Hadith 406
Volume 1English
العربية
اردو
Qur’an-related source paragraphs
Allah the Almighty says:
Purification · Chapter 6
74 narrations · In source reading order
English
العربية
اردو
Allah the Almighty says:
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The phrase "once" – The author of Al-Hidaya said: "Al-Shafi'i said: The Sunnah is to wash three times with different waters, considering what is being washed. He then said: What is narrated about washing three times is understood to apply with one water, and this is permissible as it was narrated from Abu Hanifa."
(۱) قوله مرة واحدة قال صاحب الهداية»: قال الشافعي: السنة هو التثليث بمياه مختلفة؛ اعتبارًا بالمغسول، ثم قال: والذي يروى من التثليث محمول عليه بماء واحد، وهو مشروع على ما روي عن أبي حنيفة.
روایت کی ہے) اور بیہقی نے کہا ہے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے تکرار مسح کا حکم اسی حدیث سے لیا ہے اور ابو انس رضی اللہ عنہ کی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت مطلق ہے۔ (جس میں تفصیل نہیں) اور وہ روایات جو آپ سے تفصیلی طور پر ثابت ہیں، ان میں وضاحت ہے کہ سر کے سوا بقیہ اعضاء میں تکرار ہے اور سر کا مسح آپ نے ایک ہی مرتبہ فرمایا۔ ف:۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تین مختلف پانیوں سے تین دفعہ مسح کرنا سنت ہے، وہ مسح کا قیاس اعضائے وضوء پر کرتے ہیں، کیوں کہ وہ تین مرتبہ دھوئے جاتے ہیں تو اس طرح امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تین دفعہ مسح کرنا سنت ہے۔ صاحب ہدایہ نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک مرتبہ مسح کرنا سنت ہے، اور جو روایات تفصیل سے آئی ہیں ان میں ایک ہی مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے، البتہ ایک ہی پانی سے سر پر سے ہاتھ اٹھائے بغیر تین مرتبہ مسح کرنا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھی مستحب ہے۔12
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اور ترمذی نے کہا ہے کہ متعدد اسناد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے سر کا مسح ایک ہی مرتبہ فرمایا ہے اور اکثر صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کا عمل اسی پر رہا ہے۔
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف(1): لفظ ”ماق“ جو اس حدیث میں آیا ہے آنکھ کے اس گوشہ کو کہتے ہیں جو ناک کی طرف ہوتا ہے، قاموس میں یہی ہے اور جوہری نے کہا ہے کہ ماق آنکھ کے دونوں گوشوں کو کہتے ہیں، تو افضل یہی ہے کہ دونوں کویوں کو منہ دھوتے وقت مل لیا کریں تا کہ میل نکل جائے۔12 ف(2): حدیث کے الفاظ ”الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ“ (دونوں کان سر میں شامل ہیں) اس سے دو باتیں نکلتی ہیں: ایک تو یہ کہ کانوں کا مسح سر کے مسح کے ساتھ کرے، دوسرے یہ کہ کانوں کے مسح کے لئے نئے پانی کی ضرورت نہیں ہے۔12
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
القطان نے کہا ہے کہ اس کے اسناد صحیح ہیں، اس لئے کہ یہ متصل ہیں اور اس کے راوی سب ثقہ ہیں اور زیلعی نے کہا کہ اس کے اسناد سب اسنادوں سے زیادہ صحیح ہیں۔
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
ف: اس حدیث میں ”فَمَسَحَ رَأْسَهُ عَلَى مَجَارِي الشَّعْرِ“ ہے مجاری الشعر کے وہی معنی ہیں جس کو ہم نے ترجمہ میں ظاہر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے جمے ہوئے بالوں پر بکھیرنے اور پلٹنے کے بغیر مسح فرمایا اور مجاری الشعر کے یہی معنی ہیں۔ چنانچہ بیہقی نے سنن کبریٰ میں اسی طرح وضاحت کی ہے۔12۔
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس دونوں امر جائز ہیں ایک تو یہی ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں عمل فرمایا ہے اور دوسرا وہ بھی جائز ہے جو اس کے بعد والی حدیث میں آ رہا ہے اور اس پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا ہے۔
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The word "غَبَرَ" means "remained" or "leftover." (Reference: Mirqat)
(۱) قوله: غبر: أي بقي. مرقاة
English
العربية
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
English
العربية
اردو
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) His statement, “Al-Haymanah (murmur)” refers to a soft voice.
Note 2
(2) His statement, “He struck her with his hand” means that he hit her with a blow from his hand. This is mentioned in the footnotes of Tareekh al-Khulafa.
Note 3
(3) His statement, “He performed ghusl (ritual bath) or wudu (ablution)...” In Al-Tawdeeh al-Hasan 'ala Ihya al-Sunan, it is stated: Regarding the first narration, we say: The intention of a non-believer is not valid, so the validity of wudu for touching the Qur'an in the mentioned story is proven without the condition of intention. This is our school of thought. Thus, Umar’s wudu in that situation was valid according to our view. However, according to the view of those who consider intention a condition for the validity of wudu, it would not be valid, which is clearly invalid as you see. Hence, the condition of intention is not established by Shari’ah. A narration attributed to a Companion in such matters is treated as though it is attributed directly to the Prophet (peace be upon him), as it concerns something that cannot be known through personal opinion. As for the second narration, we say: That ghusl (ritual bath) would not have been performed without wudu, as performing ghusl alone without wudu is not sufficient for touching the Qur'an. Therefore, the validity of wudu without intention is also proven in this way. The author of Al-Hidayah said: "Intention in wudu is Sunnah according to us, while according to Al-Shafi’i, it is obligatory because wudu is an act of worship and cannot be valid without intention, just like tayammum (dry ablution)." Our argument is that wudu does not become an act of worship unless accompanied by intention. However, it serves as a prerequisite for prayer because it is considered a purification through the use of a purifying agent. This is unlike tayammum, as soil is not inherently a purifier except in cases of intending to pray, where it indicates a purposeful intent. And Allah knows best. This concludes the explanation.
Note 1
(۱) قوله: الهيمنة: آواز نرم.
Note 2
(۲) قوله : فنفحها نفحة بيده أي ضربها ضربة بيده. كذا في حاشية تاريخ الخلفاء».
Note 3
(٣) قوله: فاغتسل أو توضأ إلخ : وقال في التوضيح الحسن» على إحياء السنن: أما وجه الاستدلال على الرواية الأولى، فنقول: إن نية الكافر لا تعتبر ، فلا يقال بصحة الوضوء لمس القرآن في القصة المذكورة إلا بعدم اشتراط النية، وهو مذهبنا، فصح وضوء عمر في تلك الحالة على مذهبنا، ويلزم على مذهب من اشترط النية لصحة الوضوء عدم صحته، وهو باطل كما ترى، فلم يثبت اشتراط النية شرعًا، والحديث الموقوف في مثل هذا المقام في حكم الحديث المرفوع؛ لأنه مما لا يدرك بالرأي. وأما على الرواية الأخرى فنقول: إن ذلك الغسل ما خلا عن الوضوء؛ فإن نفس الغسل بغير الوضوء لا يكفي لمس القرآن، فصح الوضوء بغير النية بهذا الوجه أيضًا. وقال صاحب الهداية»: فالنية في الوضوء سنة عندنا، وعند الشافعي فرض؛ لأنه عبادة، فلا يصح بدون النية كالتيمم. ولنا أنه لا يقع قربة إلا بالنية، ولكنه يقع مفتاحا للصلاة؛ لوقوعه طهارة باستعمال المطهر، بخلاف التيمم؛ لأن التراب غير مطهر إلا في حال إرادة الصلاة، أو هو ينبئ عن القصد. انتهى.
Note 1
موجود ہیں اور دارقطنی نے اس کی اسی طرح روایت کی ہے اور نصب الرایہ نے اس حدیث کی سند کو جید کہا ہے۔ اور اس واقعہ سے متعلقہ - دونوں حدیثوں کی سند کے بارے میں کہا ہے کہ دونوں سندیں جید ہیں اور دونوں حدیثوں کو بیان کیا ہے۔) ف: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن ہاتھ میں لینا چاہا تو آپ کی بہن نے فرمایا: اگر قرآن ہاتھ میں لینا چاہتے ہو تو غسل کر لو یا وضو کر لو، اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وضو نیت کے بغیر صحیح ہے اور یہی حنفی مذہب ہے) جس کی توضیح احیاء السنن کے حاشیہ التوضیح الحسن میں حسب ذیل طریقہ پر کی گئی ہے۔ اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ کافر کی نیت معتبر نہیں تو اس واقعہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وضو کرنا بغیر نیت ہی کے تھا کیونکہ آپ نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اسی لئے ہمارے مذہب حنفی کے لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وضو کرنا درست ہے اگرچہ وہ بغیر نیت کے ہوا ہے لیکن جن حضرات کے پاس نیت کے بغیر وضو درست نہیں تو وہ حضرات عمر رضی اللہ عنہ کے وضو کو جو بغیر نیت کے ہوا ہے کس طرح صحیح ثابت کر سکتے ہیں، حالانکہ آپ کا وضو صحیح تھا جب ہی تو آپ کی بہن نے آپ کو قرآن دیا، اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ نیت وضوء میں شرط نہیں، اب رہا یہ کہ یہ حدیث موقوف ہے تو اس حدیث کا موقوف ہونا ہم کو مضر نہیں کیوں کہ ایسے مقامات میں حدیث موقوف کا حکم حدیث مرفوع کے مثل ہے، اس لئے ایسے احکام قیاس سے ثابت نہیں ہوتے ہیں۔ دوسری روایت میں جس کی تخریج ابو نعیم نے دلائل میں کی ہے، جس کے الفاظ ہیں ﴿فَقُمْتُ فَاغْتَسَلْتُ فَأَخْرَجُوا إِلَيَّ صَحِيفَةً﴾ (یعنی میں اٹھا اور غسل کیا اور کہا کہ اس کتاب کو مجھے دے دو) اس میں وضوء کا ذکر نہیں ہے، اس بارے میں ہمارا قول یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس غسل میں وضوء ضمناً خود بخود شامل ہے کیوں کہ غسل میں اعضائے وضوء کے دھوئے بغیر خود غسل کامل نہیں ہو سکتا اور یہ وضوء جو ضمناً ثابت ہوا ہے وہ بغیر نیت ہی کے تھا اور ایسے وضوء سے قرآن کو ہاتھ لگانا اور دوسرے عبادات مقصودہ جیسے نماز وغیرہ کا ذریعہ بننا صحیح سمجھا جائے گا مگر خود ایسا وضوء عبادت نہ ہوگا، اس لئے صاحب ہدایہ نے مذہب حنفی کے لحاظ سے وضوء کو عبادت بنانے کے لئے نیت کو وضوء کی سنت قرار دی ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نیت وضوء میں فرض ہے کیونکہ وضوء ان کے پاس نماز کی طرح عبادت مقصودہ ہے اور عبادت مقصودہ بغیر نیت کے درست نہیں تو جس طرح تیمّم میں نیت فرض ہے اسی طرح ان کے پاس وضوء میں بھی نیت فرض ہے۔ ہمارے احناف کے پاس وضوء اور تیمّم میں نیت کے اعتبار سے فرق کرنے کی دلیل یہ ہے کہ وضوء عبادت مقصودہ نہیں بلکہ قربت الٰہی کا ذریعہ ہے اور خود عبادت غیر مقصودہ ہے اس وجہ سے وضوء کو عبادت مقصودہ کا ذریعہ بننے کے لئے نیت کی ضرورت نہیں، ہاں عبادت بننے کے لئے نیت کی ضرورت ہے، اور نماز ایسے وضوء سے جو بغیر نیت کے ہوا اس وجہ سے جائز ہے کہ وضوء پانی سے کیا جاتا ہے اور پانی فی نفسہ پاک کرنے والا ہے، بخلاف تیمّم کے کہ وہ مٹی سے کیا جاتا ہے اور مٹی بنفسہ پاک کرنے والی نہیں ہے بلکہ طہارت کی نیت سے وہ پاک کرنے والی بنتی ہے اور اسی لئے تیمّم میں ہمارے پاس بھی نیت فرض ہے اور بغیر نیت کے تیمّم درست ہی نہیں ہوتا۔ تو پانی کو مٹی پر قیاس کر کے نیت کو جس طرح تیمّم میں فرض ہے ایسا ہی وضوء کے لئے بھی فرض کرنا قیاس مع الفارق ہے، واضح رہے کہ تیمّم میں نیت اس لئے بھی فرض ہے کہ خود تیمّم کے معنوں میں قصد اور نیت داخل ہے، اس لئے یہ نیت کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتا۔