اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5796
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے لمبے بال تھے پس جب مجھ کو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: نحوست 2 نحوست، انہوں نے کہا: میں واپس لوٹ آیا
اور ان کو کاٹ دیا، پھر دوسرے دن حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا میری مراد تمہارے 3 لئے یہ نہیں
تھی اور یہ بہتر ہے۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4190 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 2
(2) The statement: "evil": With a stressed "dhal" in both, a light "ba," and after the "alif" a similar letter. "Evil" refers to misfortune, and it is said: "evil" refers to hardships. Thus, it is stated in Bazl al-Majhood.
Note 3
(3) The statement: "I did not mean you": Because long hair is not blameworthy, nor is there a command to cut beyond a specific length, but cutting the hair is better than growing it. This is derived from Al-Mirqat.
Note 2
(٢) قوله: ذباب: بضم الذال المعجمة فيهما وتخفيف الباء الموحدة وبعد الألف مثلها، والذباب الشوم، ويقال:الذباب الشدائد. كذا في (بذل المجهود).
Note 3
(٣) قوله: إني لم أعنك: لأن طول الشعر ليس مذموما، ولا جاء أمر بقطع ما زاد على مقدار معلوم منه، لكن جز الشعرأحسن من تربيته. التقطته من (المرقاة).
Note 1
صاحب بذل مجہود نے کہا یہ یعنی بالوں کو کم کرنا اس کو دراز رکھنے سے زیادہ اچھا ہے اگرچہ کہ لمبے بال رکھنا جائز ہے۔ امام طحاوی نے مشکل الآثار میں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث شریف میں اس بات کی دلیل ہے کہ بالوں کو کاٹنا ان کو بڑھانے سے زیادہ اچھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شئے کو احسن قرار دیں تو کوئی چیز بھی اس سے احسن نہیں ہوسکتی اور اس احسن کو اختیار کرنا اور اس کے مخالف چیز کو ترک کر دینا واجب ہے۔