Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Purification · Chapter 6

Chapter on The Obligations, Sunnahs, and Etiquettes of Wudu (Ablution)

74 narrations · In source reading order

Hadith 466

Volume 1

English

Nafi' said: I saw Safiya bint Abi Ubayd performing wudu and removing her headscarf, then wiping her head. Nafi' added: "I was young at that time."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٦٦ - وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَأَيْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ تَتَوَضَّأُ وَتَنْزِعُ خِمَارَهَا، ثُمَّ تَمْسَحُ بِرَأْسِهَا، قَالَ نَافِعٍ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ صَغِيرُ. رَوَاهُ مُحَمَّدٌ ، وَقَالَ: بِهَذَا نَأْخُذُ، لَا يَمْسَحُ عَلَى الْحِمَارِ وَلَا الْعِمَامَةِ. بَلَغَنَا أَنَّ الْمَسْحَ عَلَى الْعِمَامَةِ كَانَ، فَتُرِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 514
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے صفیہ بنت ابو عبید رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ وضوء کرتیں تو اوڑھنی ہٹا کر سر کا مسح کرتیں، نافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت کم عمر تھا۔ اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور وضاحت کی ہے کہ اسی پر ہمارا عمل ہے کہ نہ تو عمامہ پر مسح کیا جائے اور نہ اوڑھنی پر، ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عمامہ پر مسح کیا جاتا تھا پھر وہ متروک و منسوخ ہو گیا اور یہی قول امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ہمارے جمہور فقہاء کا ہے۔

Hadith 467

Volume 1

English

Abu Hayyah said: I saw Ali perform wudu, and he washed his hands until they were clean, then rinsed his mouth three times and sniffed water up his nose three times. He washed his face three times, his arms three times, wiped his head once, then washed his feet up to the ankles. Then he stood and drank the remainder of his ablution while standing. He then said: "I wanted to show you how the wudu of the Messenger of Allah was."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٦٧ - وَعَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُوْرِهِ، فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ. ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُوْرُ رَسُوْلِ اللهِ . رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 515
ابو حیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو وضوء فرماتے دیکھا کہ پہلے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ان کو پاک کیا، پھر تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی لیا اور تین مرتبہ چہرہ کو دھویا اور ہاتھوں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا اور سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھویا، پھر کھڑے ہوئے اور وضوء سے بچا ہوا پانی اسی قیام کی حالت میں پی لیا، پھر فرمایا کہ میں تم کو یہ بتلانا چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء کس طرح ہوتا تھا۔ (اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 48 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 468

Volume 1

English

From Hussain ibn Ali: Ali called for water, and when it was brought to him, he washed his hands three times before putting them into the water for wudu. Then he rinsed his mouth three times, inhaled water through his nose three times, washed his face three times, washed his right arm up to the elbow three times, and did the same for his left arm. He then wiped his head once, washed his right foot up to the ankles three times, and did the same for his left foot. After this, he stood up and said to me: "Hand it to me." I handed him the remaining water from his wudu, and he drank it while standing. I was amazed. When he saw my amazement, he said: "Do not be amazed, for I saw your father, the Prophet ﷺ, do the same thing. He would say, 'With this wudu,' and he would drink the remaining water from his wudu while standing." [Narrated by Nasai, At-Tahawi, Ibn Jarir, and authenticated by Ibn Abi Shaybah] In the Musnad of our Imam Abu Hanifa: From Ali ibn Abi Talib: He performed wudu, washed his hands three times, rinsed his mouth three times, inhaled water three times, washed his face three times, his arms three times, wiped his head, and washed his feet. He said: "This is the wudu of the Messenger of Allah ﷺ." And in another narration from Ali: He called for water, washed his hands three times, rinsed his mouth three times, inhaled water three times, washed his face three times, his arms three times, wiped his head three times, and washed his feet three times. Then he said: "This is the wudu of the Messenger of Allah ﷺ." Abdullah ibn Muhammad ibn Ya'qub, meaning the one who narrated from Abu Hanifa in this hadith, said that the Prophet ﷺ wiped his head three times, placing his hand on the crown of his head, then extended his hands to the back of his head, and then to the front, making it three times. However, this was only once because he did not separate his hand, nor did he take water three times. It is as if he placed the water in his hand and extended it to his neck. Do you not see that Ali clarified in the narrations from him—by Jarrud ibn Zayd, Kharijah ibn Mus'ab, and Asad ibn Umar—that the wiping was done only once? He made it clear that this is what we have mentioned.

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٦٨ - وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيَّ (رضي الله عنهما) قَالَ: دَعَا عَلِيٌّ بِوَضُوْءٍ ، فَقُرِّبَ لَهُ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوْئِهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ لي: نَاوِلْنِي. فَنَاوَلْتُهُ الَّذِي فِيْهِ فَضْلُ وَضُوْئِهِ، فَشَرِبَهُ قَائِمًا، فَعَجِبْتُ. فَلَمَّا رَأَى عَجَبِي قَالَ: لَا تَعْجَبْ فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَاكَ النَّبِيَّ ﷺ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا رَأَيْتَنِي، يَقُوْلُ بَوَضُوْئِهِ هَذَا، وَيَشْرَبُ فَضْلَ وَضُوْئِهِ قَائِمًا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالطَّحَاوِيُّ وَابْنُ جَرِيرٍ وَصَحَّحَهُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَفِي مُسْنَدِ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّهُ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: هَذَا وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ . وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَلِيَّ (رضي الله عنه): أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ. قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوْبَ، يَعْنِي بِهِ مَنْ رَوَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا عَلَى أَنَّهُ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى يَافُوْخِهِ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ، فَجَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ مَرَّةً وَاحِدَةً؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُبَايِنْ يَدَهُ، وَلَا أَخَذَ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَهُوَ كَمَنْ جَعَلَ الْمَاءَ فِي كَفِّهِ، ثُمَّ مَدَّهُ إِلَى كُوْعِهِ. أَلَا تَرَى أَنَّهُ أَي عَلِيًّا بَيَّنَ فِي الْأَحَادِيثِ الَّتِي رَوَى عَنْهُ - وَهُمُ الْجَارُوْدُ بْنُ زَيْدٍ وَخَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ وَأَسَدُ بْنُ عُمَرَ - الْمَسْحَ كَانَ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَبَيَّنَ أَنَّ مَعْنَاهُ مَا ذَكَرْنَا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 516Noor 517Noor 518
حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے والد علی رضی اللہ عنہ نے وضوء کرنے کے لئے پانی طلب کیا تو پانی پیش کیا گیا، تو آپ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک پانی میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی لیا، پھر تین مرتبہ چہرے کو دھویا، پھر سیدھے ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، اسی طرح بائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا صرف ایک دفعہ مسح کیا، پھر سیدھے پیر کو تین دفعہ ٹخنوں سمیت دھویا، پھر اسی طرح بائیں پیر کو بھی تین مرتبہ دھویا پھر کھڑے ہوگئے۔ اور مجھ سے فرمایا کہ برتن دے دو تو میں نے برتن دے دیا جس میں وضوء کا بقیہ پانی تھا تو آپ نے کھڑے ہو کر اس پانی کو پی لیا، اس پر میں نے تعجب کیا، جب میرے تعجب کو دیکھا تو فرمایا کہ تعجب مت کرو، میں نے تمہارے ابا جان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھ کو دیکھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضوء فرماتے تھے اور وضوء سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیتے۔ (اس کی روایت نسائی، طحاوی اور ابن جریر نے کی ہے اور ابن جریر نے اس کو صحیح بتلایا ہے اور ابن ابی شیبہ نے بھی اس کی روایت کی ہے۔) ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی مسند میں علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضوء فرمایا تو دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک تین مرتبہ دھویا اور تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک کو پانی سے صاف فرمایا اور تین مرتبہ چہرے کو دھویا اور دونوں ہاتھوں کو (کہنیوں سمیت) تین مرتبہ دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا اور فرمایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے وضوء کے لئے پانی طلب فرمایا اور دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ پانی سے ناک صاف فرمایا اور تین مرتبہ چہرے کو دھویا اور دونوں ہاتھوں کو تین تین مرتبہ کہنیوں سمیت دھویا اور تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا پھر فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 95 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

عبداللہ بن محمد بن یعقوب رحمہ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جس شخص نے تین مرتبہ سر کے مسح کرنے کی روایت کی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تین مرتبہ سر کا مسح اس طرح کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنا دست مبارک تالو پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں کو سر کے پچھلے حصہ تک لے گئے پھر وہاں سے ہاتھوں کو سر کے اگلے حصہ تک واپس لائے اور اسی کو تین مرتبہ مسح قرار دیا حالانکہ وہ (پورے سر پر) ایک ہی مرتبہ تھا اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو سر سے الگ نہیں کیا اور نہ تین مرتبہ آپ نے پانی لیا، یہ ایسا ہے جیسے کوئی پانی ہاتھ میں لے پھر اس کو بہو بچوں کے کنارے تک کھینچ لے جائے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے جارود بن زید، خارجہ بن مصعب اور اسد بن عمر رضی اللہ عنہم سے جو روایت کی ہے اس میں صرف ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے تو جب خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسح کرنے کی روایت کی ہے تو اسی صورت میں تین مرتبہ مسح کرنے کا مفہوم وہی ہوگا جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔

Hadith 469

Volume 1

English

From Humran: I saw Uthman ibn Affan performing wudu. He poured water on his hands three times, then washed them, rinsed his mouth three times, inhaled water through his nose three times, then washed his face three times. He washed his right hand up to the elbow three times, then the left hand the same, wiped his head, and washed his right foot up to the ankle three times, then the left foot three times. Then he said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ perform wudu in this manner." He added: "Whoever performs wudu like my wudu, then prays two rak'ahs without distracting himself in them, his past sins will be forgiven."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٦٩ - وَعَنْ حُمْرَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ (رضي الله عنه) تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْل ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَتَوَضَّأُ مِنْ نَحْوِ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا - وَفِي رِوَايَةٍ مِثْلَ وُضُونِي هَذَا - ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَالدَّارَ قُطْنِي وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 519
حمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو وضوء کرتے دیکھا تو آپ نے دونوں ہاتھوں پر پہنچوں تک تین مرتبہ پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی لے کر سینکا پھر تین مرتبہ چہرے کو دھویا، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، اور بائیں ہاتھ کو کہنی سمیت اسی طرح تین مرتبہ دھویا، پھر آپ نے سر کا مسح کیا پھر سیدھے پیر کو ٹخنوں سمیت تین دفعہ دھویا، پھر بائیں پیر کو اسی طرح تین دفعہ دھویا، اس کے بعد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے اس وضوء کی طرح وضوء فرماتے دیکھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا اور دو رکعتیں اس طرح ادا کیں کہ ان رکعتوں میں کوئی وسوسہ نہ لائے تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ (اس کی روایت بخاری، مسلم، ابوداؤد، امام احمد، دارقطنی، ابن حبان اور ابن خزیمہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 159 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 226a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 106 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 470

Volume 1

English

From Abu Alqama, from Uthman ibn Affan: One day, Uthman called for water for wudu, then invited some of the companions of the Messenger of Allah ﷺ. He poured water from his right hand over his left hand and washed them three times. He then rinsed his mouth three times, inhaled water through his nose three times, washed his face three times, washed his hands three times up to the elbows, wiped his head, and washed his feet thoroughly. Then he said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ perform wudu like this wudu you saw me perform." He then said: "Whoever performs wudu and does it well, then prays two rak'ahs, his sins will be forgiven, as if he was born anew from his mother." He then asked: "Is this the same, O so-and-so?" The reply was, "Yes." He asked again: "Is this the same, O so-and-so?" The reply was, "Yes," until he had confirmed with several companions of the Messenger of Allah. Then he said: "Praise be to Allah who made you agree with me on this."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧٠ - وَعَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّهُ دَعَا يَوْمًا بِوَضُوْءٍ، ثُمَّ دَعَا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَأَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، وَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فَأَنْقَاهُمَا ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَتَوَضَّأُ مِثْلَ هَذَا الْوُضُوءِ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي تَوَضَّأْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». ثُمَّ قَالَ: أَكَذَلِكَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أَكَذَلِكَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: نَعَمْ، حَتَّى اسْتَشَهَدَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي وَافَقْتُمُونِي عَلَى هَذَا. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِي.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 520
ابوعلقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک دن وضوء کے لئے پانی طلب کیا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے چند حضرات کو بلوا لیا پھر اپنے داہنے ہاتھ میں پانی لے کر بائیں ہاتھ پر ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی فرمائی اور تین مرتبہ ناک میں پانی لیا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا مسح فرمایا پھر اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا اور صاف کیا پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بالکل اسی طرح وضوء فرماتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے اب وضوء کرتے دیکھا ہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضوء کیا اور اچھی طرح وضوء کیا، پھر دو رکعت (تحیۃ الوضوء) پڑھ لیں تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوگا جیسے وہ اس دن پاک تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے (حاضرین صحابہ میں سے) ایک سے پوچھا کہ: اے فلاں کیا ایسا ہی ہوا ہے نا؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! ایسا ہی ہوا ہے، پھر آپ نے دوسرے سے پوچھا بات ایسی ہی ہے نا؟ تو انہوں نے بھی جواب دیا جی ہاں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے چند حضرات کی (اس بات پر) گواہی لے لی، پھر فرمایا اللہ بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ تم نے اس معاملہ میں میری تائید کی۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)

Hadith 471

Volume 1

English

From Uqbah ibn Amir: We were responsible for tending camels, and my turn came. I took them for grazing in the afternoon and caught up with the Messenger of Allah ﷺ, who was standing addressing the people. I overheard him saying: "No Muslim performs wudu and does it well, then stands to pray two rak'ahs, focusing on them with his heart and face, except that Paradise becomes obligatory for him."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧١ - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرِ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ، فَجَاءَتْ نَوْبَتِي، فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيَّ فَأَدْرَكْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يَقُوْمُ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلًا عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 521
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اونٹوں کی چرواہی کیا کرتے تھے، جب میری باری آئی تو میں ایک دن شام کے وقت اونٹوں کو واپس لا رہا تھا، میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہوئے لوگوں سے حدیث بیان فرماتے ہوئے پایا، اور آپ (اس وقت) یہ ارشاد فرما رہے تھے ”ہر وہ مسلمان جو وضوء کرے اور اپنے وضوء کو اچھی طرح کر کے پھر کھڑا ہو جائے اور دو رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ دونوں رکعتوں میں اس کا دل اور اس کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رہے تو جنت اس پر واجب ہوگی“۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 234a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 472

Volume 1

English

From Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said to Bilal: "O Bilal, tell me about the most hopeful deed you have done in Islam, for I have heard the sound of your sandals before me in Paradise." Bilal replied: "I have not done any deed more hopeful than the fact that whenever I perform wudu, whether in the night or day, I pray with that wudu the obligatory prayer."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه): أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ لِبَلَالٍ: «يَا بَلَالُ، حَدَّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ». قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي مِنْ أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا وَصَلَّيْتُ بِذَلِكَ الظُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 522
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ اے بلال (رضی اللہ عنہ)! تم اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا ایسا عمل مجھے بتلاؤ کہ جس پر سب سے زیادہ ثواب کی امید قائم کی جاسکے کیونکہ میں نے تمہارے دونوں جوتوں کی آہٹ جنت میں اپنے آگے سنی ہے، بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے جس پر ثواب کی امید سب سے زیادہ کی جاسکتی ہو، بجز اس بات کے کہ جب کبھی رات کے یا دن کے کسی حصہ میں طہارت (یعنی وضوء یا غسل) کرتا ہوں تو اس طہارت سے اللہ تعالیٰ نے میرے حصہ میں جو نمازیں مقدر فرمائی ہیں ان کو ضرور پڑھ لیا کرتا ہوں۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1149 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 473

Volume 1

English

From Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever recites after performing wudu: 'Indeed, We sent it down on the Night of Decree' once, will be among the Siddiqs. Whoever recites it twice will be among the martyrs. Whoever recites it three times, Allah will gather him in the gathering of the prophets." [Narrated by Daylami] Al-Khalbi said: "It is also narrated in some reports that whoever recites it after wudu will have their sins forgiven for fifty years."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧٣ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ قَرَأَ فِي أَثَرِ وُضُوئِهِ: «إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاحِدَةً كَانَ مِنَ الصِّدِّيقِينَ، وَمَنْ قَرَأَهَا مَرَّتَيْنِ كَانَ فِي دِيْوَانِ الشُّهَدَاءِ، وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثًا يَحْشُرُهُ اللهُ مَحْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ». رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ. قَالَ الْخَلْبِيُّ: وَأَيْضًا رُوِيَ فِي ذَلِكَ آثَارُ لَا بَأْسَ بِهَا فِي الفَضَائِلِ. مِنْهَا: أَنَّ مَنْ قَرَأَهَا فِي أَثَرِ الْوُضُوْءِ غَفَرَ اللهُ لَهُ ذُنُوْبَ خَمْسِيْنَ سَنَةٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 523Noor 524
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو وضوء سے فارغ ہونے کے بعد سورہ ﴿اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِىْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ ایک مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اس کا شمار صدیقین میں ہوگا اور جو دو مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اس کو شہداء کے دفتر میں شریک کیا جائے گا اور جو تین مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا حشر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ فرمائے گا۔ (اس کی روایت دیلمی نے کی ہے)۔ ان ہی میں سے ایک یہ ہے کہ جس نے وضوء کے بعد سورہ ﴿اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ﴾ کو پڑھا تو اس کے پچاس سال کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: حلبی کا قول ہے کہ اس خصوص میں اس قسم کی کئی روایتیں موجود ہیں جو فضائل اعمال میں قابل قبول ہیں۔

Hadith 474

Volume 1

English

From Mu'adh ibn Jabal: I saw the Messenger of Allah ﷺ, when he performed wudu, would wipe his face with the edge of his garment.

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧٤ - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رضي الله عنه) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 525
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضوء فرماتے تو چہرہ مبارک کو اپنے کپڑے کے ایک کنارے سے پونچھ لیتے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 54 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 475

Volume 1

English

From Aisha: The Messenger of Allah ﷺ had a piece of cloth with which he would dry his body parts after wudu. 1 [Narrated by Tirmidhi] Tirmidhi said: "This hadith is not a sound one, and Abu Mu'adh, the narrator, is weak according to the scholars of hadith. However, some scholars, including the companions of the Messenger of Allah ﷺ and those who came after them, permitted using a cloth after wudu." Ali al-Qari said: "It is unimaginable that people like Uthman, Anas, and Hasan ibn Ali would have done this on their own. Their actions indicate that this hadith has a foundation, and acting upon a hadith, even if weak, is preferable to acting upon an opinion, even if strong."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧٥ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ خِرْقَ خِرْقَةٌ1 يُنَشِّفُ بِهَا أَعْضَاءَهُ بَعْدَ الْوُضُوْءِ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ، وَأَبُوْ مُعَاذٍ الرَّاوِي ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي الْمِنْدِيْلِ بَعْدَ الْوُضُوْءِ. قَالَ عَلِيُّ الْقَارِي: لَا يُتَصَوَّرُ أَنْ يَفْعَلَ مِثْلُ عُثْمَانَ وَأَنَسٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيَّ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمْ شَيْئًا، بَلْ فِعْلُهُمْ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ لِلْحَدِيْثِ أَصْلًا، وَالْعَمَلُ بِالْحَدِيْثِ وَلَوْ ضَعِيفًا أَوْلَى مِنَ الْعَمَلِ بِالرَّأْيِ وَلَوْ قَوِيًّا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 526
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک کپڑا تھا جس سے آپ وضوء کے بعد اعضائے مبارک کو خشک فرما لیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 53 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He had a piece of cloth with which he would dry his body parts after wudu,

(1) Regarding the statement: "He had a piece of cloth with which he would dry his body parts after wudu," Ibn Hajar said: "If this is authentic, it should be understood as being done either out of necessity or to show that it is permissible. Maimunah came to him after he performed wudu with a cloth, but he rejected it and began wiping the water off with his hands. For this reason, the Shafi'i scholars say it is recommended for one performing wudu or ghusl to refrain from drying off, following the example of the Prophet ﷺ." In "Al-Khanyah," it is stated that the Hanafi scholars do not see any harm in using a cloth for wiping after wudu or ghusl, as it was narrated that the Prophet ﷺ did this, and this is the correct position. However, one should avoid overdoing it or being excessive. In "Sharah al-Kanz" by al-Zayla'i, it is also noted that wiping with a cloth after wudu is permissible, and this was practiced by Uthman, Anas, Hasan ibn Ali, and Masruq. The commentary in "Ma'raj al-Rayah" mentions that while wiping with a cloth is permissible, it should not be done excessively, so that the traces of wudu remain on the body parts. "Al-Muniyah" also explicitly states that it is recommended to wipe with a cloth. Therefore, while some narrations indicate a rejection, it could have been done for a specific reason or to demonstrate the permissibility of wiping with a cloth.

Note 1

قوله

(۱) قوله : خرقة ينشف بها إلخ : قال ابن حجر : هذا إن صح فمحمول على أنه لعذر أو لبيان الجواز؛ لأن ميمونة أتته بعد وضوئه بمنديل فرده، وجعل ينفض الماء بيده، ولذا قال أصحابنا الشافعية يسن للمتوضئ والمغتسل ترك التنشيف للاتباع. اهـ وفي الخانية»: لا بأس عند الحنفية للمتوضئ والمغتسل أن يتمسح بالمنديل؛ لما روي عن رسول الله ﷺ أنه فعل ذلك، وهو الصحيح. إلا أنه ينبغي أن لا يبالغ ولا يستقصى. وفي شرح الكنز» للزيلعي : لا بأس بالتمسح بالمنديل بعد الوضوء، روي ذلك عن عثمان وأنس والحسن بن على ومسروق. وقال في معراج الراية»: إلا أنه لا يبالغ فيبقى أثر الوضوء على أعضائه، وصرح باستحباب التمسح صاحب «المنية» هذا. ويمكن أن يكون رده لعذر أو لبيان الجواز. كذا في «المرقاة» وغيره.

Note 1

ف: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضوء کے بعد رومال پیش کیں تو آپ نے اس کو واپس فرمایا اور دست مبارک سے پانی کو پونچھنے لگے، اسی بناء پر شوافع کہتے ہیں کہ وضوء اور غسل کرنے والے کے لئے مسنون یہ ہے کہ وہ رومال وغیرہ سے اعضاء کو پونچھا نہ کرے، لیکن خانیہ میں لکھا ہے کہ احناف کے پاس وضوء کرنے والے اور غسل کرنے والے کے اعضاء کو کپڑے سے خشک کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے اس طرح پونچھا ہے اور یہی صحیح ہے، البتہ پونچھنے میں بہت ہی زیادتی نہ کرے، چنانچہ شرح کنز اور زیلعی میں مذکور ہے کہ وضوء کے بعد کپڑے سے پونچھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لئے کہ حضرت عثمان، انس، امام حسن بن علی اور مسروق رضی اللہ عنہم سے پونچھنے کی روایت آئی ہے۔ اور معراج الدرایہ میں مذکور ہے کہ پونچھنے میں بہت ہی زیادتی نہ کرے بلکہ اس طرح پونچھے کہ اعضائے وضوء پر وضوء کے پانی کے علامات باقی رہیں، پونچھنے کے مستحب ہونے کی صراحت مصنف منیہ نے کی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا رومال واپس فرما دیا ہو تو کسی عذر کے لئے ہو یا یہ بتلانے کے لئے کہ نہ پونچھنا بھی جائز ہے۔ (ماخوذ از ”مرقات“ وغیرہ)۔

Hadith 476

Volume 1

English

Narrated Anas: The Messenger of Allah ﷺ would perform wudu for every prayer, and one of us was enough to perform wudu unless he had broken it.

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧٦ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَكَانَ أَحَدُنَا يَكْفِيْهِ الْوُضُوْءُ مَا لَمْ يُحْدِثُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 527
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لئے وضوء فرماتے اور ہم میں سے بعض ایسے تھے کہ جب تک وضوء نہ ٹوٹتا تو ایک ہی وضوء سے کئی نمازیں ادا کرتے۔ (اس کی روایت دارمی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 436 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 436

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 477

Volume 1

English

Narrated Muhammad ibn Yahya ibn Hibban: I asked Ubaydullah ibn Abdullah ibn Umar: "Was Abdullah ibn Umar performing wudu for every prayer, whether he was pure or not, and from whom did he take this practice?" He replied: "Asma' bint Zayd ibn al-Khattab narrated to me that Abdullah ibn Hanzala al-Ghaseel told her that the Messenger of Allah ﷺ was commanded to perform wudu for every prayer, whether pure or impure. When this became difficult for the Messenger of Allah ﷺ, he was commanded to use the siwak at each prayer, and the wudu was lifted from him except for after an event of impurity. Abdullah ibn Umar believed he had the strength to do so, and he continued doing it until he died."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧٧ - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ قَالَ: قُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: أَرَأَيْتَ وُضُوْءَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّنْ أَخَذَهُ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْغَسِيْلِ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، طَاهِرًا كَانَ أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ. فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ أُمِرَ بِالسَّوَاكِ عِنْدَ كُلَّ صَلَاةٍ، وَوُضِعَ عَنْهُ الْوُضُوْءُ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً عَلَى ذَلِكَ، فَفَعَلَهُ حَتَّى مَاتَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 528
محمد بن یحییٰ بن حبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا با وضوء ہوں یا نہ ہوں، ہر دو حالت میں ہر نماز کے لئے وضوء کرنا، اس عمل کو انہوں نے کس سے اختیار کیا ہے؟ عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اسماء بنت زید بن الخطاب رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی اور اسماء رضی اللہ عنہا کو عبداللہ بن حنظلہ ابن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے جن کو ملائکہ نے غسل دیا تھا حدیث بیان کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لئے وضوء کا حکم دیا گیا تھا خواہ وضوء سے ہوں یا بے وضوء ہوں، اور جب ہر نماز کے لئے وضوء کرنا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزرا تو آپ کو ہر نماز کے لئے مسواک کرنے کا حکم دیا گیا اور آپ سے اس طرح کی پابندی وضوء کے بارے میں دور کر دی گئی مگر یہ کہ بے وضوء ہونے کی صورت میں تو (وضوء ضروری ہے) عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ خیال تھا کہ (وضوء اور بے وضوء ہر دو حالتوں میں ہر نماز کے لئے وضوء کرنے کی) ان میں قوت موجود ہے، اس بناء پر وہ مرتے دم تک اس پر عمل کرتے رہے۔ ((اس کی روایت امام احمد بن حنبل نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 389 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 389

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا خواہ وضوء ہو یا نہ ہو عزیمت ہے، اور ایک ہی وضوء سے کئی نمازوں کا ادا کرنا رخصت ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وضوء اور بے وضوء، ہر دو حالتوں میں ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا عزیمت پر عمل تھا۔

Hadith 478

Volume 1

English

Narrated Abu Gutaif al-Hudhali: I prayed with Abdullah ibn Umar the Zuhr prayer, then he went to his sitting place in his house. I followed him, and when the call for Asr prayer was made, he called for wudu, performed it, then went out and prayed Asr. Afterward, he returned to his sitting place, and I followed him. When the call for Maghrib was made, he called for wudu again, and performed it. I asked him: "What is this, O Abu Abdur Rahman, wudu for every prayer?" He replied: "You have noticed this from me; it is not a Sunnah. If my wudu from Fajr is enough, it is sufficient for all my prayers as long as I do not break it. But I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'Whoever performs wudu while in a state of purity, Allah will record for him ten good deeds.' And this is what I desired, O son of my brother."

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧٨ - وَعَنْ أَبِي غُطَيْفِ الْهُذَلِيّ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ الظُّهْرَ، فَانْصَرَفَ فِي مَجْلِسٍ فِي دَارِهِ، فَانْصَرَفْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا نُودِيَ بِالْعَصْرِ دَعَا بِوَضُوْءٍ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَجْلِسِهِ، وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا نُوْدِيَ بِالْمَغْرِبِ دَعَا بِوَضُوْءٍ فَتَوَضَّأَ ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ؟ فَقَالَ: وَقَدْ فَطِنْتَ لِهَذَا مِنِّي، لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، إِنْ كَانَ لَكَافٍ وُضُوئِي لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَوَاتِي كُلَّهَا مَا لَمْ أُحْدِثُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللهُ لَهُ بِذَلِكَ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، فَفِي ذَلِكَ رَغِبْتُ يَا ابْنَ أَخِي. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 529
ابو غطیف ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز ظہر پڑھی اس کے بعد وہ اپنے گھر اپنی نشست گاہ کو واپس ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ ہو لیا، جب عصر کی اذان دی گئی تو آپ نے وضوء کے لئے پانی منگوایا اور وضو فرمایا، پھر آپ گھر سے نکلے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، اور جب مغرب کی اذان ہوئی تو آپ نے وضوء کے لئے پانی طلب کیا اور وضوء کیا تو اس پر میں نے پوچھا اے ابوعبدالرحمن (رضی اللہ عنہ) ہر نماز کے لئے وضوء کرنا کیسا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ میرا ہر نماز کے لئے وضوء کرنا سنت نہیں ہے اور مجھے چاہئے تھا کہ صبح کی نماز کے وضوء سے اگر درمیان میں وضوء نہ ٹوٹے تو باقی تمام نمازیں پڑھ لوں، ایسا نہیں ہے میرا ہر نماز کے لئے وضوء کرنا سنت ہے، اس لئے کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی وضوء کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں تو اے بھتیجے! اسی ثواب کے لئے میرا یہ عمل ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 479

Volume 1

English

Narrated Aisha: The Prophet ﷺ used to have his wudu and miswak placed for him, and when he would stand up at night, he would go away and then use the miswak.

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٧٩ - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُوْضَعُ لَهُ وَضُوْءُهُ وَسِوَاكُهُ، فَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ تَخَلَّى، ثُمَّ اسْتَاكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 530
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضوء کا پانی اور مسواک رکھی جاتی، جب آپ رات میں بیدار ہوتے تو ضرورت سے فارغ ہوتے اور مسواک کیا کرتے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 56 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.