اردو
سیدنا بشیر بن میمون رضی اللہ عنہ اپنے چچا حضرت اُسامہ بن
اخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ایک صاحب جنکو اصرم کہا جاتا تھا وہ ان چند لوگوں
میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اصرم آپ نے فرمایا: بلکہ تم زرعہ ہو۔ (ابوداؤد)۔
اور انہوں نے یہ بھی کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاص، عزیز1، عتل،
شیطان، حکم، غراب، حباب اور شہاب2 ناموں کو تبدیل کر دیا۔ امام ابوداؤد نے کہا ہے میں نے مختصر
کرنے کیلئے انکی سندوں کا ذکر نہیں کیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4954 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “Aziz”: Because it is one of Allah’s names, it should be Abdul-Aziz, as a servant is described with humility and submission, while might belongs to Allah. Similarly, one should not be named Hamid, as it is one of Allah’s names and attributes in an intensive form; rather, Abdul-Hamid and the like. As stated in Al-Mirqat.
Note 2
(2) His statement: “and Shihab”: It appears that if added to something like religion, it is not disliked. As stated in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: عزيز : لأنه من أسماء الله تعالى، فينبغي أن يقال عبد العزيز؛ لأن العبد موصوف بالذل والخضوع والعزة الله تعالى، وكذا لا ينبغي أن يسمي بحميد؛ فإنه من أسماء الله وصفاته على وجه المبالغة، فلا يقال: إلا عبد الحميد وكذلك الكريم وأمثاله. كذا في «المرقاة».