انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ تلوار گلے
میں لٹکا کر نکلے تو ان سے بنی زہرہ کا ایک آدمی ملا، اس نے پوچھا: اے عمر (رضی اللہ عنہ) کہاں کا ارادہ
ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قتل کا ارادہ رکھتا ہوں، اس شخص نے کہا: تم
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کرنے کے بعد بنی ہاشم اور بنی زہرہ سے کیسے بچ سکو گے؟ تو عمر رضی اللہ
عنہ نے کہا: معلوم ہوتا ہے کہ تو نے بھی نیا دین اختیار کر لیا ہے (یعنی مسلمان ہوگیا ہے) تو اس شخص
نے آپ سے کہا: اس سے زیادہ عجیب بات سنو تمہارے بہنوئی اور تمہاری بہن دونوں نے نیا مذہب
اختیار کر لیا ہے اور تمہارا دین چھوڑ دیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر چلے اور بہن، بہنوئی کے پاس آئے،
اس وقت ان کے پاس حضرت خباب رضی اللہ عنہ موجود تھے، جب خباب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ
عنہ کی آہٹ سنی کمرہ میں چھپ گئے اور عمر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوگئے اور پوچھے یہ دھیمی آواز کیا
تھی؟ اس وقت وہ دونوں ”سورہ طٰہٰ“ پڑھ رہے تھے، دونوں نے کہا: ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے،
اس کے سوائے کوئی اور بات نہ تھی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید تم دونوں نے نیا دین اختیار کر لیا ہے تو
ان سے بہنوئی نے کہا: اے عمر (رضی اللہ عنہ)! جب حق تمہارے دین کے سوا دوسرے دین میں ہے تو
کیا پھر بھی اس کو اختیار نہ کیا جائے گا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کیا اور ان کو خوب روندا، بہن
درمیان میں آگئیں تاکہ اپنے شوہر کو مار سے بچائیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو زور سے تھپڑ مارا اور
ان کا چہرہ خون آلود کر دیا، بہن نے غضبناک حالت میں کہا: جب حق تمہارے دین کے سوا دوسرے
دین میں ہے اور میں اسی لئے گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس
کے بندے اور رسول ہیں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کتاب لاؤ جو تمہارے پاس ہے کہ میں اس کو پڑھ
کر دیکھوں اور عمر رضی اللہ عنہ پڑھنا جانتے تھے، اس پر ان کی بہن نے کہا: تم ناپاک ہو، اس کتاب کو
غسل اور وضوء کے ساتھ ہی چھو سکتے ہیں، تو اٹھو اور غسل کرو، یا وضوء ہی کرلو تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ
اٹھے اور وضوء کیا پھر کتاب لی اور سورہ طٰہٰ پڑھی (آخر حدیث تک پڑھ لیا جائے استنباط مسئلہ کے لئے
یہاں تک کافی ہے)۔ (اس کی روایت ابن سعد، ابویعلی حاکم اور بیہقی نے دلائل میں کی ہے۔)
اور دوسری حدیث جس کی تخریج ابونعیم نے دلائل میں اور ابن عساکر نے ابن
عباس رضی اللہ عنہما سے کی ہے، اس طرح مروی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اٹھا اور غسل کیا اس
کے بعد ان دونوں نے کتاب نکالی، (یہ تمام روایتیں امام علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخ الخلفاء میں
(1) His statement, “Al-Haymanah (murmur)” refers to a soft voice.
Note 2
He struck her with his hand
(2) His statement, “He struck her with his hand” means that he hit her with a blow from his hand. This is mentioned in the footnotes of Tareekh al-Khulafa.
Note 3
He performed ghusl (ritual bath) or wudu (ablution)...
(3) His statement, “He performed ghusl (ritual bath) or wudu (ablution)...” In Al-Tawdeeh al-Hasan 'ala Ihya al-Sunan, it is stated: Regarding the first narration, we say: The intention of a non-believer is not valid, so the validity of wudu for touching the Qur'an in the mentioned story is proven without the condition of intention. This is our school of thought. Thus, Umar’s wudu in that situation was valid according to our view. However, according to the view of those who consider intention a condition for the validity of wudu, it would not be valid, which is clearly invalid as you see. Hence, the condition of intention is not established by Shari’ah. A narration attributed to a Companion in such matters is treated as though it is attributed directly to the Prophet (peace be upon him), as it concerns something that cannot be known through personal opinion.
As for the second narration, we say: That ghusl (ritual bath) would not have been performed without wudu, as performing ghusl alone without wudu is not sufficient for touching the Qur'an. Therefore, the validity of wudu without intention is also proven in this way.
The author of Al-Hidayah said: "Intention in wudu is Sunnah according to us, while according to Al-Shafi’i, it is obligatory because wudu is an act of worship and cannot be valid without intention, just like tayammum (dry ablution)."
Our argument is that wudu does not become an act of worship unless accompanied by intention. However, it serves as a prerequisite for prayer because it is considered a purification through the use of a purifying agent. This is unlike tayammum, as soil is not inherently a purifier except in cases of intending to pray, where it indicates a purposeful intent. And Allah knows best.
This concludes the explanation.
Note 1
قوله
(۱) قوله: الهيمنة: آواز نرم.
Note 2
قوله
(۲) قوله : فنفحها نفحة بيده أي ضربها ضربة بيده. كذا في حاشية تاريخ الخلفاء».
Note 3
قوله
(٣) قوله: فاغتسل أو توضأ إلخ : وقال في التوضيح الحسن» على إحياء السنن: أما وجه الاستدلال على الرواية الأولى، فنقول: إن نية الكافر لا تعتبر ، فلا يقال بصحة الوضوء لمس القرآن في القصة المذكورة إلا بعدم اشتراط النية، وهو مذهبنا، فصح وضوء عمر في تلك الحالة على مذهبنا، ويلزم على مذهب من اشترط النية لصحة الوضوء عدم صحته، وهو باطل كما ترى، فلم يثبت اشتراط النية شرعًا، والحديث الموقوف في مثل هذا المقام في حكم الحديث المرفوع؛ لأنه مما لا يدرك بالرأي.
وأما على الرواية الأخرى فنقول: إن ذلك الغسل ما خلا عن الوضوء؛ فإن نفس الغسل بغير الوضوء لا يكفي لمس القرآن، فصح الوضوء بغير النية بهذا الوجه أيضًا. وقال صاحب الهداية»: فالنية في الوضوء سنة عندنا، وعند الشافعي فرض؛ لأنه عبادة، فلا يصح بدون النية كالتيمم. ولنا أنه لا يقع قربة إلا بالنية، ولكنه يقع مفتاحا للصلاة؛ لوقوعه طهارة باستعمال المطهر، بخلاف التيمم؛ لأن التراب غير مطهر إلا في حال إرادة الصلاة، أو هو ينبئ عن القصد. انتهى.
Note 1
موجود ہیں اور دارقطنی نے اس کی اسی طرح روایت کی ہے اور نصب الرایہ نے اس حدیث کی سند کو
جید کہا ہے۔ اور اس واقعہ سے متعلقہ - دونوں حدیثوں کی سند کے بارے میں کہا ہے کہ دونوں سندیں
جید ہیں اور دونوں حدیثوں کو بیان کیا ہے۔)
ف: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن ہاتھ میں لینا چاہا تو آپ کی بہن نے فرمایا: اگر قرآن
ہاتھ میں لینا چاہتے ہو تو غسل کر لو یا وضو کر لو، اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وضو نیت کے بغیر صحیح ہے
اور یہی حنفی مذہب ہے) جس کی توضیح احیاء السنن کے حاشیہ التوضیح الحسن میں حسب ذیل طریقہ پر کی گئی
ہے۔
اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ کافر کی نیت معتبر نہیں تو اس واقعہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا
وضو کرنا بغیر نیت ہی کے تھا کیونکہ آپ نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اسی لئے ہمارے
مذہب حنفی کے لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وضو کرنا درست ہے اگرچہ وہ بغیر نیت کے ہوا ہے لیکن
جن حضرات کے پاس نیت کے بغیر وضو درست نہیں تو وہ حضرات عمر رضی اللہ عنہ کے وضو کو جو بغیر نیت
کے ہوا ہے کس طرح صحیح ثابت کر سکتے ہیں، حالانکہ آپ کا وضو صحیح تھا جب ہی تو آپ کی بہن نے آپ کو
قرآن دیا، اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ نیت وضوء میں شرط نہیں، اب رہا یہ کہ یہ حدیث موقوف ہے تو اس
حدیث کا موقوف ہونا ہم کو مضر نہیں کیوں کہ ایسے مقامات میں حدیث موقوف کا حکم حدیث مرفوع کے مثل
ہے، اس لئے ایسے احکام قیاس سے ثابت نہیں ہوتے ہیں۔
دوسری روایت میں جس کی تخریج ابو نعیم نے دلائل میں کی ہے، جس کے الفاظ ہیں
﴿فَقُمْتُ فَاغْتَسَلْتُ فَأَخْرَجُوا إِلَيَّ صَحِيفَةً﴾ (یعنی میں اٹھا اور غسل کیا اور کہا کہ
اس کتاب کو مجھے دے دو) اس میں وضوء کا ذکر نہیں ہے، اس بارے میں ہمارا قول یہ ہے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس غسل میں وضوء ضمناً خود بخود شامل ہے کیوں کہ غسل میں
اعضائے وضوء کے دھوئے بغیر خود غسل کامل نہیں ہو سکتا اور یہ وضوء جو ضمناً ثابت ہوا ہے وہ
بغیر نیت ہی کے تھا اور ایسے وضوء سے قرآن کو ہاتھ لگانا اور دوسرے عبادات مقصودہ جیسے نماز
وغیرہ کا ذریعہ بننا صحیح سمجھا جائے گا مگر خود ایسا وضوء عبادت نہ ہوگا، اس لئے صاحب ہدایہ نے
مذہب حنفی کے لحاظ سے وضوء کو عبادت بنانے کے لئے نیت کو وضوء کی سنت قرار دی ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نیت وضوء میں فرض ہے کیونکہ وضوء ان کے پاس نماز کی طرح
عبادت مقصودہ ہے اور عبادت مقصودہ بغیر نیت کے درست نہیں تو جس طرح تیمّم میں نیت فرض ہے اسی
طرح ان کے پاس وضوء میں بھی نیت فرض ہے۔
ہمارے احناف کے پاس وضوء اور تیمّم میں نیت کے اعتبار سے فرق کرنے کی دلیل یہ ہے کہ
وضوء عبادت مقصودہ نہیں بلکہ قربت الٰہی کا ذریعہ ہے اور خود عبادت غیر مقصودہ ہے اس وجہ سے وضوء کو
عبادت مقصودہ کا ذریعہ بننے کے لئے نیت کی ضرورت نہیں، ہاں عبادت بننے کے لئے نیت کی ضرورت
ہے، اور نماز ایسے وضوء سے جو بغیر نیت کے ہوا اس وجہ سے جائز ہے کہ وضوء پانی سے کیا جاتا ہے اور پانی
فی نفسہ پاک کرنے والا ہے، بخلاف تیمّم کے کہ وہ مٹی سے کیا جاتا ہے اور مٹی بنفسہ پاک کرنے والی نہیں
ہے بلکہ طہارت کی نیت سے وہ پاک کرنے والی بنتی ہے اور اسی لئے تیمّم میں ہمارے پاس بھی نیت فرض
ہے اور بغیر نیت کے تیمّم درست ہی نہیں ہوتا۔
تو پانی کو مٹی پر قیاس کر کے نیت کو جس طرح تیمّم میں فرض ہے ایسا ہی وضوء کے لئے بھی فرض
کرنا قیاس مع الفارق ہے، واضح رہے کہ تیمّم میں نیت اس لئے بھی فرض ہے کہ خود تیمّم کے معنوں میں
قصد اور نیت داخل ہے، اس لئے یہ نیت کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتا۔
ابو ہریرہ، ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہم ان تینوں صحابہ سے روایت ہے، انہوں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا: جو شخص وضوء کرے اور بسم اللہ
پڑھے تو اس نے حقیقت میں اپنا تمام جسم پاک کیا اور جو شخص وضوء تو کرے مگر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس
نے صرف وضوء کے اعضاء کو پاک کیا۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے)۔
اور بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی روایت کی ہے۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی وضوء کرتا ہے اور بسم اللہ پڑھتا ہے تو اپنا تمام بدن پاک کرلیتا ہے
اور اگر بسم اللہ نہ پڑھے تو صرف جس عضو کو پانی پہنچتا ہے اسی عضو کو پاک کرتا ہے۔ (اس کی روایت
ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
مکحول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب آدمی وضوء کرتا ہے اور
بسم اللہ پڑھتا ہے تو اپنے پورے بدن کو پاک کرلیتا ہے اور اگر وضوء کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھے تو
صرف وضوء کے اعضاء کو پاک کرتا ہے۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے۔)
حسن کوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جو شخص وضوء کرتے وقت بسم اللہ پڑھتا ہے تو وہ اپنا سارا جسم پاک کرلیتا ہے اور اگر بسم اللہ نہ
پڑھے تو جسم کے جس حصہ کو پانی پہنچتا ہے صرف اسی کو پاک کرلیتا ہے۔ (اس کی روایت عبدالرزاق
نے مرسلاً کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم جب وضوء شروع فرماتے تو بسم اللہ پڑھتے۔ (اس کی روایت دار قطنی نے اپنی سنن میں
کی ہے۔)
اور بزار کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضوء
شروع فرماتے تو بسم اللہ پڑھتے۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے بغیر
(پانی کے) برتن میں نہ ڈالے، اس لئے کہ اس کو معلوم نہیں کہ اس کا ہاتھ رات کو کہاں کہاں رہا۔ (اس
کی روایت مسلم نے کی ہے اور بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کلی کرو، اور ناک پانی سے صاف کرو، اور دونوں کان سر کے جزء ہیں۔ (اس کی روایت ابونعیم
نے حلیہ میں کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو اور وضوء کرے تو تین مرتبہ ناک کو چھینکے، اس لئے کہ
شیطان اسی کے کھپڑوں میں رات گزارتا ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور مسلم نے بھی
اسی طرح روایت کی ہے۔)
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد شعیب رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اپنے دادا
سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وضوء کا
طریقہ دریافت کیا، آپ نے تین تین مرتبہ اعضائے وضوء دھو کر دکھلا دیا اور پھر فرمایا کہ اسی طرح وضوء
کیا جائے جس نے تین پر اضافہ کیا اس نے بُرا کیا اور زیادتی کی اور ظلم کیا۔
(نسائی اور ابن ماجہ نے اس کی روایت کی ہے اور ابو داؤد نے اسی کے ہم معنی الفاظ میں روایت
کی ہے۔)
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ آپ نے مقاعد (نامی ایک مقام) میں
وضوء فرمایا اور فرمایا کہ کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء نہ بتلا دوں؟ یہ فرما کر آپ نے تین
تین مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح کی
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 230 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
once
(1) The phrase "once" – The author of Al-Hidaya said: "Al-Shafi'i said: The Sunnah is to wash three times with different waters, considering what is being washed. He then said: What is narrated about washing three times is understood to apply with one water, and this is permissible as it was narrated from Abu Hanifa."
Note 1
قوله مرة واحدة قال صاحب الهداية»
(۱) قوله مرة واحدة قال صاحب الهداية»: قال الشافعي: السنة هو التثليث بمياه مختلفة؛ اعتبارًا بالمغسول، ثم قال: والذي يروى من التثليث محمول عليه بماء واحد، وهو مشروع على ما روي عن أبي حنيفة.
Note 1
روایت کی ہے) اور بیہقی نے کہا ہے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے تکرار مسح کا حکم اسی حدیث سے لیا
ہے اور ابو انس رضی اللہ عنہ کی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت مطلق ہے۔ (جس میں تفصیل نہیں) اور وہ
روایات جو آپ سے تفصیلی طور پر ثابت ہیں، ان میں وضاحت ہے کہ سر کے سوا بقیہ اعضاء میں تکرار
ہے اور سر کا مسح آپ نے ایک ہی مرتبہ فرمایا۔
ف:۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تین مختلف پانیوں سے تین
دفعہ مسح کرنا سنت ہے، وہ مسح کا قیاس اعضائے وضوء پر کرتے ہیں، کیوں کہ وہ تین مرتبہ دھوئے جاتے
ہیں تو اس طرح امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تین دفعہ مسح کرنا سنت ہے۔
صاحب ہدایہ نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک مرتبہ مسح
کرنا سنت ہے، اور جو روایات تفصیل سے آئی ہیں ان میں ایک ہی مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے، البتہ ایک
ہی پانی سے سر پر سے ہاتھ اٹھائے بغیر تین مرتبہ مسح کرنا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھی مستحب
ہے۔12
رُبَیّع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو فرماتے دیکھا ہے آپ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے
اگلے اور پچھلے حصہ اور دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا مسح ایک ہی مرتبہ فرمایا۔ (اس کی روایت
ترمذی نے کی ہے۔)
اور بخاری کی ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ آپ نے سر کا مسح کیا تو دونوں
ہاتھوں کو سر کے اگلے اور پچھلے حصہ پر ایک ہی مرتبہ گزارا، پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 33 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور ترمذی نے کہا ہے کہ متعدد اسناد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے سر
کا مسح ایک ہی مرتبہ فرمایا ہے اور اکثر صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کا عمل اسی پر رہا ہے۔
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو وضو فرماتے دیکھا ہے کہ آپ نے سر کا مسح ایک ہی مرتبہ فرمایا ہے۔ (اس کی روایت
ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اعضائے وضوء کو تین تین دفعہ دھویا کرتے تھے اور سر کا مسح صرف ایک مرتبہ فرماتے۔ (اس کی روایت
ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح فرمایا، اس طرح کہ سر کے اگلے اور پچھلے حصہ پر
دونوں ہاتھ گزارے اس طور پر کہ سر کے اگلے حصہ سے ابتداء فرمائی پھر دونوں ہاتھوں کو گدی تک لے
گئے، بعد ازاں دونوں ہاتھوں کو اس حصہ تک واپس لائے جہاں سے آپ نے ابتداء فرمائی تھی، پھر
آپ نے دونوں پیروں کو دھویا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث
اس باب میں جتنی حدیثیں مروی ہیں ان سب میں سب سے زیادہ صحیح اور زیادہ حسن ہے اور بخاری
نے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم علیہ
الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنے سر کا اور دونوں کانوں کے بیرونی اور اندرونی حصہ کا مسح فرمایا۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم علیہ
الصلوٰۃ والسلام نے اپنے سر اور کانوں کا مسح فرمایا: (اس طرح سے کہ) کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح
شہادت کی انگلیوں سے اور بیرونی حصہ کا مسح انگوٹھوں سے فرمایا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
وضوء فرمایا تو چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور سر کا مسح فرمایا اور ارشاد فرمایا
کہ ہر دو کان سر میں شامل ہیں۔ (یعنی سر کے مسح کے ساتھ ان کا بھی مسح کیا جائے)۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
وضوء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ وضوء کرتے وقت آنکھوں کے کویوں کو پانی سے ملتے تھے اور یہ بھی
فرمایا کہ دونوں کان سر میں شامل ہیں۔ (اس کی روایت ابن ماجہ، ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 134 (unverified) 97% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 37 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 444 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): لفظ ”ماق“ جو اس حدیث میں آیا ہے آنکھ کے اس گوشہ کو کہتے ہیں جو ناک کی طرف
ہوتا ہے، قاموس میں یہی ہے اور جوہری نے کہا ہے کہ ماق آنکھ کے دونوں گوشوں کو کہتے ہیں، تو افضل
یہی ہے کہ دونوں کویوں کو منہ دھوتے وقت مل لیا کریں تا کہ میل نکل جائے۔12
ف(2): حدیث کے الفاظ ”الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ“ (دونوں کان سر میں شامل ہیں) اس
سے دو باتیں نکلتی ہیں: ایک تو یہ کہ کانوں کا مسح سر کے مسح کے ساتھ کرے، دوسرے یہ کہ کانوں کے مسح
کے لئے نئے پانی کی ضرورت نہیں ہے۔12
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
وضوء فرماتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے تین تین مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا اور سر اور کانوں کا ایک ہی
مرتبہ مسح فرمایا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کان سر میں شمار کئے جاتے ہیں۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی
ہے۔)
اور دارقطنی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کی ہے، ابن
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 444 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
القطان نے کہا ہے کہ اس کے اسناد صحیح ہیں، اس لئے کہ یہ متصل ہیں اور اس کے راوی سب ثقہ ہیں اور
زیلعی نے کہا کہ اس کے اسناد سب اسنادوں سے زیادہ صحیح ہیں۔
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء
فرمایا اور اپنے کانوں کا مسح سر کے مسح کے ساتھ کیا اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ کان سر میں شامل ہیں۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ان کے (مکان میں) وضوء فرمایا اور سر کے بالوں پر اس طرح مسح فرمایا کہ جمے ہوئے بال پراگندہ نہ ہوئیں،
کنپٹیوں اور کانوں کے باہر اور اندر بھی مسح فرمایا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے)۔
ف: اس حدیث میں ”فَمَسَحَ رَأْسَهُ عَلَى مَجَارِي الشَّعْرِ“ ہے مجاری الشعر کے وہی معنی
ہیں جس کو ہم نے ترجمہ میں ظاہر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے جمے
ہوئے بالوں پر بکھیرنے اور پلٹنے کے بغیر مسح فرمایا اور مجاری الشعر کے یہی معنی ہیں۔ چنانچہ بیہقی نے سنن
کبریٰ میں اسی طرح وضاحت کی ہے۔12۔
حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو
وضوء کرتے دیکھا تو آپ نے سر کے مسح کے ساتھ کانوں کے باہر اور اندر کا مسح کیا اور انس رضی
اللہ عنہ نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کانوں کا بھی مسح کیا کرو۔ (اس کی روایت
طحاوی نے کی ہے۔)
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے
ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ دونوں کان، سر میں شامل ہیں، اس لئے ان کا بھی مسح کر لیا
کرو۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
رُبَیّع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو آپ نے مسح کے وقت اپنی انگلی کانوں کے سوراخ میں داخل فرمائی۔ (اس
کی روایت ابوداؤد، امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
وضو فرماتے ہوئے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ آپ نے سر کا مسح اپنے ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے
نہیں کیا (بلکہ دوسرے نئے پانی سے کیا)۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور کچھ زیادتی کے ساتھ مسلم نے بھی اس کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 35 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 236 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس دونوں امر جائز ہیں ایک تو یہی ہے جس
پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں عمل فرمایا ہے اور دوسرا وہ بھی جائز ہے جو اس کے بعد والی
حدیث میں آ رہا ہے اور اس پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا ہے۔
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
وضو فرمایا اور آپ نے سر کا مسح اپنے ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے فرمایا۔ (اس کی روایت ترمذی
نے کی ہے۔)
طلحہ بن مصرف رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت
کی ہے کہ ان کے دادا نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سر کا مسح گدی
تک ایک ہی دفعہ فرمایا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
طلحہ بن مصرف رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت
کی ہے کہ ان کے دادا نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوء فرماتے ہوئے دیکھا کہ سر
کے اگلے حصہ سے آپ نے گدی یعنی گردن کے ابتدائی حصہ تک مسح فرمایا۔ (اس کی روایت طحاوی
نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) His statement, “Al-Haymanah (murmur)” refers to a soft voice.
Note 2
(2) His statement, “He struck her with his hand” means that he hit her with a blow from his hand. This is mentioned in the footnotes of Tareekh al-Khulafa.
Note 3
(3) His statement, “He performed ghusl (ritual bath) or wudu (ablution)...” In Al-Tawdeeh al-Hasan 'ala Ihya al-Sunan, it is stated: Regarding the first narration, we say: The intention of a non-believer is not valid, so the validity of wudu for touching the Qur'an in the mentioned story is proven without the condition of intention. This is our school of thought. Thus, Umar’s wudu in that situation was valid according to our view. However, according to the view of those who consider intention a condition for the validity of wudu, it would not be valid, which is clearly invalid as you see. Hence, the condition of intention is not established by Shari’ah. A narration attributed to a Companion in such matters is treated as though it is attributed directly to the Prophet (peace be upon him), as it concerns something that cannot be known through personal opinion. As for the second narration, we say: That ghusl (ritual bath) would not have been performed without wudu, as performing ghusl alone without wudu is not sufficient for touching the Qur'an. Therefore, the validity of wudu without intention is also proven in this way. The author of Al-Hidayah said: "Intention in wudu is Sunnah according to us, while according to Al-Shafi’i, it is obligatory because wudu is an act of worship and cannot be valid without intention, just like tayammum (dry ablution)." Our argument is that wudu does not become an act of worship unless accompanied by intention. However, it serves as a prerequisite for prayer because it is considered a purification through the use of a purifying agent. This is unlike tayammum, as soil is not inherently a purifier except in cases of intending to pray, where it indicates a purposeful intent. And Allah knows best. This concludes the explanation.
Note 1
(۱) قوله: الهيمنة: آواز نرم.
Note 2
(۲) قوله : فنفحها نفحة بيده أي ضربها ضربة بيده. كذا في حاشية تاريخ الخلفاء».
Note 3
(٣) قوله: فاغتسل أو توضأ إلخ : وقال في التوضيح الحسن» على إحياء السنن: أما وجه الاستدلال على الرواية الأولى، فنقول: إن نية الكافر لا تعتبر ، فلا يقال بصحة الوضوء لمس القرآن في القصة المذكورة إلا بعدم اشتراط النية، وهو مذهبنا، فصح وضوء عمر في تلك الحالة على مذهبنا، ويلزم على مذهب من اشترط النية لصحة الوضوء عدم صحته، وهو باطل كما ترى، فلم يثبت اشتراط النية شرعًا، والحديث الموقوف في مثل هذا المقام في حكم الحديث المرفوع؛ لأنه مما لا يدرك بالرأي. وأما على الرواية الأخرى فنقول: إن ذلك الغسل ما خلا عن الوضوء؛ فإن نفس الغسل بغير الوضوء لا يكفي لمس القرآن، فصح الوضوء بغير النية بهذا الوجه أيضًا. وقال صاحب الهداية»: فالنية في الوضوء سنة عندنا، وعند الشافعي فرض؛ لأنه عبادة، فلا يصح بدون النية كالتيمم. ولنا أنه لا يقع قربة إلا بالنية، ولكنه يقع مفتاحا للصلاة؛ لوقوعه طهارة باستعمال المطهر، بخلاف التيمم؛ لأن التراب غير مطهر إلا في حال إرادة الصلاة، أو هو ينبئ عن القصد. انتهى.
Note 1
موجود ہیں اور دارقطنی نے اس کی اسی طرح روایت کی ہے اور نصب الرایہ نے اس حدیث کی سند کو جید کہا ہے۔ اور اس واقعہ سے متعلقہ - دونوں حدیثوں کی سند کے بارے میں کہا ہے کہ دونوں سندیں جید ہیں اور دونوں حدیثوں کو بیان کیا ہے۔) ف: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن ہاتھ میں لینا چاہا تو آپ کی بہن نے فرمایا: اگر قرآن ہاتھ میں لینا چاہتے ہو تو غسل کر لو یا وضو کر لو، اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وضو نیت کے بغیر صحیح ہے اور یہی حنفی مذہب ہے) جس کی توضیح احیاء السنن کے حاشیہ التوضیح الحسن میں حسب ذیل طریقہ پر کی گئی ہے۔ اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ کافر کی نیت معتبر نہیں تو اس واقعہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وضو کرنا بغیر نیت ہی کے تھا کیونکہ آپ نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اسی لئے ہمارے مذہب حنفی کے لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وضو کرنا درست ہے اگرچہ وہ بغیر نیت کے ہوا ہے لیکن جن حضرات کے پاس نیت کے بغیر وضو درست نہیں تو وہ حضرات عمر رضی اللہ عنہ کے وضو کو جو بغیر نیت کے ہوا ہے کس طرح صحیح ثابت کر سکتے ہیں، حالانکہ آپ کا وضو صحیح تھا جب ہی تو آپ کی بہن نے آپ کو قرآن دیا، اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ نیت وضوء میں شرط نہیں، اب رہا یہ کہ یہ حدیث موقوف ہے تو اس حدیث کا موقوف ہونا ہم کو مضر نہیں کیوں کہ ایسے مقامات میں حدیث موقوف کا حکم حدیث مرفوع کے مثل ہے، اس لئے ایسے احکام قیاس سے ثابت نہیں ہوتے ہیں۔ دوسری روایت میں جس کی تخریج ابو نعیم نے دلائل میں کی ہے، جس کے الفاظ ہیں ﴿فَقُمْتُ فَاغْتَسَلْتُ فَأَخْرَجُوا إِلَيَّ صَحِيفَةً﴾ (یعنی میں اٹھا اور غسل کیا اور کہا کہ اس کتاب کو مجھے دے دو) اس میں وضوء کا ذکر نہیں ہے، اس بارے میں ہمارا قول یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس غسل میں وضوء ضمناً خود بخود شامل ہے کیوں کہ غسل میں اعضائے وضوء کے دھوئے بغیر خود غسل کامل نہیں ہو سکتا اور یہ وضوء جو ضمناً ثابت ہوا ہے وہ بغیر نیت ہی کے تھا اور ایسے وضوء سے قرآن کو ہاتھ لگانا اور دوسرے عبادات مقصودہ جیسے نماز وغیرہ کا ذریعہ بننا صحیح سمجھا جائے گا مگر خود ایسا وضوء عبادت نہ ہوگا، اس لئے صاحب ہدایہ نے مذہب حنفی کے لحاظ سے وضوء کو عبادت بنانے کے لئے نیت کو وضوء کی سنت قرار دی ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نیت وضوء میں فرض ہے کیونکہ وضوء ان کے پاس نماز کی طرح عبادت مقصودہ ہے اور عبادت مقصودہ بغیر نیت کے درست نہیں تو جس طرح تیمّم میں نیت فرض ہے اسی طرح ان کے پاس وضوء میں بھی نیت فرض ہے۔ ہمارے احناف کے پاس وضوء اور تیمّم میں نیت کے اعتبار سے فرق کرنے کی دلیل یہ ہے کہ وضوء عبادت مقصودہ نہیں بلکہ قربت الٰہی کا ذریعہ ہے اور خود عبادت غیر مقصودہ ہے اس وجہ سے وضوء کو عبادت مقصودہ کا ذریعہ بننے کے لئے نیت کی ضرورت نہیں، ہاں عبادت بننے کے لئے نیت کی ضرورت ہے، اور نماز ایسے وضوء سے جو بغیر نیت کے ہوا اس وجہ سے جائز ہے کہ وضوء پانی سے کیا جاتا ہے اور پانی فی نفسہ پاک کرنے والا ہے، بخلاف تیمّم کے کہ وہ مٹی سے کیا جاتا ہے اور مٹی بنفسہ پاک کرنے والی نہیں ہے بلکہ طہارت کی نیت سے وہ پاک کرنے والی بنتی ہے اور اسی لئے تیمّم میں ہمارے پاس بھی نیت فرض ہے اور بغیر نیت کے تیمّم درست ہی نہیں ہوتا۔ تو پانی کو مٹی پر قیاس کر کے نیت کو جس طرح تیمّم میں فرض ہے ایسا ہی وضوء کے لئے بھی فرض کرنا قیاس مع الفارق ہے، واضح رہے کہ تیمّم میں نیت اس لئے بھی فرض ہے کہ خود تیمّم کے معنوں میں قصد اور نیت داخل ہے، اس لئے یہ نیت کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتا۔