Amr ibn Ka'b narrated from his father, from his grandfather, who said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ perform ablution and wipe his beard and the back of his neck."
عمرو بن کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے توسط سے اپنے دادا سے روایت کی
ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوء فرماتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے
اپنی ریش مبارک اور سر کے پچھلے حصہ کا مسح فرمایا۔ (اس کی روایت ابن السکن نے کی ہے۔)
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Wiping the neck is protection from shackles on the Day of Resurrection."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ گردن کا مسح کرنا قیامت کے دن طوق سے امن کا سبب ہوگا۔ (اس کی روایت دیلمی نے
فردوس میں کی ہے۔)
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever performs ablution and wipes his hands over his neck will be safe from shackles on the Day of Resurrection."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جس نے وضوء کیا اور دونوں ہاتھوں سے گردن کا مسح کیا تو قیامت کے دن طوق سے محفوظ رہے
گا۔ (اس کی روایت ابونعیم نے کی ہے۔)
Musa ibn Talha said: "Whoever wipes the back of his neck along with his head will be protected from shackles on the Day of Resurrection." [Narrated by Abu Ubaid as a mawqoof narration]
Al-Ayni stated: "This mawqoof narration is considered marfoo' (prophetic) because it pertains to matters that cannot be determined by mere opinion."
موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جو شخص سر کے ساتھ
سر کے پچھلے حصہ کا مسح کرے تو اس کو قیامت کے روز طوق سے محفوظ رکھا جائے گا۔ (اس کی روایت ابو
عبید نے موقوفاً کی ہے)۔ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ یہ موقوف مرفوع کے حکم میں ہے اس لئے
Talha ibn Musarrif narrated from his father, from his grandfather, who said: "I saw the Prophet ﷺ separate between rinsing the mouth and sniffing water into the nose."
طلحہ بن مصرف رضی اللہ عنہ والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں
انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کلی علیحدہ پانی سے اور ناک علیحدہ
پانی سے صاف کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Abu Wa'il said: "I witnessed Ali and Uthman perform ablution, washing each part three times, and they separated rinsing the mouth from sniffing water into the nose. Then they said: 'This is how we saw the Messenger of Allah ﷺ perform ablution.'"
ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی
اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اعضائے وضوء کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور کلی اور ناک
علیحدہ علیحدہ پانی سے صاف کرتے تھے، پھر دونوں نے فرمایا کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح
وضوء فرماتے دیکھا ہے۔ (اس کی روایت ابن السکن نے اپنی صحیح میں کی ہے۔)
Sufyan ibn Salamah said: "I witnessed Uthman perform ablution, washing each part three times, and he separated rinsing the mouth from sniffing water into the nose, doing each three times. Then he said: 'This is how the Prophet ﷺ performed ablution.'"
سفیان بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عثمان رضی
اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ تین تین مرتبہ اعضائے وضوء کو دھوتے اور کلی تین دفعہ اور ناک میں تین دفعہ پانی
علیحدہ علیحدہ استعمال فرمایا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کو اسی طرح وضوء فرماتے دیکھا ہے۔ (اس کی روایت بغوی نے کی ہے)۔
Ka'b ibn Amr Al-Yami narrated: "The Prophet ﷺ performed ablution, rinsed his mouth three times, and sniffed water into his nose three times, using fresh water for each action."
کعب بن عمرو یمامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم علیہ
الصلوٰۃ والتسلیم نے وضوء فرمایا تو کلی تین دفعہ فرمائی اور ناک کو تین دفعہ صاف کیا اور ہر ایک کے لئے نیا
پانی لیتے تھے۔ (اس کی روایت طبرانی نے کی ہے)۔
ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے وضوء میں اعضائے وضوء کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔ اس کی روایت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ
نے کی ہے۔
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے دو دو مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا اور فرمایا کہ یہ نورٌ علیٰ نور ہے۔ (اس کی روایت رزین
نے کی ہے۔)
Uthman (may Allah be pleased with him) said: "The Messenger of Allah ﷺ performed ablution three times for each action and said, 'This is my ablution, the ablution of the Prophets before me, and the ablution of Ibrahim (عليه السلام).'" [Narrated by Razeen]
But Al-Nawawi deemed it weak in his commentary on Sahih Muslim. Ibn Hajar mentioned that, according to the opinion of others, its chain is considered Hasan.
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
تین تین مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا اور فرمایا: یہ میرا اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اور ابراہیم علیہ
السلام کا وضوء ہے۔ (یعنی یہ سب حضرات تین تین مرتبہ اعضائے وضوء کو دھوتے تھے)۔
(اس کی روایت رزین نے کی ہے اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلم کی شرح میں اس حدیث کو
ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ دوسروں نے اس حدیث کی سند کو حسن لکھا ہے)۔
Thabit ibn Abi Safiyyah said: "I asked Abu Ja'far (Muhammad Al-Baqir): 'Did Jabir narrate to you that the Prophet ﷺ performed ablution once for each part, twice for each part, and three times for each part?' He said: 'Yes.'"
ثابت بن ابی صفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو
جعفر محمد یعنی امام باقر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار اعضائے وضوء کو دھویا ہے؟ امام باقر
رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جابر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت مجھے ملی
ہے)۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever performs ablution once for each part, that is the obligatory minimum of ablution. Whoever performs it twice for each part will have a double reward, and whoever performs it three times for each part, that is my ablution and the ablution of the Prophets before me." [Narrated by Ahmad]
In another narration narrated by Al-Daraqutni, Al-Bayhaqi, Ibn Hibban, Ibn Majah, Ahmad, and Al-Tabarani, it is mentioned: "The Prophet ﷺ performed ablution once for each part and said, 'This is the ablution without which Allah does not accept prayer.' Then he performed ablution twice for each part and said, 'This is the ablution of the one who will have a double reward.' Then he performed ablution three times for each part and said, 'This is my ablution and the ablution of the Prophets before me.'"
Al-Tirmidhi stated: "The majority of scholars agree that performing ablution once for each part suffices, performing it twice is better, and performing it three times is the most virtuous. There is nothing beyond three times."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جس نے اعضائے وضوء کو ایک ایک مرتبہ دھویا تو ایک ایک مرتبہ اعضاء کا دھونا وضوء میں
ضروری ہے، اور جس نے دو دو مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا تو اس کو دو حصہ اجر ملے گا اور جس نے تین
تین مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا یہ میرا اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام کا وضوء ہے (اس کی
روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور دار قطنی، بیہقی، ابن حبان، ابن ماجہ، امام احمد اور طبرانی ان سب کی ایک
روایت میں یوں ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ایک ایک مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا اور فرمایا
کہ اس طرح وضوء کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتے اور آپ نے دو دو مرتبہ اعضائے وضوء کو
دھویا اور فرمایا کہ یہ وضوء اس شخص کا ہے جس کو دوہرا اجر دیا جائے گا اور آپ نے تین تین مرتبہ
اعضائے وضوء کو دھویا اور فرمایا کہ یہ میرا اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام کا وضوء ہے، ترمذی نے
کہا ہے کہ اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک ایک مرتبہ اعضائے وضوء کا دھونا کافی ہے اور دو دو مرتبہ دھونا
افضل ہے اور اس سے افضل تین تین مرتبہ دھونا ہے اور اس کے بعد کچھ نہیں۔ (یعنی تین مرتبہ سے
زائد دھونا اسراف اور لغو ہے)۔
Abdullah bin al-Mughaffal (may Allah be pleased with him) said that he heard his son say: "O Allah, I ask You for the white palace on the right side of Paradise." He (Abdullah) said: "O my son, ask Allah for Paradise and seek refuge with Him from the Fire, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'There will be people in this Ummah who will exceed the limits in purification and supplication.'"
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنے لڑکے کو
کہتے سنا کہ الٰہی میں تجھ سے جنت کے دائیں جانب کے قصر ابیض (یعنی سفید محل) کی درخواست کرتا
ہوں، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اے لڑکے! اللہ سے جنت کا سوال کر اور دوزخ سے پناہ
مانگ، اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریب میں اس امت
میں ایسے لوگ ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے بڑھ جائیں گے۔ (اس کی روایت امام احمد، ابو
داؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 96 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3864 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: طہارت میں حد سے بڑھنا یہ ہے کہ تین بار سے زیادہ اعضاء کو دھوئے اور پانی زیادہ خرچ
کرے۔ اور دھونے میں اس قدر مبالغہ کرے کہ حد وسواس کو پہنچے۔ اور دعا میں حد سے بڑھنا یہ ہے کہ بے
ادبی کرے اور مطلب کے مانگنے میں قیدیں لگائے یا ایسی چیز کا سوال کرے جو امکان اور عادت سے باہر ہو۔12
Ubayy bin Ka'b (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet ﷺ said: "There is a devil for wudu (ablution) called 'Al-Walahan.' So beware of the whispers of water." [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah]
Tirmidhi said: This is a strange hadith, and its chain of narration is not strong according to the scholars of hadith, as we do not know anyone who has narrated it other than Kharijah, and he is not considered strong by our scholars
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ وضوء کا ایک شیطان ہے جس کا نام ولہان ہے، لہٰذا پانی کے
وسوسوں سے بچو، کیونکہ یہ وسوسے اسی شیطان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی
اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Abdullah bin Amr bin al-As (may Allah be pleased with them) said: The Prophet ﷺ passed by Sa'd while he was performing wudu, and said: "What is this extravagance, O Sa'd?" Sa'd replied: "Is there extravagance in wudu?" The Prophet ﷺ said: "Yes, even if you are at a flowing river."
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کا گزر سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سے ہوا اور وہ وضوء کر رہے تھے، آپ نے فرمایا: اے سعد
(رضی اللہ عنہ) یہ کیا اسراف ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وضوء
میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: کہ ہاں اگرچہ تم نہر جاری پر بھی کیوں نہ ہو۔ (اس
کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Abdullah bin Amr (may Allah be pleased with him) narrated: "We were returning with the Messenger of Allah ﷺ from Makkah to Madinah, and when we reached a water source along the way, a group of people rushed to perform wudu in haste. When we reached them, their heels were still dry and had not been touched by water. The Messenger of Allah ﷺ said: 'Woe to the heels from the Fire! Complete your wudu properly.'"
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی جانب واپس آ رہے تھے کہ راستہ میں ایک چشمہ پر
پہنچے تو عصر کی نماز کے وقت لوگوں نے جلدی جلدی وضوء کرلیا، اور، ہم نے پہنچ کر دیکھا کہ ان کی
ایڑیاں نمایاں طور پر خشک نظر آ رہی تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خشک رہ جانے
والی ایڑیوں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے، لوگو وضوء پورا پورا کرو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Lakit bin Sabirah said: I asked, "O Messenger of Allah, tell me about wudu (ablution)." He ﷺ said: "Perform wudu thoroughly, and clean between your fingers, and make an effort in inhaling water through your nose, except when you are fasting."
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے وضوء سے متعلق فرمائیے؟ ارشاد ہوا کہ وضوء کامل کرو اور انگلیوں کے
درمیان خلال کیا کرو۔
اور ناک کو اچھی طرح صاف کیا کرو مگر یہ کہ تم روزہ دار ہو تو ناک میں پانی پہنچانے میں زیادتی
نہ کرو۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے، اور دارمی نے انگلیوں کے خلال
تک روایت کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم وضوء کیا کرو تو دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کی انگلیوں میں خلال کرو۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے، اور ابن ماجہ کی روایت بھی اسی طرح ہے۔)
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضوء فرماتے تو چھوٹی انگلی سے پاؤں کی انگلیوں میں خلال
فرماتے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Anas said: The Messenger of Allah ﷺ, when performing wudu, would take a handful of water and put it under his chin, rubbing his beard with it, and said: "This is how my Lord has commanded me."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
وضوء فرماتے تو چلو بھر پانی ہاتھ میں لے کر ٹھوڑی کے نیچے داخل فرماتے تھے اور اس سے اپنی ریش
مبارک کا خلال فرماتے اور ارشاد فرماتے تھے کہ مجھ کو میرے رب نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔ (اس کی
روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی
داڑھی کا خلال فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم وضوء فرماتے تو دونوں رخساروں کو خفیف سا رگڑتے، پھر داڑھی کے نیچے انگلیوں کے ذریعہ
خلال فرماتے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے وضوء فرماتے تو انگلی کی انگوٹھی کو حرکت دیتے تھے۔ (اس کی روایت دارقطنی
اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Aisha said: The Prophet ﷺ liked to begin with the right side whenever possible in all his matters: in his appearance, combing his hair, and putting on his shoes.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم
علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اپنے تمام کاموں میں بقدر امکان داہنے جانب سے شروع کرنے کو پسند فرماتے
خواہ وہ وضوء (کے وقت یا) کنگھی کرتے وقت، یا جوتا پہننے وقت۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس
کی روایت کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب تم کپڑے پہنو اور جب وضوء کرو تو داہنی طرف سے شروع کیا کرو۔ (اس کی روایت امام
احمد اور ابو داؤد نے کی ہے۔)
عطاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
وضوء فرمایا تو عمامہ کو سر سے ہٹایا اور سر کے اگلے حصہ پر مسح فرمایا۔ (اس کی روایت: بیہقی نے کی ہے۔)
Anas said: I saw the Messenger of Allah ﷺ performing wudu while wearing a Qitri turban, and he put his hands under the turban and wiped the front of his head. [Narrated by Abu Dawood, and Al-Hakim narrated a similar version from Abu Ma'qil]
Shumuni said: It is well known that the forelock and the front of the head are one of its four sides. If wiping a quarter of the head were not sufficient, he would not have limited himself to that. And if wiping less than that was sufficient, the Prophet ﷺ would have done it at least once in his lifetime as a lesson for the permissibility.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ مقام قطریہ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے تو آپ نے مسح
فرماتے وقت عمامہ میں ہاتھ داخل فرما کر سر کے اگلے حصہ کا مسح فرمایا (اس کی روایت ابوداؤد نے کی
ہے۔)
اور حاکم نے ابو معقل سے ایسی ہی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 147 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
علامہ شمنی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے ناصیہ اور مقدم راس، سر کے چاروں جانب میں سر
کا ایک جانب ہے اگر سر کے چوتھائی حصہ کا مسح ناکافی ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اسی
پر اکتفاء نہ فرماتے اور اگر اس سے کم پر مسح ہوتا تو آپ چوتھائی سے کم پر بھی مسح فرماتے اور تعلیم جواز
کے لئے کم از کم عمر میں ایک مرتبہ ضرور ایسا فرماتے۔
امام زُہری رحمۃ اللہ علیہ نے سالم رضی اللہ عنہ سے اور سالم رضی اللہ عنہ نے اپنے
والد سے روایت کی ہے کہ وہ وضوء کرتے وقت سر کے اگلے حصہ پر مسح کرتے تھے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ملی ہے کہ ان سے عمامہ پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا: عمامہ
پر مسح صحیح نہیں کیوں کہ مسح اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ پانی سر کے بالوں تک نہ پہنچ جائے۔
(اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور وضاحت کی ہے اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی قول امام ابو
حنیفہ رضی اللہ عنہ کا ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کہ اس میں قیاس کی گنجائش نہیں۔