اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 553
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ انصار
کی ایک عورت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وہ حیض کا غسل کس طرح کیا کرے؟ تو
آپ نے اس کو غسل کس طرح کیا جائے تفصیل وار بتلایا پھر فرمایا کہ مشک میں یا کسی اور خوشبو میں
بسایا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرنی چاہئے، (دوسری حدیث میں ”مُمَسَّكَةٌ“ کے
لفظ سے جس کے معنی ”مشک میں بسا ہوا کپڑا“ کے ہیں اسی کی تائید ہوتی ہے) اس عورت نے پوچھا
کہ میں کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ نے ارشاد فرمایا! اس سے پاکی حاصل کرو، پھر اس نے
پوچھا کہ میں اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل
کرو۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ اس
خوشبودار کپڑے کو خون کے اثرات اور نشانات کے مقام پر مل لینا چاہئے)۔ (اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 313 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 332a (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Take a piece of musk..." – Al-Aini in Umdat al-Qari mentioned in his explanation of deriving legal rulings from this that it is recommended for a woman who is performing ghusl (ritual bath) after menstruation or childbirth to use perfume on all the areas of her body that were affected by blood. Al-Mahmali stated that this is because it helps in conceiving quickly and also prevents bad odors. There is a difference of opinion regarding when it should be used. Some say it should be applied after the ghusl, while others say it should be applied before. It is also recommended to use perfume on a woman's private parts by taking a piece of cotton or something similar, applying musk or something similar on it, and inserting it into her private parts after the ghusl, with the same practice recommended for a woman after childbirth.
Note 1
(۱) قوله: خذي فرصة من مسك إلخ : قال العيني في عمدة القاري في بيان استنباط الأحكام فيه استحباب التطيب للمغتسلة من الحيض والنفاس على جميع المواضع التي أصابها الدم من بدنها. قال المحاملي: لأنه أسرع إلى العلوق وأدفع للرائحة الكريهة، واختلف في وقت استعمالها لذلك. فقال بعضهم: بعد الغسل. وقال آخرون: قبله. وفيه استحباب تطيب فرج المرأة بأخذ قطعة من صوف ونحوها، وتجعل عليها مسكا أو نحوه، وتدخلها في فرجها بعد الغسل والنفساء مثلها.
Note 1
علامہ عینی رحمة اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں استنباط احکام کے بیان میں کہا ہے کہ اس حدیث میں اس چیز کی دلیل ہے کہ حیض و نفاس سے فارغ ہوکر غسل کرنے والی عورت کے لئے مستحب ہے کہ اس کے بدن میں جن جگہوں کو خون لگا تھا ان پر خوشبو لگائے۔ اور محاملی نے کہا کہ خوشبو لگانے سے جلد حمل قرار پاتا ہے اور بہت جلد بدبو دور ہوتی ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ خوشبودار کپڑا کب استعمال کیا جائے، بعضوں نے کہا کہ غسل حیض یا نفاس کے بعد استعمال کیا جائے اور دوسروں نے کہا ہے کہ غسل کے پیشتر استعمال کیا جائے اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عورت کے لئے مستحب ہے کہ اپنی شرمگاہ کو ایسے کپڑے سے خوشبودار کرے جس کو مشک یا کسی اور خوشبو میں بسایا گیا ہو، اور غسل کے بعد اس خوشبودار کپڑے کو اپنی شرمگاہ میں رکھ لے اور نفاس والی عورت کے لئے بھی یہی مستحب ہے۔