جوارح کا آنکھ کان ہاتھ پاؤں کا نگہبان ہو جاتا ہے کہ بندہ کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ بعض علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایسے مقبول بندہ کے آنکھ، کان اور ہاتھ پاؤں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہو جاتے ہیں تو ایسے بلند مرتبہ اور قرب الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ دوام نفل ہے اور قرب الٰہی بغیر عبادت کے حاصل نہیں ہوتا۔ تو انسان کو چاہئے کہ عبادت پر کمر باندھے۔12

Hadith 2733

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3224
حنظلہ بن ربیع اسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ تو آپ نے دریافت فرمایا: اے حنظلہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو میں نے کہا: کیا عرض کروں) حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے۔ تو یہ سن کر حضرت صدیق نے تعجب سے فرمایا: حنظلہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو (تم جیسے مومن کامل کے لئے یہ کیسے ممکن ہے) اس پر میں نے عرض کیا کہ: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر رہتے ہیں اور حضور ہم کو نصیحت فرماتے ہیں اور دوزخ و جنت کا تذکرہ فرماتے ہیں تو اس وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ دونوں ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں اور جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر بیوی، بچوں اور باغوں (وغیرہ کام کاج) میں مشغول ہو جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں (اور وہ استحضار اور دلجمعی باقی نہیں رہتی۔ یہ سن کر) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ہمارا بھی یہی حال ہے۔ پھر میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (عرض حال کے لئے) پہنچے اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ حنظلہ تو منافق ہوگیا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: کیوں کیا بات ہے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جب ہم آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ ہم کو نصیحت فرماتے ہیں کہ اور آپ دوزخ و جنت کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ جاتے ہیں اور بیوی بچوں اور کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاتے ہیں - تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں (اور وہ استحضار باقی نہیں رہتا ہے یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم میرے پاس سے دور رہنے کی حالت میں بھی (اگر صفائی قلب، خوف الٰہی، واستغراق اور دلجمعی کے ساتھ) ذکر الٰہی پر مداومت کرتے رہو تو فرشتے تم سے تمہارے گھروں میں اور راستوں میں (یعنی تمہاری فرصت اور کاروبار کی جگہ تمہاری اس حالت کی عظمت میں تم سے ملاقات اور کاروبار کی جگہ، مصافحہ کیا کرتے ، اے حنظلہ (حضوری کے بعد غفلت کی حالت کو نفاق مت سمجھو یہ نفاق نہیں ہے) تمہارے لئے ایک وقت (حقوق اللہ کی ادائیگی کا ہے اور ایک وقت (اپنے ضروریات اور حقوق العباد اور اہل وعیال کی خدمت کا) ہے اور اس جملہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکید کے لئے تین بار فرمایا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2750a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2734

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3225
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے ایک وقفہ کے بعد ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے میں سب سے بہتر اور تمہارے پروردگار کے پاس سب سے پاکیزہ اور بلندی درجات کے لئے سب سے اعلی ہے اور وہ ایسا عمل بھی ہے جو سونے اور چاندی کی خیرات سے بھی بہتر ہے اور اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ تم (خدا کی راہ میں دشمنان اسلام سے جہاد کرو تم ان کو) قتل کرو اور وہ تمہیں شہید کریں۔ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور ارشاد فرمائیے یا رسول اللہ ہم ایسے عمل کو جاننے کے مشتاق ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (سنو) وہ اعلی ترین عمل اللہ تعالی کا ذکر کرنا ہے۔ اس کی روایت امام مالک، امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3377 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3790 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2269 (unverified) 97% confidence

Mishkat (candidate) 2269

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر افضل اعمال ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے فرمایا ہے کہ: اور عبادتیں جیسے سونے اور چاندی کی خیرات اور دشمنان اسلام سے جہاد وغیرہ یہ اللہ تعالیٰ کے ذرائع تقرب ہیں لیکن ذکر الٰہی بنفسہ مقصود اور مطلوب ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ“ (تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا)(سورۃ بقرہ، آیت نمبر:152) اور حدیث قدسی میں یوں ارشاد ہے کہ ”انا جليس من ذكرني“ (میں اپنے ذاکر کا ہم نشیں ہوں)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: ”وانا معه اذا ذكرني“ میں ذاکر کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرے۔ اھ۔ شیوخ طریقت رحمہم اللہ نے ذکر کے جو طریقے بتائے ہیں ان کے مطابق ذکر الٰہی میں مشغول رہنا چاہئے۔12

Hadith 2735

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3226
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل بِعَذَابٍ أَلِيمٍ“۔ (سورۃ توبہ، آیت نمبر:34) اور جو لوگ سونا چاندی کو جمع کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور کسی کو قرض نہیں دیتے اور نہ حق داروں کا حق ادا کرتے ہیں۔ تو آپ ان لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر سنا دیجئے۔ تو ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے (اس آیت کو سن کر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یہ آیت سونے اور چاندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے (جس سے ہم کو یہ معلوم ہو گیا کہ ان کے حقوق کو ادا کے بغیر جمع کرنے کا کیا گناہ ہے) کاش ہم کو یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ (سونے اور چاندی کے سوا) جمع کرنے کے لئے کون سا مال سب سے زیادہ، بہتر ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بہتر مال (جو تم کو نفع دے گا) وہ ذکر الٰہی کرنے والی زبان، شکر گزار دل اور ایمان دار بیوی ہے جو شوہر کو اس کے دین اور ایمان پر مدد کرتی ہو (یعنی اس کو نماز روزہ و دیگر عبادات کی یاد دہانی کرتی ہے۔ اور اس کو زنا اور حرام کاموں سے روکتی ہو)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3094 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1856 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2736

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3227
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ کون سا آدمی سب سے بہتر ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خوش نصیب ہے وہ شخص جس کی عمر دراز ہو اور اس کے اعمال بھی نیک ہوں (یہ سن کر اس اعرابی نے پھر عرض کیا: یا رسول اللہ) سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ تو حضور نے فرمایا کہ: بہترین عمل یہ ہے کہ تم دنیا سے ایسی حالت میں رخصت ہو کہ تمہاری زبان اللہ کی یاد میں تر ہو۔ اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3792 (unverified) 78% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2737

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3228
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اسلام کے احکام (یعنی فرائض اور نوافل تو مجھے معلوم ہو گئے ہیں اور سارے نوافل کا ادا کرنا اپنی کمزوری کی وجہ سے) مجھ پر گراں گزر رہا ہے تو آپ مجھے کوئی (ایسا مختصر اور جامع عمل) بتایئے جس کو میں (ہر حالت میں چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے) ادا کر سکوں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (ایسا جامع عمل یہ ہے کہ) تیری زبان اللہ کی یاد میں ہمیشہ تر رہے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3375 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3793 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2279 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 2279

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2738

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3229
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ: اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کے دن کون سا بندہ سب سے افضل اور ثواب پانے میں سب سے بلند مرتبہ والا ہوگا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں قیامت میں یہ درجہ پانے والے ہوں گے۔ پھر عرض کیا گیا: یا رسول اللہ کیا (دوام ذکر کرنے والے کا درجہ) مجاہد فی سبیل اللہ (کے درجہ سے) بھی بڑھ کر ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں دوام ذکر کرنے والے کا درجہ ایسے مجاہد سے بھی بلند ہے جو کفار اور مشرکین سے لڑ رہا ہو۔ یہاں تک کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے۔ اور وہ لڑتے لڑتے خود شہید ہو جائے۔ اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔

Hadith 2739

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3230
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ: ہر چیز کے لئے ایک صیقل ہے (جس سے اس کی صفائی ہوتی ہے) اور دلوں کی صیقل یعنی جلاء، اللہ کی یاد ہے۔ اور ذکر الٰہی سے بڑھ کر کوئی چیز انسان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والی نہیں ہے۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ”کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی عذاب الٰہی سے انسان کو بچانے میں اتنا مؤثر نہیں ہے؟“ تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ہاں اگر چیکہ مجاہد اپنی تلوار سے لڑتے لڑتے خود شہید ہو جائے۔ اور اس کی تلوار ٹوٹ جائے۔ اس کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔

[Narrated by Bayhaqi in Al-Da'awat al-Kabir]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2286 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.922

Mishkat (candidate) 2286

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2740

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3231
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انسان کا کوئی عمل اس کو اللہ کے عذاب سے بچانے میں ذکر الٰہی سے بڑھ کر مؤثر نہیں۔ اس کی روایت امام مالک، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3377 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3790 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2741

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3232
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: شیطان انسان کے دل سے چمٹا رہتا ہے جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ہٹ جاتا ہے اور جب وہ ذکر الٰہی سے غافل ہو جاتا ہے تو دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے تعلیقاً کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4977 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

When he becomes heedless

(1) His statement: "When he becomes heedless" hints that heedlessness is the cause of Satan's whispers, not the other way around, contrary to what is commonly believed. Mirqat al-Mafatih mentions this.

Note 1

قوله

(۱)قوله : إذا غفل إلخ: وفيه إيماء إلى أن الغفلة سبب الوسوسة لا العكس على ما هو المشهور عند العامة. قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الٰہی سے غفلت ہی شیطان کے وسوسہ کا سبب ہے نہ کہ شیطان کے وسوسہ سے غفلت پیدا ہوتی ہے اس لئے انسان کو چاہئے کہ ذکر الٰہی پر مداومت کرے تا کہ وسوسوں سے محفوظ رہے۔ یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ