اردو
سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ان سے (ایک مرتبہ) دریافت فرمایا تم کہاں تھے (وہ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا یا رسول
اللہ! میں شکار کرنے کے لئے باہر نکل گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کہاں
(شکار کر کے آئے ہو) میں نے جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے شکار کی جگہ بتائی تو مجھے ایسا
محسوس ہوا کہ حضور ﷺ کو وہ جگہ زیادہ پسند نہ تھی۔ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا اگر تم (شکار کے لئے)
عقیق جاتے تو میں بھی تمہارے ساتھ شکار میں رہتا (یا اگر تمہارے ساتھ نہ چل سکتا اور تم عقیق سے
شکار کر کے) واپس ہوتے تو تم سے ملتا۔ اس لئے کہ عقیق کی سر زمین مجھے بہت محبوب ہے (اور وہاں
کا شکار مجھے بے حد پسند ہے)۔
اس کی روایت ابن ابی شیبہ اور طحاوی نے کی ہے۔
اور طبرانی نے بھی اس کی روایت ایسی سند کے ساتھ کی ہے جس کو امام منذری
نے حُسن قرار دیا ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(۱) قوله: لو كنت تذهب إلى العقيق إلخ : قال في «النخبة»: وهذا تصريح من النبي له على جواز صيد المدينة، فإن الأئمة اتفقوا على أن العقيق من المدينة، ولم يخالف فيه مخالف، وزيادة ترغيب النبي ﷺ في صيدها عن غيرها، والله تعالى أعلم؛ لكون لحمها تربى من نبات المدينة، فكان للحمها مزية على لحوم الصيد الذي ليس عنها، كما أن الثمرها مزية على بقية الأثمار. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: واضح ہو کہ صاحب نخبہ نے کہا ہے کہ اس حدیث شریف سے صراحت کے ساتھ واضح ہے کہ مدینہ منورہ میں شکار جائز ہے۔ اس لئے کہ سرزمین عقیق مدینہ منورہ میں داخل ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عقیق کا شکار اس لئے پسند تھا کہ یہاں کے جانور مدینہ منورہ کی نباتات کھاتے ہیں اس لئے عقیق کے شکار کو دوسرے مقامات کے شکار پر فوقیت ہے جیسے مدینہ منورہ کے پھلوں کو دوسرے مقامات کے پھلوں پر فضیلت حاصل ہے جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔ اھ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر مدینہ منورہ کا شکار جائز نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقیق میں شکار کرنے کو پسند نہیں فرماتے۔ اور اس حدیث سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے کہ مدینہ منورہ میں شکار حلال ہے۔12