اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5180
ان ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ
فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا،
اس کے بنانے والے کو جو اس کے بنانے میں خیر کی نیت کرے اور اس کو چلانے والے کو اور تیر اٹھا کر
دینے والے کو تم تیر چلاؤ اور سواری کرو اور یہ کہ تم تیر چلاؤ یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ تم سواری
کرو۔ اور ہر وہ چیز جس سے انسان کھیل کو کرتا ہے باطل ہے مگر اس کا اپنی کمان سے تیر چلانا2 ہے اور اپنے
گھوڑے کو سدھانا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا پس یہ چیزیں حق یعنی درست ہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
اور ابوداؤد اور دارمی نے یہ اضافہ کیا ہے ”اور جو آدمی تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بے رغبتی کر کے
چھوڑ دے تو یقیناً وہ ایک نعمت ہے جس کو اس نے چھوڑ دیا یا آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے اس کی ناشکری کی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1637 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2811 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "his shooting with his bow": It is stated in (Badhl al-Majhud): In the time of the Messenger of Allah (ﷺ), there was no weapon in war except shooting arrows, so this includes, or rather is replaced by, what is shot in its place, such as bullets from rifles, cannons, and other modern war instruments used in this era, as they have sufficed for and replaced shooting arrows with a bow. Al-Nawawi said: These Hadiths indicate the virtue of archery, target practice, and care in it with the intention of jihad in the path of Allah, the Exalted, as well as swordsmanship and all types of weapon use, and likewise racing with horses and others, as mentioned in its chapter. The intent is training for combat, practicing, mastering it, and exercising the limbs for it.
Note 1
(١)قوله: رميه بقوسه: وقال في (بذل المجهود): ولم يكن في زمان رسول الله صلي الله عليه واله وسلم في الحرب إلا رمي السهام فيدخل، بل يعوض عنه فيه ما يرمي به من الرصاص بالبندقة والمدافع وغير ذلك من آلات الحرب الجديدة المستعملة في هذا الزمان، فإنها أغنت عن رمي السهام بالقوس وعطلته. وقال النووي: وفي هذه الأحاديث فضيلة الرمي والمناضلة والاعتناء بذلك بنية الجهاد في سبيل الله تعالى، وكذلك المثاقفة وسائر أنواع استعمال السلاح، وكذا المسابقة بالخيل وغيرها كما سبق في بابه. والمراد بهذا كله التمرن على القتال والتدرب والتحذق فيه ورياضة الأعضاء بذلك.