اردو
زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ
نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص کسی بھٹکے ہوئے جانور کو پناہ دے تو وہ خود گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کا
اعلان نہ کر دے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
سے اسی طرح روایت کی ہے اور کہا ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں یعنی جو شخص بھٹکے ہوئے جانور کو
(اپنے گھر بغیر کسی اعلان کے) لے جائے (وہ گمراہ ہے) البتہ جو ایسے جانور کو اس لئے پکڑے کہ اس کو
(اس کے مالک) کے حوالہ کر دے گا یا اس کا اعلان کرتا رہے گا تو ایسے شخص کے لئے کوئی حرج نہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1725 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: Is astray unless they announce it—This restricts going astray to one who does not announce, so there is no evidence for those who dislike found property absolutely in Umar’s report or the saying, “A Muslim’s stray is the fire’s fuel,” as we interpret it as taking without announcement. As stated in At-Ta’liq Al-Mumajjad.
Note 1
(۱) قوله : فهو ضال ما لم يعرفها فقيد الضلال بمن لم يعرفها فلا حجة لمن كره اللقطة مطلقا في أثر عمر، ولا في قوله : ضالة المسلم حرق النار ؛ لأننا حملناه على ما إذا أخذه من غير تعريف. كذا في التعليق الممجد».