اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4094
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے کھجور کے چند درخت
ایک انصاری کے باغ میں تھے اور ان انصاری کے ساتھ ان کے بیوی بچے بھی (اسی باغ میں) رہا
کرتے تھے۔ سمرہ اس (باغ) میں آیا کرتے تو ان انصاری کو (سمرہ کے آنے جانے سے)
تکلیف ہوا کرتی تھی۔ انصاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر (اپنی
تکلیف) بیان کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمرہ کو اپنے پاس بلایا تاکہ وہ (کھجور کے
درختوں کو) انصاری کے ہاتھ بیچ دیں۔ سمرہ نے (حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کی اس
تجویز کو) قبول نہ کیا تو حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے ان سے چاہا کہ وہ ان درختوں
کے بدلہ میں دوسری جگہ کے درختوں کو لے لیں۔ سمرہ نے اس (دوسری تجویز) کو بھی قبول نہ کیا۔
(اس پر) حضور صلّٰی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ان درختوں کو ان انصاری کو ہبہ کر دیں اور تم
کو (اس بخشش کے بدلہ میں بہت سے فوائد حاصل ہوں گے) اور حضور صلّٰی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ
نے اس کے لئے بے حد ترغیب دی (اس تجویز کو بھی) انہوں نے نہ مانا تو حضور صلّٰی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ
وَسَلَّمَ نے (سمرہ سے فرمایا تو تم مؤذی ہو (کہ عاریتی زمین پر درخت لگا کر دوسروں کو تکلیف دینا
چاہتے ہو اور کسی تجویز کو تم نہیں مانتے) پھر حضور صلّٰی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان انصاری سے فرمایا
: جاؤ! ان کے کھجور کے درختوں کو کاٹ دو۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3636 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: Uproot his palm trees—he ordered the Ansari to uproot the palm trees because it was clear that Samurah was harming him, as it was known that they were planted on borrowed land. As stated in Al-Marqah. In Al-Hidayah: If someone borrows land to build or plant, it is permissible, and the lender can retract and require the removal of the building or plants.
Note 1
(۱)قوله: فاقلع نخله : وإنما أمر الأنصاري بقلع النخل لما تبين له أن سمرة يضاره لما علم أن غرسها كان بالعارية. قاله في «المرقاة». وقال في «الهداية»: وإذا استعار أرضًا ليبني فيها أو ليغرس جاز، وللمعير أن يرجع فيها وكلفه قلع البناء والغرس.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں حضورﷺ نے ان انصاری کو سمرہ رضی اللہ عنہ کے کھجور کے درخت کاٹنے کا حکم اس لئے دیا کہ سمرہ کے وہاں آنے جانے سے ان انصاری کو تکلیف پہنچ رہی تھی جبکہ ان انصاری نے حضرت سمرہ کو زمین عاریۃً دی تھی۔ یہ مرقات میں مذکور ہے اور ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی زمین عاریۃً لے تاکہ اس میں مکان بنائے یا درخت لگائے تو جائز ہے، اور مالک زمین کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی وقت بھی اپنی ضرورت پر اپنی عاریۃً کو اٹھا سکتا ہے اور عاریۃً لینے والے کی تعمیر کو توڑ سکتا ہے اور درخت ہوں تو کاٹ سکتا ہے۔ ف: اس حدیث شریف میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تینوں تجویزوں کو قبول نہ کیا۔ اس بارے میں صاحب مرقات اور صاحب اشعۃ اللمعات نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تینوں تجویزیں بطور سفارش تھیں بطور لزوم اور حکماً نہ تھیں ورنہ حضرت سمرہ جیسے جلیل القدر صحابی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو ٹال نہیں سکتے تھے۔