اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3773
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (جب مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر) مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجد کی تعمیر کا حکم فرمایا اور بنونجار
(کی جس زمین کو پسند فرمایا تو ان) سے ارشاد فرمایا کہ تم اس کی قیمت لے لو۔ انہوں نے عرض کیا ہم
اس کی قیمت تو اللہ تعالیٰ ہی سے لیں گے (یعنی دنیا میں ہم کو اس کا معاوضہ مطلوب نہیں ہے، جب
یہاں مسجد کی تعمیر کا آغاز ہوا تو) اس زمین میں مشرکین کی قبریں تھیں ان کو اکھاڑ دیا گیا اور اس میں جو
ٹیلے تھے ان کو برابر کیا گیا اور کھجور کے جو پیڑ تھے ان کو کاٹ دیا گیا اور کھجور کے تنوں کو مسجد کے قبلہ کی
جگہ جما دیا گیا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 428 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 524a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement: “And the date palms were cut”: According to their [scholars’] view, cutting the palms of the Haram is impermissible. Had Madinah been a Haram, he would not have ordered their cutting based on their principle. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
(2) The statement: “If you were to go to Al-Aqiq...” In Al-Nukhbah, it is said: “This is a clear indication from the Prophet (ﷺ) of the permissibility of hunting in Madinah, for the scholars unanimously agree that Al-Aqiq is part of Madinah, with no disagreement. The Prophet’s (ﷺ) encouragement to hunt there over other places is due to the superiority of its game, as the animals feed on the vegetation of Madinah, making their meat superior to game from elsewhere—just as its fruits are superior to others.” This is also in (Al-Mirqat).
Note 1
(۱) قوله : وبالنخل فقطع : فعندهم لا يجوز قطع نخل الحرم، فلو كان حرما لما أمر بالقطع على أصلهم. قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت اس زمین میں کھجور کے جو پیڑ تھے ان کو کاٹ دیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مدینہ منورہ میں درختوں کا کاٹنا حرام ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ان درختوں کو کاٹنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ میں شکار کرنے اور درختوں کو کاٹنے کی ممانعت ایسی نہیں ہے جیسے مکہ معظمہ میں ہے (ماخوذ از: مرقات)۔12