اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3296
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے (99) انسانوں
کو قتل کیا تھا پھر (اپنی توبہ کی قبولیت کے بارے میں لوگوں سے) پوچھتے ہوئے نکلا۔ یہاں تک کہ
ایک راہب کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ: کیا ایسے شخص کی توبہ قبول ہوسکتی ہے (جس نے
ننانوے قتل کئے ہوں) اس نے جواب دیا نہیں۔ تو اس شخص نے اس (راہب) کو قتل کردیا پھر اپنی
توبہ کی قبولیت کے بارے میں پوچھنے لگا تو ایک آدمی نے اس سے کہا: تُو فلاں بستی میں چلا جا
(جہاں نیک لوگوں کی کثرت ہے وہ اس بستی کی طرف چل پڑا۔ اور راستہ میں) اس کو موت آگئی۔ تو
اس نے مرتے وقت اپنے سینہ کو اس بستی کی طرف جھکایا۔ تو رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے
اس بارے میں جھگڑنے لگے (کہ کون اس کی روح کو لے جائے) اور اللہ تعالیٰ نے (اس بستی والی)
زمین کو (جس کی طرف وہ جا رہا تھا) وحی نازل فرمائی کہ تُو قریب ہوجا اور (دوسری بستی کو وحی فرمائی
کہ تو دور ہوجا (فرشتوں سے) فرمایا کہ: تم دونوں بستیوں کے فاصلہ کو ناپو تو یہ بستی جس میں نیک لوگ
تھے ایک بالشت قریب نکلی اور اس کی بخشش کردی گئی۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3470 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2766a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ گناہ کبیرہ کے بعد توبہ قبول ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جس جگہ گناہ کیا ہو وہاں سے ہجرت کرنا مستحب ہے۔ اور تیسرے یہ کہ مدعا اور مدعا علیہ کا ⟦?⟧ درست ہے۔ چوتھے یہ کہ رحمت الٰہی کی کوئی حد نہیں۔ ادھر بندہ نے خالص دل سے توبہ کی اور ادھر دریائے رحمت و مغفرت جوش میں آئی۔ (حاشیہ مشکاۃ)۔