اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3799
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے (مقبرہ میں) تشریف فرما تھے اور ایک قبر کھودی جا رہی تھی۔ ایک شخص قبر میں
جھانکا اور کہا قبر مومن کی بہت بری خواب گاہ ہے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس
سے) ارشاد فرمایا تو نے جو کہا برا کہا! اس شخص نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) میرا منشاء یہ نہیں تھا بلکہ
میرا یہ تھا کہ خدا کی راہ میں شہید ہونے سے، بہتر کوئی چیز نہیں (اور گھر میں مرنے والے مومن کی قبر اس
کے لئے بری خواب گاہ ہے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا (یہ صحیح ہے) خدا کی راہ میں
شہید ہونے کے برابر کوئی چیز نہیں ہے (اور یہ بھی یاد رکھو!) زمین کا کوئی حصہ مجھے اتنا محبوب نہیں کہ
وہاں میری قبر ہو جتنا کہ مدینہ میں (یعنی مدینہ منورہ مجھے ساری دنیا سے زیادہ پسند ہے اور یہیں میں
اپنی قبر پسند کرتا ہوں) ان الفاظ کو آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔
اس کی روایت امام مالک نے مرسلاً کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2764 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 2764
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) The statement: "No place on earth where I would prefer to be buried": Scholars unanimously agreed that dying in Madinah is superior after initially differing on whether residing in Makkah or Madinah is better. This shows the virtue of that sacred place, not necessarily the city's superiority. Umar (may Allah be pleased with him) would pray: "O Allah, grant me martyrdom in Your cause and let me die in the city of Your Messenger." Consensus holds that the Prophet's burial place is superior to Makkah, the Ka'bah, even the Throne. As in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: ما على الأرض بقعة أحب إلي: وقد أجمع العلماء على أن الموت بالمدينة أفضل بعد اختلافهم أن المجاورة بمكة أفضل أو بالمدينة أكمل، ولهذا كان من دعاء عمر الله: اللهم ارزقني شهادة في سبيلك واجعل موتي ببلد رسولك، وليس فيه دلالة على أفضلية المدينة، بل لأفضلية البقعة المكينة، وقد قام الإجماع على أنها أفضل من مكة، بل من الكعبة، بل من العرش الأعظم. كذا في «المرقاة».