Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3282a

(بیویوں سے صحبت کرنے کا بیان)

In this book

Current reading

Marriage

(بیویوں سے صحبت کرنے کا بیان)

Zujajat al-Masabih 3282aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4340Noor 4341Noor 4342
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنی بیوی کے شیر خوار بچے سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دوسرا حمل نہ ہو جائے اور بچے کو دودھ پلانا نقصان دہ ہو جائے یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ چیز نقصان دہ ہوتی تو فارس اور روم والوں کو بھی نقصان دیتی اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور طحاوی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابتداء میں دودھ پلانے والی عورت سے صحبت کرنے سے منع فرماتے تھے پھر اجازت دیدی فرمایا اگر یہ چیز نقصان دہ ہوتی تو فارس اور روم والوں کو بھی نقصان دیتی۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرا ارادہ تھا کہ دودھ پلانے والی عورت سے صحبت کرنے سے منع کردوں پھر مجھے یاد آیا کہ فارس اور روم والے ایسا کرتے ہیں اور یہ چیز ان کے بچوں کو نقصان نہیں دیتی اور مسلم کی ایک اور روایت میں اسی طرح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1443 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

If that were harmful, it would have harmed the Persians and Romans

(1) The statement: “If that were harmful, it would have harmed the Persians and Romans”: This Hadith indicates the permissibility of intercourse with a pregnant woman. It is established by the Hadith that follows that permissibility came after prohibition, so this is preferable to others. The Prophet’s (ﷺ) prohibition was due to his fear of harm from it, then he permitted it when he realized it does not harm. This indicates that the prohibition was not from revelation or from what is lawful and unlawful, but from what occurred in his heart out of concern for it. He ordered it out of compassion for his nation, not otherwise, as when he ordered to refrain from pollinating palm trees. It is thus established that a man having intercourse with his pregnant wife or slave woman is lawful and was never prohibited. This is the opinion of Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad (may Allah have mercy on them).

Note 1

قوله

(۱) قوله: لو كان ذلك ضارا ضر فارس والروم: ففي هذا الحديث إباحة وطء الحبالي، وثبت بالحديث الذي يجيء بعد هذا أن الإباحة بعد النهي، فهذا أولى من غيره، وجاء نهي النبي الله ذلك أنه من جهة خوفه الضرر من أجله، ثم أباحه لما تحقق عنده أنه لا يضر. ودلّ ذلك أنه لم يكن منع منه في وقت ما منع منه من طريق الوحي، ولا من طريق ما يحل ويحرم، ولكنه على طريق ما وقع في قلبه له منه شيء، فأمر به على الشفقة منه على أمته لا غير ذلك، كما قد كان أمر في ترك تأبير النخل، فثبت بما ذكرنا أن وطء الرجل امرأته أو أمته حاملا حلال لم يحرم عليه قط، وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد (رحمهم الله).