اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3657
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ استنجاء کے لئے طاق عدد ڈھیلے لینے چاہئیں اور اسی طرح رمی جمار بھی طاق
ہونا چاہئے (یعنی ہر جمرہ پر سات سات کنکریاں مارنا چاہئے) اور اسی طرح صفا و مروہ کے درمیان
دوڑنا بھی طاق ہے (یعنی سات چکر کرنا چاہئے) اور طواف کعبہ بھی طاق ہے (یعنی بیت اللہ شریف
کے گرد سات مرتبہ چکر لگانا چاہئے اور جب تم میں سے کوئی استنجاء کے لئے ڈھیلے لے تو اس کو چاہئے
کہ طاق عدد میں لے (یعنی حسب ضرورت تین یا پانچ یا سات لے)۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1300 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) "An odd number": The recommendation isn't strictly three pebbles, though it's preferable. The command to use odd numbers indicates recommendation, not obligation, as there's no evidence of strict requirement. (Al-Durr al-Mukhtar, Radd al-Muhtar)
Note 1
(۱) قوله: الاستجمار تو وليس العدد ثلاثا بمسنون فيه، بل مستحب. قاله في الدر المختار». وقال في رد المحتار» أشار أي أن المراد نفي السنة المؤكدة لا أصلها؛ لما ورد من الأمر بالاستنجاء بثلاثة أحجار، ولم ينقل أن الأمر للوجوب كما قال الإمام الشافعي؛ لأن قوله : من استجمر فليوتر، فمن فعل فحسن، ومن لا فلا حرج، دليل على عدم الوجوب، فحمل الأمر على الاستحباب توقيفا.