Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

Hadith 468

بَابُ فَرَائِضِ الْوُضُوْءِ وَسُنَنِهِ وَآدَابِهِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

بَابُ فَرَائِضِ الْوُضُوْءِ وَسُنَنِهِ وَآدَابِهِ

Zujajat al-Masabih 468Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٦٨ - وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيَّ (رضي الله عنهما) قَالَ: دَعَا عَلِيٌّ بِوَضُوْءٍ ، فَقُرِّبَ لَهُ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوْئِهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ لي: نَاوِلْنِي. فَنَاوَلْتُهُ الَّذِي فِيْهِ فَضْلُ وَضُوْئِهِ، فَشَرِبَهُ قَائِمًا، فَعَجِبْتُ. فَلَمَّا رَأَى عَجَبِي قَالَ: لَا تَعْجَبْ فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَاكَ النَّبِيَّ ﷺ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا رَأَيْتَنِي، يَقُوْلُ بَوَضُوْئِهِ هَذَا، وَيَشْرَبُ فَضْلَ وَضُوْئِهِ قَائِمًا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالطَّحَاوِيُّ وَابْنُ جَرِيرٍ وَصَحَّحَهُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَفِي مُسْنَدِ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّهُ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: هَذَا وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ . وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَلِيَّ (رضي الله عنه): أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ. قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوْبَ، يَعْنِي بِهِ مَنْ رَوَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا عَلَى أَنَّهُ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى يَافُوْخِهِ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ، فَجَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ مَرَّةً وَاحِدَةً؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُبَايِنْ يَدَهُ، وَلَا أَخَذَ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَهُوَ كَمَنْ جَعَلَ الْمَاءَ فِي كَفِّهِ، ثُمَّ مَدَّهُ إِلَى كُوْعِهِ. أَلَا تَرَى أَنَّهُ أَي عَلِيًّا بَيَّنَ فِي الْأَحَادِيثِ الَّتِي رَوَى عَنْهُ - وَهُمُ الْجَارُوْدُ بْنُ زَيْدٍ وَخَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ وَأَسَدُ بْنُ عُمَرَ - الْمَسْحَ كَانَ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَبَيَّنَ أَنَّ مَعْنَاهُ مَا ذَكَرْنَا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 95 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

عبداللہ بن محمد بن یعقوب رحمہ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جس شخص نے تین مرتبہ سر کے مسح کرنے کی روایت کی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تین مرتبہ سر کا مسح اس طرح کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنا دست مبارک تالو پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں کو سر کے پچھلے حصہ تک لے گئے پھر وہاں سے ہاتھوں کو سر کے اگلے حصہ تک واپس لائے اور اسی کو تین مرتبہ مسح قرار دیا حالانکہ وہ (پورے سر پر) ایک ہی مرتبہ تھا اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو سر سے الگ نہیں کیا اور نہ تین مرتبہ آپ نے پانی لیا، یہ ایسا ہے جیسے کوئی پانی ہاتھ میں لے پھر اس کو بہو بچوں کے کنارے تک کھینچ لے جائے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے جارود بن زید، خارجہ بن مصعب اور اسد بن عمر رضی اللہ عنہم سے جو روایت کی ہے اس میں صرف ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے تو جب خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسح کرنے کی روایت کی ہے تو اسی صورت میں تین مرتبہ مسح کرنے کا مفہوم وہی ہوگا جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔