اردو
صُبَیّ بن معبد تغلبی رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ
اور حج کا ایک ساتھ احرام باندھا (یعنی قران کی نیت کی) یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم
کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر چلنے کی توفیق ملی ہے (کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
حجۃ الوداع کے موقع پر قران کی نیت سے احرام باندھا تھا)۔ اس کی روایت ابوداؤد، نسائی اور ابن
ماجہ نے کی ہے۔
اور یہ حدیث کئی اور صحیح طرق سے بھی مروی ہے اور دار قطنی نے بھی اسی
حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور دار قطنی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی صحیح ترین سند وہ ہے جس کی روایت
منصور اور اعمش نے ابو وائل سے کی ہے اور ابو وائل نے صُبَیّ کے واسطہ سے حضرت عمرؓ سے روایت
کی ہے۔
اور طحاوی کی روایت میں صُبَیّ بن معبد سے اس طرح مروی ہے وہ کہتے ہیں
کہ میں نے عمرہ اور حج کا (قرآن کی نیت سے) ایک ساتھ احرام باندھا اور میرا گزر سلمان ابن
ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس ہوا تو ان دونوں نے میرے اس عمل کو معیوب سمجھا پھر جب میں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا ان
کے کہنے کا تم کچھ خیال نہ کرو تم کو تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے
(اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی حج قران ادا فرمایا تھا)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1799 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “They were wrong. You have been guided to the Sunnah of your Prophet (ﷺ).” Tahawi commented: “His statement, ‘You have been guided to the Sunnah,’ after saying, ‘They were wrong,’ indicates that this was a confirmation, not merely a supplication.”
Note 1
(۱)قوله : إنهما لم يقولا شيئًا إلخ : قال الطحاوي فدل قوله: هديت لسنة نبيك بعد قوله: «إنهما لم يقولا شيئًا» أن ذلك كان منه على التصويب منه لا على الدعاء.