ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص عورت کے چار شاخوں (یعنی دونوں ہاتھ اور
دونوں پاؤں میں) بیٹھ جائے پھر کوشش کرے یعنی جماع کرے تو اس پر غسل واجب ہوگا اگرچہ
منی نہ نکلے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور بخاری کی روایت بھی اسی طرح ہے۔)
And the words of Allah, the Almighty: "And if you are in a state of Janabah (major impurity), then purify yourselves" and the verse: "And do not approach them (wives) until they are pure" (Al-Ma'idah: 6) and the verse: "Or you have touched the women" (Al-Baqarah: 222, Al-Ma'idah: 1)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 291 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 348b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: چار شاخوں سے مراد عورتوں کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ
بوقت جماع ذکر کے سر داخل ہو جانے سے غسل لازم ہو جاتا ہے خواہ منی نکلے یا نہ نکلے، خلفاء راشدین
اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانی سے پانی واجب ہوتا ہے، (یعنی غسل انزالِ منی سے واجب ہوتا ہے
بغیر انزال منی کے جماع کرنے سے غسل لازم نہیں آتا (اس کی روایت مسلم نے کی ہے) امام محی السنۃ
رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا ہے کہ منی سے غسل کا وجوب احتلام میں
ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے، یعنی خواب میں جماع کرتے ہوئے دیکھے تو بلا انزال غسل
واجب نہیں لہذا یہ حکم احتلام کے ساتھ مخصوص ہوگا۔)
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے کہا کہ خروج منی سے غسل
واجب ہوتا ہے اور اگر انزال نہ ہوا اور جماع کرے تو غسل واجب نہیں، (یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا،
پھر اس کی ممانعت کر دی گئی ہے) اس لئے اگر جماع کرے اور انزال نہ ہو تو بھی غسل واجب ہے۔
(اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، دارمی اور امام احمد نے کی ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح بتایا ہے۔)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ام سلیم نے حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خدا حق بات سے نہیں شرماتا اگر عورت مثل مرد
جماع کا خواب دیکھے تو کیا اس پر غسل واجب ہے؟ فرمایا کہ ہاں! بشرطیکہ منی نظر آئے، حضرت ام سلمہ رضی
اللہ عنہا نے شرما کر منہ ڈھانک لیا اور عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا عورت کو بھی احتلام ہوا
کرتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ہوتا ہے، تعجب ہے تم پر (اے ام سلمہ رضی اللہ عنہا) اگر عورت کو
منی نہ ہوتی تو بچہ کس طرح اس کے مشابہ ہوتا (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)
اور مسلم نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ مرد کی منی
گاڑھی اور سفید ہوتی ہے اور عورت کی منی پتلی اور زرد تو ان دونوں میں جس کی منی غالب ہو یا سبقت
کر جائے، بچہ اسی کے مشابہ ہوا کرتا ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نیند سے بیدار ہو کر جسم یا
کپڑے پر تری دیکھے اور اس کو احتلام یاد نہ ہو، آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ غُسل کر لے اور ایک ایسے
شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کو احتلام یاد ہو اور تری نہ پائے آپ نے ارشاد فرمایا: اس پر غُسل
واجب نہیں، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر عورت
کو ایسا اتفاق پیش آئے تو کیا اس پر بھی غُسل واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں غُسل واجب ہے کیونکہ
عورتیں (پیدائش اور طبائع میں) مردوں کے مانند ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی
ہے البتہ دارمی اور ابن ماجہ نے صرف (لا غُسل عليه) تک روایت کی ہے، خطابی کا بیان ہے کہ اس
حدیث میں قیاس کا اثبات اور ایک نظیر کو دوسرے نظیر کے حکم سے الحاق کا ثبوت ملتا ہے۔)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب مرد کا ختان (ذکر کا سر) عورت کے ختان (فرج
کے ابتدائی) حصہ میں سے گزر جائے (اگرچہ کہ انزال نہ ہو) تو غُسل واجب ہوگا، حضرت ام
المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا پھر ہم
دونوں نے غُسل کیا۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب منی تم سے کود کر نکلے تو غسل کر لیا کرو (اس کی روایت ابوداؤد نے کی
ہے۔)
اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت میں ہے کہ جب منی کود کر
نکلے تو غسل کر لیا کرو اور جب کود کر نہ نکلے تو غسل نہ کرو۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں مجھ سے مذی اکثر نکلا کرتی تھی
تو آپ سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھولیا
کرو، اور نماز کے لئے جس طرح وضوء کرتے ہو، ویسا ہی وضوء کیا کرو، اور جب تم سے منی کود کر نکلے تو
غسل کیا کرو۔ (اس کی روایت نسائی نے اور امام احمد نے اپنی مسند میں کی ہے اور اس کے تمام راوی
ثقہ ہیں۔)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
مکہ معظمہ فتح ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جماع کے بعد) انزال نہ ہونے کی صورت میں
غسل نہیں فرماتے تھے، لیکن فتح مکہ معظمہ کے بعد آپ نے خود بھی غسل فرمایا اور لوگوں کو بھی غسل کا حکم
دیا۔ (اور غسل نہ کرنے کا حکم منسوخ ہوگیا)۔ (اس کی روایت ابن حبان نے اپنی صحیح میں کی ہے۔)
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بروایت والد اپنے دادا سے
روایت کرتے ہیں کہ کسی سائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ غسل تو صرف منی کے نکلنے
سے واجب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: جب مرد کا محل ختنہ عورت کے محل ختنہ سے مل جائے اور حشفہ
(یعنی ذکر کا سر) غائب ہوجائے تو یہ غسل کو واجب کر دیتا ہے، انزال ہو یا نہ ہو۔ (اس کی روایت طبرانی
نے معجم وسط میں کی ہے اور امام ابو محمد عبداللہ بن وہب نے اپنی مسند میں اسی طرح روایت کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا جنبی کے لئے فرض ہے، دارقطنی، بیہقی اور حاکم نے اس کی
(حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْمَهْدِيُّ،
روایت کی ہے، دارقطنی اور حاکم کا بیان ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور ہر دو کے راوی ضعیف ہیں،
لیکن علامہ عینی نے امام تقی الدین سے (اس حدیث کے ضعف کی تحقیق میں) نقل کیا ہے کہ امام
موصوف کا بیان ہے کہ حدیث مذکور کی روایت بلاواسطہ برکتہ راوی کے طریقہ کے علاوہ اور دیگر
طریقوں سے کی گئی ہے جس کو امام ابوبرکہ خطیب نے دارقطنی کی سند سے بیان کیا ہے اور جس کی سند
یہ ہے:)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جس نے
کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا بھول گیا، کیا وہ (نماز کا) اعادہ کرلے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں اگر وہ
جنب ہو تو نماز لوٹائے، اس لئے کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا غسل میں فرض ہے۔ (اس کی روایت
بیہقی نے کی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے بھی ایسی ہی روایت کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ جب تم کلی کرنا اور
ناک میں پانی لینا بھول جاؤ اور تم حالت جنابت میں ہو تو اپنی نماز کو لوٹا لو۔ (اس کی روایت عبد
الرزاق اور سعید بن منصور نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہوا کرتی ہے اس لئے تم بالوں کو (اس طرح) دھویا
کرو کہ (بالوں کے نیچے تک پانی پہنچ جائے) اور بدن کو (اس طرح) پاک و صاف کر لیا کرو کہ بال
برابر جگہ بھی خشک نہ رہنے پائے۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے) علامہ عینی
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 248 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 106 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 597 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ناک میں بھی بال ہوا کرتے ہیں اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ
ناک میں پانی لینا بھی فرض ہے اور اہل لغت کا بیان ہے کہ بشرہ میں بدن کا تمام ظاہری حصہ داخل ہے
اس طرح اس حدیث سے غُسل جنابت میں کلی کرنے کی فرضیت بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ منہ ظاہر
بدن میں داخل ہے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے غُسل جنابت میں ایک بال کی جگہ بھی چھوڑ دی کہ اس کو نہ دھویا
ہو تو اس کو دوزخ میں قسم قسم کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں
اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن ہوگیا، میں اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن ہوگیا، اس جملہ کو تین بار فرمایا (یعنی
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 249 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فمن ثم عاديت إلخ : قال الشيخ ابن حجر : ولا يخفي أن فعله إذا كان مخالفًا لسنته وبقية الخلفاء من عدم الحلق إلا بعد فراغ النسك يكون رخصة لا سنة.
Note 1
غُسل میں سر کے بالوں کے نیچے تک پانی نہ پہنچنے کی وعید سن کر میں نے اپنے سر کے بالوں سے دشمن
جیسا معاملہ کیا، جس طرح ایک دشمن دوسرے دشمن کو مار ڈالتا ہے، اسی طرح میں نے اپنے سر کے بال
مونڈھ دیئے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد کا سکوت صحت کی
علامت ہے اور تلخیص حبیر میں مذکور ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔
ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہوتا
ہے کہ آپ سر منڈوایا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تینوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم
سر میں بال رکھتے تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فعل رخصت اور اجازت پر محمول ہوگا خلاصہ یہ ہے کہ
تمام سر کا منڈوانا مستحب اور تمام سر کے بالوں کا رکھنا سنت ہوگا لیکن اس بحث سے حج کا مسئلہ خارج
ہوگا وجہ یہ ہے کہ احکام حج سے فراغت کے بعد سر کا منڈوانا سنت ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کیا کرتے تھے تو (یوں) شروع فرماتے کہ
دونوں ہاتھوں کو (پہنچوں تک) دھو لیتے پھر داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ کو
دھوتے، اور پھر ایسا وضو فرماتے جیسا کہ نماز کے لئے کیا جاتا ہے، پھر پانی لے کر پانی کو اپنی انگلیوں
کے ذریعہ بالوں کی جڑوں میں پہنچاتے اور جب یقین ہو جاتا کہ تمام بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ چکا
ہے تو تین چلو اپنے سر پر ڈالتے، اس کے بعد تمام جسم پر پانی بہاتے اور پھر دونوں پیروں کو دھو لیتے تھے
۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور ابوداؤد طیالسی نے بھی اس کی روایت اسی طرح کر کے یہ اضافہ کیا
ہے کہ جب فارغ ہو جاتے تو دونوں پیروں کو دھو لیتے تھے)۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو دونوں ہاتھوں سے شروع
فرماتے یعنی ہاتھوں کو پہنچوں تک دھولیتے، پھر جسم کے ان حصوں کو دھوتے جہاں عموماً میل جمع ہوا کرتا
ہے (یعنی اطراف شرم گاہ چڈا اور بغل اور ران پر) پانی بہاتے اور جب اچھی طرح دھولیتے تو دیوار پر
ہاتھوں کو رگڑتے پھر وضو فرماتے اور اپنے سر پر پانی بہاتے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ اگر تم
چاہو تو میں تمہیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کے نشانات بتلادوں جہاں آپ
غسل جنابت کے وقت دیوار پر رگڑتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ انصار
کی ایک عورت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وہ حیض کا غسل کس طرح کیا کرے؟ تو
آپ نے اس کو غسل کس طرح کیا جائے تفصیل وار بتلایا پھر فرمایا کہ مشک میں یا کسی اور خوشبو میں
بسایا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرنی چاہئے، (دوسری حدیث میں ”مُمَسَّكَةٌ“ کے
لفظ سے جس کے معنی ”مشک میں بسا ہوا کپڑا“ کے ہیں اسی کی تائید ہوتی ہے) اس عورت نے پوچھا
کہ میں کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ نے ارشاد فرمایا! اس سے پاکی حاصل کرو، پھر اس نے
پوچھا کہ میں اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل
کرو۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ اس
خوشبودار کپڑے کو خون کے اثرات اور نشانات کے مقام پر مل لینا چاہئے)۔ (اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 313 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 332a (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Take a piece of musk...
(1) The statement: "Take a piece of musk..." – Al-Aini in Umdat al-Qari mentioned in his explanation of deriving legal rulings from this that it is recommended for a woman who is performing ghusl (ritual bath) after menstruation or childbirth to use perfume on all the areas of her body that were affected by blood. Al-Mahmali stated that this is because it helps in conceiving quickly and also prevents bad odors. There is a difference of opinion regarding when it should be used. Some say it should be applied after the ghusl, while others say it should be applied before. It is also recommended to use perfume on a woman's private parts by taking a piece of cotton or something similar, applying musk or something similar on it, and inserting it into her private parts after the ghusl, with the same practice recommended for a woman after childbirth.
Note 1
قوله
(۱) قوله: خذي فرصة من مسك إلخ : قال العيني في عمدة القاري في بيان استنباط الأحكام فيه استحباب التطيب للمغتسلة من الحيض والنفاس على جميع المواضع التي أصابها الدم من بدنها. قال المحاملي: لأنه أسرع إلى العلوق وأدفع للرائحة الكريهة، واختلف في وقت استعمالها لذلك. فقال بعضهم: بعد الغسل. وقال آخرون: قبله. وفيه استحباب تطيب فرج المرأة بأخذ قطعة من صوف ونحوها، وتجعل عليها مسكا أو نحوه، وتدخلها في فرجها بعد الغسل والنفساء مثلها.
Note 1
علامہ عینی رحمة اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں استنباط احکام کے بیان میں کہا ہے کہ اس حدیث
میں اس چیز کی دلیل ہے کہ حیض و نفاس سے فارغ ہوکر غسل کرنے والی عورت کے لئے مستحب ہے کہ
اس کے بدن میں جن جگہوں کو خون لگا تھا ان پر خوشبو لگائے۔ اور محاملی نے کہا کہ خوشبو لگانے سے جلد
حمل قرار پاتا ہے اور بہت جلد بدبو دور ہوتی ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ خوشبودار کپڑا کب
استعمال کیا جائے، بعضوں نے کہا کہ غسل حیض یا نفاس کے بعد استعمال کیا جائے اور دوسروں نے کہا
ہے کہ غسل کے پیشتر استعمال کیا جائے اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عورت کے لئے
مستحب ہے کہ اپنی شرمگاہ کو ایسے کپڑے سے خوشبودار کرے جس کو مشک یا کسی اور خوشبو میں بسایا گیا ہو،
اور غسل کے بعد اس خوشبودار کپڑے کو اپنی شرمگاہ میں رکھ لے اور نفاس والی عورت کے لئے بھی یہی
مستحب ہے۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں اپنے سر کے بالوں کی چوٹیوں کو خوب مضبوط گوندھتی ہوں کیا غسل
جنابت کے وقت ان کو کھول دیا کروں؟ تو فرمایا: نہیں، تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ سر پر تین چلو پانی
اس طرح ڈالو کہ (پانی بالوں کی جڑوں تک اچھی طرح پہنچ جائے) پھر باقی بدن پر پانی بہا کر (اس
طرح) پاک ہو جایا کرو (کہ جسم میں بال برابر جگہ بھی خشک رہنے نہ پائے)۔ (اس کی روایت مسلم
نے کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عورتوں کے سر کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں اور وہ بوقت غسل اپنے سر کے بالوں پر
اس طرح پانی ڈالیں کہ بالوں کی جڑیں اچھی طرح تر ہو چکی ہوں تو ایسی صورت میں عورتیں اپنے بالوں
کو نہ کھولیں، اگر یہ معلوم ہے کہ بالوں کو کھولے بغیر جڑیں تر نہ ہوں گی تو پھر بالوں کا کھولنا ضروری ہے،
بخلاف مردوں کے کہ وہ بوقت غسل اپنے سر کے بال ضرور کھول لیا کریں۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عورت غسل جنابت
کرے تو وہ اپنے سر کے بال نہ کھولے بلکہ بالوں کی جڑوں میں پانی بہائے اور جڑوں کو تر کرے
۔(اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔)
عطاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ان سے ایسی عورت کے متعلق سوال کیا گیا
جس کو غسل جنابت کی ضرورت پیش آگئی ہو اور اس کے سر کی چوٹیاں گوندھی ہوئی ہوں تو کیا وہ اسے
کھول دے؟ عطاء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ وہ سر پر اچھی طرح پانی ڈالے کہ جس سے
اس کے سر کے بالوں کی جڑیں خوب بھیگ جائیں۔ (اس کی روایت دارمی نے کی ہے)۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ایک مد (یعنی ایک سیر مقدار) پانی سے وضوء اور ایک صاع (یعنی چار سیر) سے لے کر
پانچ مد (یعنی پانچ سیر پانی سے) غسل فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے
بالاتفاق کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 201 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 325a (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سیر مقدار پانی سے
وضوء اور 4 سیر سے لے کر 5 سیر مقدار پانی سے غسل فرمایا کرتے، اس کے بارے میں علامہ شامی رحمۃ
اللہ علیہ نے رد المحتار میں بحوالہ حلیہ یہ تحقیق بیان فرمائی ہے کہ وضوء اور غسل میں پانی کی مقدار کے متعلق
بہت سے علماء نے مسلمانوں کا یہ اجماع نقل کیا ہے کہ وضوء اور غسل میں پانی کی کوئی خاص مقدار مقرر
نہیں ہے البتہ ظاہر الروایہ میں وضوء میں کم سے کم پانی کی مقدار ایک سیر اور غسل میں 4 سیر سے لے کر
5 سیر جو بیان کی گئی ہے وہ بخاری اور مسلم کی اسی زیر بحث حدیث کی بناء پر ہے، لیکن یہ ایسی مقدار نہیں
کہ جس کی پابندی لازمی ہے بلکہ یہ وضوء اور غسل کی کم سے کم مسنون مقدار ہے، چنانچہ بحر میں لکھا ہے کہ
جس کسی کا وضوء یا غسل اس سے کم مقدار پانی سے پورا ہو جاتا ہے تو اس مقدار سے کم سے اس کا وضوء یا
غسل جائز ہے اور اگر یہ مقدار اس کے لئے کافی نہیں تو اس مقدار سے زیادہ پانی استعمال کر سکتا ہے
کیونکہ انسانوں کی طبیعتیں اور احوال مختلف ہوا کرتے ہیں، بدائع اور رد المحتار اور دیگر کتابوں میں یہی توضیح
مذکور ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ پانی کے استعمال میں اسراف نہیں ہونا چاہئے جہاں تک ہو سکے پانی کافی
احتیاط سے استعمال کیا کریں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے استعمال میں اسی احتیاط
کو عملاً کر کے دکھایا ہے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار شامی سے لیا گیا ہے۔)
موسی الجُہَنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجاہد رضی اللہ عنہ کے
پاس ایک بڑا برتن لایا گیا، میں نے اس کے متعلق اندازہ کیا کہ اس میں آٹھ رطل (یعنی 4 سیر) کی
گنجائش تھی، پھر کہا کہ مجھ سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اس برتن بھر پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے)۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا کہ وضوء میں دو رطل (یعنی ایک سیر) پانی کافی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے
فرمایا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے جو ہمارے درمیان
میں رکھا جاتا تھا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانی لینے میں جلدی فرماتے تھے تو میں کہتی تھی کہ
میرے لئے چھوڑ دیئے، میرے لئے چھوڑ دیئے، ام المومنین فرماتی ہیں کہ دونوں جنابت کی حالت
میں ہوتے تھے جس کے لئے غسل کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی
ہے۔)
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کے بعد وضوء نہیں فرمایا کرتے تھے (پہلے کئے ہوئے وضوء پر اکتفا فرماتے
تھے)۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور اس حدیث کے اسناد صحیح
ہیں۔)
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم غسل جنابت میں سر مبارک کو خطمی سے (جو ایک قسم کی خوشبودار بوٹی ہے) دھولیا کرتے
تھے اور آپ اسی پر اکتفا فرماتے اور اس پر پانی نہ ڈالتے (یعنی خطمی کے نکالنے کے لئے جس پانی کو سر
پر ڈالتے اسی پر کفایت فرماتے اور نہاتے وقت سر دھونے کے لئے مزید پانی استعمال نہیں فرماتے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میدان میں (برہنہ) غسل کررہا ہے تو آپ منبر پر چڑھے اور بعد حمد وثنا کے
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بیحد حیا والے ہیں اور بہت پردہ پوش ہیں، حیا اور پردہ کرنے کو دوست رکھتے ہیں
،جب تم میں سے کوئی شخص غسل کرے تو پردے میں کیا کرے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے
کی ہے۔)
اور نسائی کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ
نہایت پردہ پوش ہیں، جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کرلے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا کہ میں نے غسل جنابت کیا اور فجر کی نماز پڑھی، اس
کے بعد دیکھا کہ ناخن برابر جگہ چھوٹ گئی ہے کہ جہاں پانی نہیں پہنچا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا اگر تم اس جگہ پر غسل کے وقت بھیگا ہوا ہاتھ جس سے پانی ٹپکتا ہوا ہو پھیر لیتے تو کافی تھا اور
غسل ہو جاتا، چونکہ ایسا نہیں ہوا ہے اس لئے اس جگہ کا دھو لینا اور نماز لوٹانا ضروری ہے۔ (اس کی
روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: چار شاخوں سے مراد عورتوں کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ بوقت جماع ذکر کے سر داخل ہو جانے سے غسل لازم ہو جاتا ہے خواہ منی نکلے یا نہ نکلے، خلفاء راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے۔