اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4125
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم کی خدمت میں ایک صاحب موجود تھے۔ ان صاحب کا ایک بیٹا آیا تو انہوں نے اس کو پیار کیا
اور اپنی ران پر بٹھا لیا پھر ان ہی صاحب کی ایک بیٹی بھی آئی تو انہوں نے اس کو اپنے بازو بٹھا لیا تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے ان دونوں میں کیوں انصاف نہیں کیا۔ اس کی
روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: Could you not have treated them equally?—At-Tahawi said: Does this not show that the Messenger of Allah (ﷺ) wanted him to treat his son and daughter equally and not favor one over the other? This is evidence for what we mentioned regarding gifts.
Note 1
(۱) قوله: فهلا عدلت بينهما : قال الطحاوي: أفلا يرى أن رسول الله الله قد أراد منه التعديل بين الابنة والابن، وأن لا يفضل أحدهما على الآخر، فذلك دليل على ما ذكرنا في العطية أيضًا.
Note 1
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں میں انصاف اور برابری کا معاملہ رکھنا چاہئے جیسا کہ عطیہ میں لڑکیوں اور لڑکوں میں مساوات قائم کرنے کا اوپر کی حدیثوں میں ذکر ہے اس وجہ سے ایک دوسرے پر ترجیح نہیں دینی چاہئے۔