اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3318
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں اپنے والد کے
ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے حضرت ابن
مسعود سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ
(گناہوں پر) ندامت ہی توبہ ہے تو حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ایسا ارشاد فرماتے سنا ہے (کہ ندامت ہی توبہ ہے!)۔ (اس حدیث کی روایت امام
طحاوی نے کی ہے)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Regret is repentance..." Ibn Abi Imran disliked saying, "I seek Allah’s forgiveness and repent to Him," preferring, "I seek Allah’s forgiveness and ask Him for repentance." At-Tahawi said: "The correct view is that both are permissible." In Al-‘Alamkiriyyah and Ma’ani Al-Athar, it is stated: "The Prophet (ﷺ) equated regret with repentance, showing that saying, ‘I repent to Allah,’ while feeling remorse is praiseworthy and rewarded."
Note 1
(۱)قوله: الندم توبة إلخ عن ابن أبي عمران يقول: يكره أن يقول الرجل: أستغفر الله وأتوب إليه، ولكن يقول: أستغفر الله وأسأله التوبة. قال الطحاوي: والصحيح جوازه كذا في القنية». قاله في العالمكيرية». وفي معاني الآثار»، فهذا رسول الله ﷺ قد جعل الندم توبة، فدل ذلك على أن من قال: أتوب إلى الله من ذنب كذا وكذا، وهو نادم على ما أصاب من ذلك الذنب، أنه محسن مأجور على قوله ذلك.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ندامت ہی توبہ ہے اس لئے کہ جو شخص اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے تو توبہ کے دوسرے اجزاء یعنی گزشتہ گناہوں کو چھوڑ دینا اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرنا اور تیسرے یہ کہ جن کے حقوق تلف ہوئے ہوں ان کے حقوق کو ادا کرنا ان سب پر آمادہ ہو جاتا ہے اسی لئے ارشاد ہوا کہ ندامت ہی توبہ ہے۔ مرقات12