Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Jihad

Hadith 3871

The Chapter on Writing to the Disbelievers and Inviting Them to Islam

In this book

Current reading

Jihad

The Chapter on Writing to the Disbelievers and Inviting Them to Islam

Zujajat al-Masabih 3871Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5251
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو کسی لشکر یا سریہ پر امیر مقرر فرماتے تو آپ ﷺ ان کو وصیت کرتے کہ وہ خاص طور پر اپنے لئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ خیر کا معاملہ کریں پھر آپ ﷺ فرماتے اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔ اور لڑو ان سے جو اللہ کا انکار کریں، جہاد کرو خیانت مت کرو اور دھوکہ مت دو اور مثلہ مت کرو۔ اور کسی بچے کو قتل مت کرو اور جب تمہارا مقابلہ ہو جائے مشرکین میں سے کسی کے ساتھ تو تم ان کو تین باتوں کی طرف بلاؤ۔ پس وہ ان میں سے کسی کو بھی قبول کر لیں تو ان کی طرف سے قبول کر لو۔ اور ان سے (لڑائی کو) روک دو۔ پھر ان کو اسلام کی دعوت دو پس اگر وہ قبول کریں تو ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان سے (لڑائی) روک دو پھر ان کو دعوت دو کہ وہ لوٹ کر آئیں اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں کی طرف اور ان کو بتاؤ کہ اگر وہ یہ کام کریں گے تو ان کے لئے وہ حقوق ہیں جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو مہاجرین پر ہیں پس اگر وہ ان (گھروں سے) منتقل ہونے سے انکار کریں تو ان کو بتا دو کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہیں ان پر اللہ کا حکم جاری کیا جائے گا جو مسلمانوں پر جاری کیا جاتا ہے اور ان کو مالِ غنیمت اور مالِ فئی (دوسری قوم سے مالِ غنیمت حاصل کر کے دینا) میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا 3 مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں پس اگر وہ اس سے انکار کریں تو ان سے جزیہ کا اگر وہ تم کو (جزیہ دینے کا) جواب دیں تو ان سے اس کو قبول کرلو اور ان سے لڑائی روک دو اگر انکار کریں تو تم اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے لڑائی کرو۔ اور جب تم قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ دو تو تم ان کے لئے اللہ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ مت دو 5 لیکن تم ان کو اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دو کیونکہ تم اگر اپنے ذمہ اور اپنے ساتھیوں کے ذمہ کو توڑ دو گے تو یہ ہلکا ہے اللہ کے اور اس کے رسول کے ذمہ کو توڑنے سے اور اگر تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے حکم پر اتاریں تو تم ان کو اللہ کے حکم پر مت اتارو بلکہ تم ان کو اپنے حکم پر اتارو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس کے بارے میں تم اللہ کے حکم کے مطابق ٹھیک پہنچو گے۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1731a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (8)

Note 1

they will have no share in the spoils or fay’, etc.

(1) The statement: "they will have no share in the spoils or fay’, etc.": The Hadith contains benefits, including that the fay’ and spoils are not given to the Bedouins who did not migrate, who were poor and needy, and zakat is not given to those entitled to fay’ and spoils. Shafi‘i distinguished between fay’/spoils and zakat, saying the Bedouins have a right to the latter but not the former. Malik and Abu Hanifah saw no distinction, allowing each to be used for the other’s purpose. The statement (ﷺ): "they will have no share in the spoils or fay’" is abrogated and applied only in early Islam. Cited from (Al-Mirqat) and (Nayl al-Awtar).

Note 2

ask for the jizyah

(2) The statement: "ask for the jizyah": This Hadith is used by Malik, Al-Awza‘i, and those who agree with them to permit taking jizyah from all disbelievers, whether belligerent or non-Arab, People of the Book or otherwise. Shafi‘i said only the People of the Book and Magians are spared, whether Arab or non-Arab. Abu Hanifah said jizyah is taken from all disbelievers except Arab polytheists and their Magians. Ibn al-Humam said: The statement (ﷺ): "the jizyah" means if they are not apostates or Arab polytheists, for these are given only Islam or the sword, as will be clarified. Cited from (Al-Mirqat) and (Nayl al-Awtar).

Note 3

do not grant them the protection of Allah, etc.

(3) The statement: "do not grant them the protection of Allah, etc.": Al-Nawawi said: This is a prohibition of disapproval, as some, like Bedouins or common soldiers, may not recognize its sanctity and violate it. Similarly, "do not judge them by Allah’s ruling" is a prohibition of disapproval. It supports those who say not every mujtahid is correct; the correct one is the one aligned with Allah’s true ruling. Those who say every mujtahid is correct interpret the statement: "for you do not know if you will attain Allah’s ruling" as meaning you cannot be certain a revelation will not come contradicting your judgment, as the Prophet (ﷺ) said in the Hadith of Abu Sa‘id regarding Sa‘d ibn Mu‘adh’s judgment on Banu Qurayzah: "You have judged them with Allah’s ruling." This possibility ceased after the Prophet (ﷺ), so every mujtahid is correct. This is the view of the Mu‘tazilah and some Ahl as-Sunnah, meaning the Ash‘aris. As stated in (Al-Mirqat).

Note 1

قوله

(١) قوله: ولا يكون لهم في الغنيمة والفيء شيء إلخ: في الحديث فوائد، منها: أنه لا يعطى الفيء والغنيمة لأهلالصدقات من هؤلاء الأعراب الذين لم يتحولوا، وكانوا فقراء مساكن، ولا تعطى الصدقات لأهل الفيء والغنيمة،وبه قال الشافعي، وفَرَّق بين مال الفيء، والغنيمة وبين مال الزكاة، وقال: إن للأعراب حقا في الثاني دون الأول،وذهب مالك وأبو حنيفة إلى عدم الفرق بينهما، وأنه يجوز صرف كل واحد منهما في مصرف الآخر، وقوله ﷺ: (ولايكون لهم في الغنيمة والفيء شيء) منسوخ، وإنما كان في أوائل الإسلام. التقطته من (المرقاة) و(نيل الأوطار)۔

Note 2

قوله

(٢) قوله: فسلهم الجرية: والحديث مما يستدل به مالك والأوزاعي، ومن وافقهما على جواز أخذ الجزية من كل كافر،حربيًا كان أو عجميًا، كتابيا أو غير كتابي. وقال الشافعي: لا يقتل إلا من أهل الكتاب والمجوس، أعرابًا كانوا أوأعاجمَ. وقال أبو حنيفة: تؤخذ الجزية من جميع الكفار إلا من مشركي العرب ومجوسهم. وقال ابن الهمام: قوله ﷺ:(الجزية) يعني إن لم يكونوا مرتدين ولا مشركي العرب؛ فإن هؤلاء لا يُقبَل منهم إلا الإسلام أو السيف علىسيتضح، (المرقاة) و(نيل الأوطار) ملتقط منهما.

Note 3

قوله

(٣) قوله: فلا تجعل لهم ذمة الله إلخ: قال النووي: فيه نهي تنزيه؛ فإنه قد ينقضها من لا يعرف حقها، ونتهك حرمتها بعضالأعراب وسواد الجيش، وكذا قوله: (فلا تنزلهم على حكم الله) نهي تنزيه، وفيه حجة لمن يقول: ليس كل مجتهد مصيبًا،بل المصيب واحد، وهو الحق لحكم الله في نفس الأمر، ومن يقول: إن كل مجتهد مصيب يقول معنى قوله: (فإنك لاتدري أتصيب حكم الله بهم): أنك لا تأمن أن ينزل علي وحي، بخلاف ما حكمت، كما قال ﷺ في حديث أبي سعيد منتحكيم سعد بن معاذ في بني قريظة: (لقد حكمت فيهم بحكم الله). وهذا المعنى منتف بعد النبي ﷺ، فيكون كل مجتهدمصيبًا. وهو مذهب المعتزلة وبعض أهل السنة، يعني الأشاعرة. كذا في (المرقاة)

Note 1

اور ہم یہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”ولا يكون لهم في الغنيمة والفيئ شيء“ (ان کے لئے مال غنیمت اور مال فَئی میں سے کچھ نہیں ہے) یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پاس منسوخ ہے اور یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا اور شیخ ابن ہمام نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”فسلهم الجزية“ تم ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو۔ یعنی اگر وہ مرتد نہیں ہیں اور عرب کے مشرکین نہیں ہیں ان سے اسلام یا تلوار کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔

Note 2

4 قولہ : فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ (تو ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو) اس حدیث شریف سے امام مالک، امام اوزاعی اور جو حضرات (اس میں) ان کے موافق ہیں استدلال کرتے ہیں کہ ہر کافر سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عربی ہو یا عجمی، کتابی ہو یا غیر کتابی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ صرف اہل کتاب سے ہی جزیہ قبول کیا جائے گا خواہ وہ عربی ہوں یا عجمی اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جزیہ عرب کے مشرکین و مجوس کے سوا تمام کفار سے لیا جائے گا اور ابن ہمام رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ“ تم ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو جب کہ وہ مرتد اور عرب کے مشرکین نہ ہوں۔ کیونکہ ان سے اسلام یا پھر تلوار اس کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔ عنقریب اس کی وضاحت آئے گی۔ (ماخوذ از مرقات، نیل الاوطار) 5 قولہ : فلا تجعل لهم ذمة الله الخ (تم ان کے لئے اللہ کے ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ مت دو) امام نووی نے کہا ہے کہ یہ نہی تنزیہی ہے کیونکہ کبھی وہ آدمی جو اس کا حق نہیں پہچانتا وہ اس کو توڑ دیتا ہے اور بعض دیہاتی اور فوجی اس کی حرمت کو پامال کر دیتے ہیں اسی طرح ”فلا تنزلهم على حكم الله“ (تم ان کو اللہ کے حکم پر مت اتارو) نہی تنزیہی ہے۔ اس میں ان حضرات کی دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہر مجتہد مصیب نہیں ہے بلکہ مصیب ایک ہی ہوتا ہے اور وہ وہی ہے جو حقیقت میں اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ اور جو یہ کہتے ہیں کہ ہر مجتہد مصیب ہے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”فانك لاتدري اتصيب حكم الله فيهم“ یعنی ”تم بے خوف نہیں ہوسکتے اس امر سے کہ تم نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے خلاف مجھ پر کوئی وحی نازل ہو“ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سعید کی حدیث میں بنی قریظہ کے بارے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم بنانے سے متعلق فرمایا ہے کہ تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا۔ اور یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (وصال) نہیں رہی۔ اب ہر مجتہد مصیب ہے اور یہی مذہب معتزلہ کا ہے اور بعض اہل سنت یعنی اشاعرہ کا ہے۔ (مرقات) 6قولہ: فكان اذا طلع الفجر امسك الخ (پس جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے) ہو سکتا ہے یہ اس صورت میں ہے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کا آغاز کر رہے ہوں اور صلوٰة خوف اس وقت ہے جب کہ کفار کا غلبہ ہو (مرقات) 7قولہ: فان سمع اذاناً كف عنهم الخ (پس اذان سنتے تو رک جاتے) خطابی نے کہا ہے کہ اس میں اس بات کا بیان ہے کہ اذان دین اسلام کا شعار ہے اس کو چھوڑنا جائز نہیں ہے اور اگر کسی شہر والے اس کو چھوڑنے پر اتفاق کر لیں تو بادشاہ کو اس پر ان سے جنگ کرنے کا حق ہے اور ہمارے ائمہ کرام میں امام محمد رحمہ اللہ سے ایسا ہی منقول ہے۔ (مرقات) اور صاحب عمدۃ القاری نے کہا ہے کہ علامہ تیمی نے کہا ہے کہ اذان کی وجہ سے خونریزی روک دی جاتی ہے اس لئے کہ اس میں توحید کی شہادت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے ہے جن کو دعوت پہنچ چکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کو سننے تک ان سے قتال کو روک دیتے تاکہ معلوم ہو کہ یہ لوگ دعوت کو قبول کرنے والوں میں سے ہیں یا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے دین کو دوسرے تمام ادیان پر غالب کرے گا اور آپ ان کے اسلام کی امید رکھتے تھے۔ اور آج تک دعوت پہنچ چکی ہے ان سے اذان کو سننے تک قتال کو روکنا ائمہ کے لئے ضروری نہیں کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ان کی سرکشی معلوم ہو چکی ہے اس لئے ان کے بارے میں اس موقع کا فائدہ اٹھانا ہی مناسب ہے۔ 8قولہ: وان لم يسمع أذاناً أغار عليهم (اور اگر اذان نہیں سنتے تو ان پر حملہ کر دیتے) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس کو دعوت اسلام پہنچ چکی ہو اس کو دوبارہ دعوت دئے بغیر اس سے قتال کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیث شریف میں اور ”باب الدعوة فى القتال“ میں جو حدیث شریف گزری ہے دونوں کو اس طرح جمع کیا جا سکتا ہے کہ دوبارہ دعوت دینا شرط نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ (فتح القدیر، نیل الاوطار، ہدایہ) 9قولہ: اذا رايتم مسجدا او سمعتم مؤذنا فلا تقتلوا احدا (جب تم کوئی مسجد دیکھو یا موذن کو سنو تو کسی کو قتل مت کرو) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کسی شہر میں صرف مسجد کا پایا جانا وہاں کے باشندگان کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے۔ اگرچہ ان سے اذان سنائی نہ دے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوجی دستوں کو حکم دیا کرتے کہ دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کی وجہ سے جنگ سے رک جاؤ۔ 1۔ مسجد کا پایا جانا۔ 2۔ اذان کا سنائی دینا۔ (نیل الاوطار) 1قولہ: وری بغیرہا (دوسرے غزوہ سے توریہ کرتے تھے) ابن الملک نے کہا اس کے سوا دوسری چیز سے اس کو چھپا دیتے تھے اور یہ ظاہر کرتے کہ آپ ﷺ کسی دوسرے غزوہ کا ارادہ فرما رہے ہیں یہ اس لئے کہ اس میں احتیاط دور اندیشی اور دشمن کو بے خبر رکھنا اور اس جاسوس سے حفاظت مقصود ہے جو اس پر مطلع ہو کر دشمن کو اس کی خبر دے گا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا توریہ فرمانا بطور کنایہ اس طرح ہوتا کہ مثال کے طور پر آپ ﷺ غزوہ مکہ کا ارادہ فرماتے تو لوگوں سے خیبر کی حالت اور اس کے راستوں کی کیفیت دریافت فرماتے۔ آپ ﷺ صراحت کے ساتھ اس طرح نہیں فرماتے تھے کہ میں فلاں مقام کے باشندوں کے ساتھ جنگ کا ارادہ رکھتا ہوں جب کہ آپ کا ارادہ کسی دوسروں کے ساتھ جنگ کرنے کا ہو۔ کیونکہ یہ جھوٹ ہے جو درست نہیں۔ (مرقات) 2قولہ: الحرب خدعة (جنگ ایک تدبیر ہے) امام نووی نے کہا اس میں زیادہ فصیح لغت خاء کے فتحہ اور دال کے سکون کے ساتھ خدعۃ ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لغت ہے کفار کے ساتھ جنگ میں جس طرح بھی ہو تدبیر کے جواز پر سب کا اتفاق ہے مگر یہ کہ اس میں عہد شکنی یا نقض امن ہو۔ (تو یہ جائز نہیں) حدیث شریف سے تین چیزوں میں کذب کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ طبری نے کہا ہے کہ جنگ میں کذب بطور تعریض جائز ہے اور حقیقت میں کذب جائز نہیں۔ اور بظاہر حقیقت میں کذب جائز معلوم ہوتا ہے لیکن کنایہ پر اکتفا کرنا افضل ہے۔ 3قولہ: اذا غزا يسقين الماء ويداوين الجرحى (جب آپ جہاد کرتے تو وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کا علاج کرتیں) ہدایہ میں ہے عورتوں کو اور قرآن شریف کو مسلمانوں کے ساتھ لے جانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ لشکر ایسا بڑا ہو جس میں امن ہو۔ اس لئے غالبا اس میں سلامتی ہی ہوا کرتی ہے اور غالب چیز واقع کے درجہ ہوتی ہے البتہ ایسے سریہ میں ان کو لے جانے مکروہ ہے جس میں امن کی توقع نہ ہو یعنی بوڑھی عورتیں اپنے مناسب خدمت انجام دینے کے لئے بڑے لشکر میں جا سکتی ہیں۔ جیسے پکانا، پانی پلانا اور علاج معالجہ کرنا۔ البتہ جوان عورتوں کا گھر میں رہنا ہی دفع فتنہ کا زیادہ باعث ہے۔ اور عورتیں خود راست طور پر جنگ نہیں کر سکتیں کیونکہ اس سے مسلمانوں کی کمزوری و ذلت معلوم ہوتی ہے الا یہ کہ ضرورت ہو اور ان کو ہمبستری اور خدمت کی خاطر لے جانا مکروہ ہے۔ اگر ان کو لے جانا واقعی ضروری ہو تو باندیوں کو ساتھ لے جائیں نہ کہ آزاد عورتوں کو۔ صاحب عمدۃ القاری نے کہا اگر تم کہو یہ کیوں کر درست ہوگا؟ میں کہوں گا کہ یہ ان میں سے عمر رسیدہ عورتوں کے لئے درست ہے کیونکہ زخم کے مقام کو مس کرنے سے کوئی لذت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں نفس ہیبت زدہ ہو جاتا ہے۔ اس کا چھونا، چھونے والے اور جس کو مس کیا گیا ہے ان دونوں کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ البتہ عمر رسیدہ عورتوں کے علاوہ تو وہ بغیر ہاتھ لگائے ان کا علاج کر سکتی ہیں وہ دوا ⟦?⟧ اور کوئی دوسرا اس کو زخم پر رکھے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بغیر جسم کو چھوئے کے خود دوا رکھیں اور اس کی دلیل علماء کا اتفاق ہے کہ عورت جب ...... ...... مر جائے اور اس کو غسل دینے والی عورت نہ مل سکے تو آدمی اس کو راست طور پر غسل نہیں دے سکتا بلکہ اس کو کسی حائل چیز کے ذریعہ دے گا۔ یہ حسن بصری، امام نخعی، امام زہری، امام قتادہ اور امام اسحق کے قول کے مطابق ہے اور سعید بن مسیب، امام مالک، فقہاء کوفہ اور امام احمد رحمہم اللہ کے پاس پاک مٹی سے تیمم کرائے گا اور شافعیہ کے پاس یہی (تیمم کرنا) زیادہ راجح ہے۔ اور امام اوزاعی نے کہا ہے اس کو ویسے ہی دفنایا جائے گا۔ اور تیمم نہیں کرائے گا اور یہ بات بھی کہی گئی کہ علاج کرنے اور میت کو نہلانے کے درمیان فرق ہے کہ غسل دینا ایک عبادت ہے، جب کہ دوا اور علاج کرنا ایک ضرورت ہے اور ضرورتیں ممنوعہ چیزوں کو مباح کر دیتی ہیں۔ 4قولہ: اقتلوا شيوخ المشركين الخ (مشرکین کے بڑوں کو قتل کرو) اس میں (شیوخ سے) مراد وہ جو بچوں کے مقابل ہوں اب رہا شیخ فانی (ایسا بوڑھا جو موت کے دہانے پر ہو) تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا مگر وہ جب کہ رائے دیتا ہو۔ (مرقات) 5قولہ: لا تقتلوا شيخا فانيا الخ (کسی شیخ فانی کو مت قتل کرو) ہدایہ میں ہے کسی عورت کو قتل نہ کرو اور نہ کسی بچے کو اور نہ کسی شیخ فانی کو اور نہ کسی اپاہج کو اور نہ کسی نابینا کو کیونکہ قتل کو جائز کرنے والی چیز ہمارے پاس جنگ ہے اور یہ ان لوگوں سے نہیں ہوتی اسی لئے ایسے شخص کو قتل نہیں کیا جائے گا جس کا ایک حصہ سوکھ گیا ہو اور نہ اس شخص کو جس کا دایاں ہاتھ یا ہاتھ اور پیر مخالف سمت سے کاٹ دئے گئے ہوں۔ عمر رسیدہ، اپاہج اور نابینا کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ کا ہم (احناف) سے اختلاف ہے کیونکہ ان کے پاس قتل کو جائز کرنے والی چیز کفر ہے اور ان پر حجت وہ شئے ہے جس کو ہم نے بیان کیا ہے اور یہ بات صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں، عورتوں اور شل کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قتل کی ہوئی عورت کو ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا افسوس یہ عورت تو لڑنے والی نہیں تھی پھر اس کو کیوں قتل کیا گیا؟ 6قولہ: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قتل النساء والصبيان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا)۔ شیخ ابن ہمام نے کہا بجز نسائی کے تمام اصحاب صحاح ستہ، نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت مقتول پائی گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا، انہوں (شیخ ابن ہمام) نے کہا میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی حرمت پر اجماع ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یزید بن ابی سفیان کو ملک شام بھیجتے وقت وصیت فرمائی اور کہا بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل مت کرو۔ (حدیث) ابن ہمام نے کہا البتہ جب کے بارے میں، ہم نے کہا کہ ان کو قتل نہ کیا جائے اگر وہ جنگ کریں تو پھر ان کو قتل کیا جائے گا جیسے مجنون، بچہ، عورت، بوڑھے اور راہب (پادری)۔ مگر بچہ اور مجنون کو ان کے لڑنے کی حالت میں قتل کردیا جائے گا البتہ ان کے علاوہ عورتیں، پادری اور ان جیسے لوگ، تو ان کو اس وقت قتل کیا جائے گا جب کہ یہ قیدی بنائے جانے کے بعد جنگ کریں۔ حکم ان عورت کو قتل کردیا جائے گا اگرچہ وہ خود نہ لڑے۔ اسی طرح حکمران اور بچہ اور نیم پاگل حکمران کا حکم ہے کیونکہ بادشاہ کو قتل کرنے میں ان کی شوکت کو توڑنا ہے۔ (مرقات) 7قولہ: هم منهم الخ (وہ لوگ انہی میں سے ہیں) صاحب عمدۃ القاری نے کہا ہے اگر تم کہو کہ یہ اس روایت کے خلاف ہے جس کو امام بخاری نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا تو میں کہوں گا خطابی نے کہا آپ کا ارشاد ”هم منهم“ (وہ لوگ ان میں سے ہیں) سے دین کے حکم میں اس میں سے ہونا مراد ہے کیونکہ کافر کے بچے پر کفر ہی کا حکم عائد ہوگا۔ اس ارشاد سے عمداً و قصداً ان کا خون کرنے کو مباح قرار دینا مقصود نہیں ہے۔ یہ حکم اس وقت ہے جب کہ ان کے آباء (باپ دادا) تک ان کے بغیر پہنچنا ممکن نہ ہو۔ جب وہ اپنے آباء و اجداد کے ساتھ رہنے کی وجہ سے قتل کردئے گئے تو ان کے قتل کرنے میں ان لوگوں پر کوئی چیز نہیں۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے جو منع فرمایا ہے تو وہ یہ ہے کہ بالقصد ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ جب عورتیں جنگ کریں تو ممانعت ختم ہو جائے گی اور کافروں کے خون حلال ہو جائیں گے مگر جان کی حفاظت کا معاہدہ ہو (تو حلال نہیں)۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کی بناء پر جس کی امام ترمذی نے روایت کی ہے جس میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت ہے تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ......