English
From Hussain ibn Ali: Ali called for water, and when it was brought to him, he washed his hands three times before putting them into the water for wudu. Then he rinsed his mouth three times, inhaled water through his nose three times, washed his face three times, washed his right arm up to the elbow three times, and did the same for his left arm. He then wiped his head once, washed his right foot up to the ankles three times, and did the same for his left foot. After this, he stood up and said to me: "Hand it to me." I handed him the remaining water from his wudu, and he drank it while standing. I was amazed. When he saw my amazement, he said: "Do not be amazed, for I saw your father, the Prophet ﷺ, do the same thing. He would say, 'With this wudu,' and he would drink the remaining water from his wudu while standing." [Narrated by Nasai, At-Tahawi, Ibn Jarir, and authenticated by Ibn Abi Shaybah]
In the Musnad of our Imam Abu Hanifa: From Ali ibn Abi Talib: He performed wudu, washed his hands three times, rinsed his mouth three times, inhaled water three times, washed his face three times, his arms three times, wiped his head, and washed his feet. He said: "This is the wudu of the Messenger of Allah ﷺ."
And in another narration from Ali: He called for water, washed his hands three times, rinsed his mouth three times, inhaled water three times, washed his face three times, his arms three times, wiped his head three times, and washed his feet three times. Then he said: "This is the wudu of the Messenger of Allah ﷺ."
Abdullah ibn Muhammad ibn Ya'qub, meaning the one who narrated from Abu Hanifa in this hadith, said that the Prophet ﷺ wiped his head three times, placing his hand on the crown of his head, then extended his hands to the back of his head, and then to the front, making it three times. However, this was only once because he did not separate his hand, nor did he take water three times. It is as if he placed the water in his hand and extended it to his neck. Do you not see that Ali clarified in the narrations from him—by Jarrud ibn Zayd, Kharijah ibn Mus'ab, and Asad ibn Umar—that the wiping was done only once? He made it clear that this is what we have mentioned.
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٦٨ - وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيَّ (رضي الله عنهما) قَالَ: دَعَا عَلِيٌّ بِوَضُوْءٍ ، فَقُرِّبَ لَهُ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوْئِهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ لي: نَاوِلْنِي. فَنَاوَلْتُهُ الَّذِي فِيْهِ فَضْلُ وَضُوْئِهِ، فَشَرِبَهُ قَائِمًا، فَعَجِبْتُ.
فَلَمَّا رَأَى عَجَبِي قَالَ: لَا تَعْجَبْ فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَاكَ النَّبِيَّ ﷺ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا رَأَيْتَنِي، يَقُوْلُ بَوَضُوْئِهِ هَذَا، وَيَشْرَبُ فَضْلَ وَضُوْئِهِ قَائِمًا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالطَّحَاوِيُّ وَابْنُ جَرِيرٍ وَصَحَّحَهُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
وَفِي مُسْنَدِ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّهُ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: هَذَا وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ .
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَلِيَّ (رضي الله عنه): أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ.
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوْبَ، يَعْنِي بِهِ مَنْ رَوَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا عَلَى أَنَّهُ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى يَافُوْخِهِ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ، فَجَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ مَرَّةً وَاحِدَةً؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُبَايِنْ يَدَهُ، وَلَا أَخَذَ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَهُوَ كَمَنْ جَعَلَ الْمَاءَ فِي كَفِّهِ، ثُمَّ مَدَّهُ إِلَى كُوْعِهِ. أَلَا تَرَى أَنَّهُ أَي عَلِيًّا بَيَّنَ فِي الْأَحَادِيثِ الَّتِي رَوَى عَنْهُ - وَهُمُ الْجَارُوْدُ بْنُ زَيْدٍ وَخَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ وَأَسَدُ بْنُ عُمَرَ - الْمَسْحَ كَانَ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَبَيَّنَ أَنَّ مَعْنَاهُ مَا ذَكَرْنَا.
اردو
حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے والد علی رضی
اللہ عنہ نے وضوء کرنے کے لئے پانی طلب کیا تو پانی پیش کیا گیا، تو آپ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھوں
کو پہنچوں تک پانی میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں
پانی لیا، پھر تین مرتبہ چہرے کو دھویا، پھر سیدھے ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، اسی طرح بائیں ہاتھ کو
کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا صرف ایک دفعہ مسح کیا، پھر سیدھے پیر کو تین دفعہ ٹخنوں سمیت دھویا،
پھر اسی طرح بائیں پیر کو بھی تین مرتبہ دھویا پھر کھڑے ہوگئے۔
اور مجھ سے فرمایا کہ برتن دے دو تو میں نے برتن دے دیا جس میں وضوء کا بقیہ پانی تھا تو آپ
نے کھڑے ہو کر اس پانی کو پی لیا، اس پر میں نے تعجب کیا، جب میرے تعجب کو دیکھا تو فرمایا کہ تعجب
مت کرو، میں نے تمہارے ابا جان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم
نے مجھ کو دیکھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضوء فرماتے تھے اور وضوء سے بچا ہوا پانی
کھڑے ہو کر پی لیتے۔
(اس کی روایت نسائی، طحاوی اور ابن جریر نے کی ہے اور ابن جریر نے اس کو صحیح بتلایا ہے اور
ابن ابی شیبہ نے بھی اس کی روایت کی ہے۔)
ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی مسند میں علی ابن ابی طالب رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضوء فرمایا تو دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک تین
مرتبہ دھویا اور تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک کو پانی سے صاف فرمایا اور تین مرتبہ چہرے کو دھویا اور
دونوں ہاتھوں کو (کہنیوں سمیت) تین مرتبہ دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا
اور فرمایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے
وضوء کے لئے پانی طلب فرمایا اور دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ کلی کی اور تین
مرتبہ پانی سے ناک صاف فرمایا اور تین مرتبہ چہرے کو دھویا اور دونوں ہاتھوں کو تین تین مرتبہ کہنیوں
سمیت دھویا اور تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا پھر فرمایا: یہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا وضوء ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 95 (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
عبداللہ بن محمد بن یعقوب رحمہ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جس شخص نے تین مرتبہ سر کے مسح کرنے کی روایت کی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تین مرتبہ سر کا مسح اس طرح کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنا دست مبارک تالو پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں کو سر کے پچھلے حصہ تک لے گئے پھر وہاں سے ہاتھوں کو سر کے اگلے حصہ تک واپس لائے اور اسی کو تین مرتبہ مسح قرار دیا حالانکہ وہ (پورے سر پر) ایک ہی مرتبہ تھا اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو سر سے الگ نہیں کیا اور نہ تین مرتبہ آپ نے پانی لیا، یہ ایسا ہے جیسے کوئی پانی ہاتھ میں لے پھر اس کو بہو بچوں کے کنارے تک کھینچ لے جائے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے جارود بن زید، خارجہ بن مصعب اور اسد بن عمر رضی اللہ عنہم سے جو روایت کی ہے اس میں صرف ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے تو جب خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسح کرنے کی روایت کی ہے تو اسی صورت میں تین مرتبہ مسح کرنے کا مفہوم وہی ہوگا جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔