اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3656
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (عبدالرحمن بن یزید) روایت کرتے ہیں کہ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ (دسویں ذوالحجہ کو) جمرۂ کبری پر رمی کے لئے پہنچے تو (رمی کرتے
وقت اس طرح کھڑے رہے کہ) بیت اللہ شریف آپ کے بائیں جانب تھا اور منی سیدھے جانب
(اور جمرہ سامنے تھا) پھر آپ نے جمرے پر سات کنکریاں ماریں اور کنکری کے پھینکنے وقت آپ اللہ
اکبر فرما رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا (میرا عمل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں ہے)
کیونکہ آپ نے بھی اسی طرح رمی فرمائی ہے۔ اور یہ وہی ذات گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جن
پر سورہ بقرہ نازل ہوئی (جس میں مناسک حج تفصیلاً مذکور ہیں)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے
متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1748 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1296a (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) Positioning: One should face Jamrat al-Aqabah with Mina to the right and the Ka'bah to the left, standing where the pebbles land. (Fatawa Qadi Khan)
Note 2
(2) Takbir: This is the established practice. (Al-'Alamgiriyyah)
Note 1
(۱) قوله : فجعل البيت إلخ ويستقبل في الرمي جمرة العقبة يجعل منى عن يمينه والكعبة عن يساره ويقوم حيث يرى موقع حصاته. كذا في فتاوى قاضيخان». قاله في العالمگيرية».
Note 2
(۲) قوله: يكبر مع كل حصاة: كذا في العالمگيرية».
Note 1
ف: واضح ہو کہ مرقات میں علامہ سیوطی کی درمنثور کے حوالہ سے بیہقی کی سنن سے یہ روایت مذکور ہے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے ہر کنکری پھینکتے وقت اس طرح دعا فرمائی: ” اَللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُوْرًا، وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا، وَعَمَلًا مَشْكُوْرًا “۔ اللہ بڑا ہے، اللہ بڑا ہے۔ اے اللہ! میرے حج کو قبول فرما۔ اور میرے گناہوں کو بخش دے۔ اور میرے عمل کو مقبول فرما۔ حضرت سالم نے فرمایا کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہر کنکری پھینکتے وقت اسی طرح دعا فرمایا کرتے تھے۔12