اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4427
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں (اپنے شوہر کی شکایت کے لئے) حاضر ہوئیں
اور ہم اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر تھے اس عورت نے عرض کیا کہ میرے شوہر صفوان ابن
معطل میں جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں اور میں جب (نفل) روزے رکھتی ہوں
تو افطار کروا دیتے ہیں۔ اور (خود) سورج نکلنے کے بعد نماز فجر پڑھتے ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ
(اس وقت اتفاقاً) صفوان بھی حاضر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے یعنی صفوان
سے ان (کی بیوی کی شکایتوں) کے بارے میں دریافت کیا۔ تو صفوان نے جواب دیا یا رسول اللہ
اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتے ہیں (اس کی وجہ یہ ہے کہ) وہ (نفل
نماز میں) دو (طویل) سورتیں پڑھتی ہیں اور میں نے اس کو اس سے منع کیا ہے راوی کہتے ہیں
کہ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (سورہ فاتحہ کے بعد) ایک ہی سورت
پڑھی جائے تو (تنہا شخص ہو یا جماعت) سب کے لئے کافی ہو جائے گی۔ (ان کے شوہر صفوان
نے) کہا کہ اس کا یہ کہنا کہ جب میں (نفل) روزہ رکھتی ہوں تو وہ افطار کروا دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے
کہ وہ مسلسل (نفل) روزہ رکھا کرتی ہیں اور میں جوان آدمی ہوں (چونکہ رات میں کھیتی باڑی کے
کاموں میں مشغول رہتا ہوں اس لئے دن میں بیوی سے صحبت کرنے پر) صبر نہیں کر سکتا (یہ سن
کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت (اپنے شوہر کی موجودگی میں) اس کی
اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھا کرے اب رہا اس کا یہ کہنا کہ میں سورج نکلنے کے
بعد (فجر کی) نماز پڑھتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم (کھیتی باڑی کے) لوگ ہیں اور یہ چیز معروف
ہے (کہ ہم رات بھر پانی سینچتے ہیں) جس کی وجہ سے سورج نکلنے تک اٹھ نہیں سکتے (یہ سن کر رسول
اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صفوان جب تم نیند سے اٹھو تو نماز پڑھ
لیا کرو (ادا ہو یا قضاء)۔
اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2459 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1762 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.487
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(1) The statement: “We hardly wake up until the sun rises”: Literally or figuratively, meaning close to sunrise. He said, “When you wake up, O Safwan, pray,” meaning perform or make up the prayer. According to us, Ash-Shafi‘i used this to permit making up missed prayers during prohibited times. I say: Without considering our explanation, it is not necessary to pray immediately upon waking. The most it indicates is that waking is the cause for the obligation to make up, so if he wakes during a prohibited time and delays until it passes, he acts on both this Hadith and the Hadith prohibiting prayer during forbidden times, as in Al-Marqah and Umdat al-Qari.