Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ said: "When one of you sits between the four parts (of the wife) and exerts himself, then ghusl becomes obligatory, even if he does not discharge." [Narrated by Muslim, and al-Bukhari reported something similar.)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص عورت کے چار شاخوں (یعنی دونوں ہاتھ اور
دونوں پاؤں میں) بیٹھ جائے پھر کوشش کرے یعنی جماع کرے تو اس پر غسل واجب ہوگا اگرچہ
منی نہ نکلے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور بخاری کی روایت بھی اسی طرح ہے۔)
And the words of Allah, the Almighty: "And if you are in a state of Janabah (major impurity), then purify yourselves" and the verse: "And do not approach them (wives) until they are pure" (Al-Ma'idah: 6) and the verse: "Or you have touched the women" (Al-Baqarah: 222, Al-Ma'idah: 1)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 291 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 348b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: چار شاخوں سے مراد عورتوں کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ
بوقت جماع ذکر کے سر داخل ہو جانے سے غسل لازم ہو جاتا ہے خواہ منی نکلے یا نہ نکلے، خلفاء راشدین
اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے۔
Narrated Abu Sa'id: The Messenger of Allah ﷺ said: "Water comes from water (meaning, ghusl is required when there is a discharge of water)." [Narrated by Muslim]. The Imam of the Sunnah, Sheikh, said: "This is abrogated," and Ibn Abbas said: "Water comes from water in the case of wet dreams."
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانی سے پانی واجب ہوتا ہے، (یعنی غسل انزالِ منی سے واجب ہوتا ہے
بغیر انزال منی کے جماع کرنے سے غسل لازم نہیں آتا (اس کی روایت مسلم نے کی ہے) امام محی السنۃ
رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا ہے کہ منی سے غسل کا وجوب احتلام میں
ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے، یعنی خواب میں جماع کرتے ہوئے دیکھے تو بلا انزال غسل
واجب نہیں لہذا یہ حکم احتلام کے ساتھ مخصوص ہوگا۔)
Narrated Ubayy ibn Ka'b: "Water from water was initially a concession in the early days of Islam, but then it was prohibited." [Narrated by Tirmidhi, Abu Dawood, Darimi, and Ahmad, and Tirmidhi authenticated it.)
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے کہا کہ خروج منی سے غسل
واجب ہوتا ہے اور اگر انزال نہ ہوا اور جماع کرے تو غسل واجب نہیں، (یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا،
پھر اس کی ممانعت کر دی گئی ہے) اس لئے اگر جماع کرے اور انزال نہ ہو تو بھی غسل واجب ہے۔
(اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، دارمی اور امام احمد نے کی ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح بتایا ہے۔)
Narrated Umm Salama: Umm Sulaym asked, "O Messenger of Allah, Allah is not shy about the truth, so is there any ghusl required for a woman when she experiences a wet dream?" The Prophet ﷺ replied, "Yes, if she sees the water." Umm Salama covered her face and said, "O Messenger of Allah, can a woman have a wet dream?" The Prophet ﷺ replied, "Yes, may your right hand be dusted. How else would her child resemble her?" [Agreed upon] Muslim narrated with an additional narration from Umm Sulaym: "The man's water is thick and white, while the woman's water is thin and yellow, so whichever of them rises or precedes, the resemblance of the child will be from that."
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ام سلیم نے حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خدا حق بات سے نہیں شرماتا اگر عورت مثل مرد
جماع کا خواب دیکھے تو کیا اس پر غسل واجب ہے؟ فرمایا کہ ہاں! بشرطیکہ منی نظر آئے، حضرت ام سلمہ رضی
اللہ عنہا نے شرما کر منہ ڈھانک لیا اور عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا عورت کو بھی احتلام ہوا
کرتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ہوتا ہے، تعجب ہے تم پر (اے ام سلمہ رضی اللہ عنہا) اگر عورت کو
منی نہ ہوتی تو بچہ کس طرح اس کے مشابہ ہوتا (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)
اور مسلم نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ مرد کی منی
گاڑھی اور سفید ہوتی ہے اور عورت کی منی پتلی اور زرد تو ان دونوں میں جس کی منی غالب ہو یا سبقت
کر جائے، بچہ اسی کے مشابہ ہوا کرتا ہے۔
Narrated Aisha: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man who feels wetness but does not recall having a wet dream. He said, "He should perform ghusl." And about a man who believes he had a wet dream but finds no wetness, he said, "He does not need ghusl." Umm Sulaym asked, "Does a woman have to perform ghusl if she sees that?" He said, "Yes, for women are the counterparts of men." [Narrated by Tirmidhi and Abu Dawood, and Darimi and Ibn Majah narrated up to his statement: "He does not need ghusl"). Al-Khatabi said: "This indicates the confirmation of analogy and the comparison of the similar to the similar."
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نیند سے بیدار ہو کر جسم یا
کپڑے پر تری دیکھے اور اس کو احتلام یاد نہ ہو، آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ غُسل کر لے اور ایک ایسے
شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کو احتلام یاد ہو اور تری نہ پائے آپ نے ارشاد فرمایا: اس پر غُسل
واجب نہیں، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر عورت
کو ایسا اتفاق پیش آئے تو کیا اس پر بھی غُسل واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں غُسل واجب ہے کیونکہ
عورتیں (پیدائش اور طبائع میں) مردوں کے مانند ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی
ہے البتہ دارمی اور ابن ماجہ نے صرف (لا غُسل عليه) تک روایت کی ہے، خطابی کا بیان ہے کہ اس
حدیث میں قیاس کا اثبات اور ایک نظیر کو دوسرے نظیر کے حکم سے الحاق کا ثبوت ملتا ہے۔)
Narrated Aisha: The Messenger of Allah ﷺ said: "When the circumcised parts meet, ghusl becomes obligatory." I did this and so did the Messenger of Allah ﷺ, and we performed ghusl. [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah.)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب مرد کا ختان (ذکر کا سر) عورت کے ختان (فرج
کے ابتدائی) حصہ میں سے گزر جائے (اگرچہ کہ انزال نہ ہو) تو غُسل واجب ہوگا، حضرت ام
المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا پھر ہم
دونوں نے غُسل کیا۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Narrated Ali: The Messenger of Allah ﷺ said: "When you release semen, perform ghusl." [Narrated by Abu Dawood.) And in a narration from Ahmad: "When you ejaculate, perform ghusl, but if you have not ejaculated, then you do not have to perform ghusl."
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب منی تم سے کود کر نکلے تو غسل کر لیا کرو (اس کی روایت ابوداؤد نے کی
ہے۔)
اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت میں ہے کہ جب منی کود کر
نکلے تو غسل کر لیا کرو اور جب کود کر نہ نکلے تو غسل نہ کرو۔
Narrated Ali: I was a man who emitted pre-seminal fluid frequently, so the Messenger of Allah ﷺ told me: "When you see pre-seminal fluid, wash your private part and perform wudu for prayer, and if you ejaculate, then perform ghusl." [Narrated by Nasai and Ahmad in his Musnad, and all of its narrators are trustworthy.)
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں مجھ سے مذی اکثر نکلا کرتی تھی
تو آپ سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھولیا
کرو، اور نماز کے لئے جس طرح وضوء کرتے ہو، ویسا ہی وضوء کیا کرو، اور جب تم سے منی کود کر نکلے تو
غسل کیا کرو۔ (اس کی روایت نسائی نے اور امام احمد نے اپنی مسند میں کی ہے اور اس کے تمام راوی
ثقہ ہیں۔)
Narrated Aisha: The Messenger of Allah ﷺ would use siwak but would not perform ghusl until the conquest of Makkah, after which he began to perform ghusl and instructed the people to do the same. [Narrated by Ibn Hibban in his Sahih.)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
مکہ معظمہ فتح ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جماع کے بعد) انزال نہ ہونے کی صورت میں
غسل نہیں فرماتے تھے، لیکن فتح مکہ معظمہ کے بعد آپ نے خود بھی غسل فرمایا اور لوگوں کو بھی غسل کا حکم
دیا۔ (اور غسل نہ کرنے کا حکم منسوخ ہوگیا)۔ (اس کی روایت ابن حبان نے اپنی صحیح میں کی ہے۔)
Narrated Amr ibn Shu'aib, from his father, from his grandfather: A man asked the Prophet ﷺ, "What makes ghusl obligatory except for semen?" He replied: "When the circumcised parts meet and the glans of the penis is inside, ghusl becomes obligatory, whether or not semen is released." [Narrated by Tabarani in his Al-Awsat and Imam Abu Muhammad Abdullah ibn Wahb in his Mustadrak, with a similar narration.)
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بروایت والد اپنے دادا سے
روایت کرتے ہیں کہ کسی سائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ غسل تو صرف منی کے نکلنے
سے واجب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: جب مرد کا محل ختنہ عورت کے محل ختنہ سے مل جائے اور حشفہ
(یعنی ذکر کا سر) غائب ہوجائے تو یہ غسل کو واجب کر دیتا ہے، انزال ہو یا نہ ہو۔ (اس کی روایت طبرانی
نے معجم وسط میں کی ہے اور امام ابو محمد عبداللہ بن وہب نے اپنی مسند میں اسی طرح روایت کی ہے۔)
Narrated Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "Rinsing the mouth and inhaling water into the nose is obligatory for the junub (one in a state of major ritual impurity)." [Narrated by Darqutni, Baihaqi, and Hakim.) However, Darqutni and Hakim mentioned that the narrator's integrity is weak. Imam Taqi al-Din mentioned that this hadith was also narrated through other chains, one of which was narrated by Imam Abu Bakr al-Khatib through Darqutni's chain.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا جنبی کے لئے فرض ہے، دارقطنی، بیہقی اور حاکم نے اس کی
(حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْمَهْدِيُّ،
روایت کی ہے، دارقطنی اور حاکم کا بیان ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور ہر دو کے راوی ضعیف ہیں،
لیکن علامہ عینی نے امام تقی الدین سے (اس حدیث کے ضعف کی تحقیق میں) نقل کیا ہے کہ امام
موصوف کا بیان ہے کہ حدیث مذکور کی روایت بلاواسطہ برکتہ راوی کے طریقہ کے علاوہ اور دیگر
طریقوں سے کی گئی ہے جس کو امام ابوبرکہ خطیب نے دارقطنی کی سند سے بیان کیا ہے اور جس کی سند
یہ ہے:)
Narrated Ibn Abbas: He was asked about someone who forgot to rinse the mouth and inhale water into the nose (while in a state of junub). He replied: "He does not need to repeat the ghusl unless he is junub." [Narrated by Baihaqi and narrated similarly by Imam Abu Hanifa.)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جس نے
کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا بھول گیا، کیا وہ (نماز کا) اعادہ کرلے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں اگر وہ
جنب ہو تو نماز لوٹائے، اس لئے کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی لینا غسل میں فرض ہے۔ (اس کی روایت
بیہقی نے کی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے بھی ایسی ہی روایت کی ہے۔)
Narrated Ibn Abbas: He said: "If you forget to rinse the mouth and inhale water into the nose while in a state of junub, then you should repeat your prayer." [Narrated by Abdul Razzaq and Said ibn Mansur.)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ جب تم کلی کرنا اور
ناک میں پانی لینا بھول جاؤ اور تم حالت جنابت میں ہو تو اپنی نماز کو لوٹا لو۔ (اس کی روایت عبد
الرزاق اور سعید بن منصور نے کی ہے۔)
Narrated Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "There is impurity under every hair, so wash the hair and purify the skin." [Narrated by Abu Dawood, Tirmidhi, and Ibn Majah.) Imam Al-Ayni mentioned in his commentary that this hadith implies the obligation of washing the hair, and according to linguistic scholars, "bashara" refers to the skin, emphasizing the requirement to purify the outer body, including the mouth for its external part.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہوا کرتی ہے اس لئے تم بالوں کو (اس طرح) دھویا
کرو کہ (بالوں کے نیچے تک پانی پہنچ جائے) اور بدن کو (اس طرح) پاک و صاف کر لیا کرو کہ بال
برابر جگہ بھی خشک نہ رہنے پائے۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے) علامہ عینی
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 248 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 106 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 597 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ناک میں بھی بال ہوا کرتے ہیں اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ
ناک میں پانی لینا بھی فرض ہے اور اہل لغت کا بیان ہے کہ بشرہ میں بدن کا تمام ظاہری حصہ داخل ہے
اس طرح اس حدیث سے غُسل جنابت میں کلی کرنے کی فرضیت بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ منہ ظاہر
بدن میں داخل ہے۔
Narrated Ali: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever leaves a single hair of impurity (from the state of janabah) without washing it, it will be punished by the fire." Ali said: "So I started washing my head from that time, and I washed it three times." [Narrated by Abu Dawood, who did not comment on it. In the Takhlees al-Habeer commentary, it was stated that its chain of narrators is authentic.) Ali al-Qari said: "This hadith is good and strengthens the previous hadith narrated by Tirmidhi, although the weakness in it is only in the chain of narrators of Tirmidhi's narration, not in the narration of Abu Huraira. Ahmad and Darimi narrated a similar hadith, but they did not repeat the part 'so I started washing my head.'"
This hadith emphasizes the thoroughness of ghusl (ritual washing) and the importance of not leaving any impurity, even a single hair, untouched.
"1 The statement 'From there, I shaved my head' – Sheikh Ibn Hajar said: 'It is clear that his action, if it was contrary to his (the Prophet's) practice and that of the other caliphs, who did not shave their heads except after completing the rites of pilgrimage, should be regarded as a concession (rukhsa), not a regular practice (sunnah).'"
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے غُسل جنابت میں ایک بال کی جگہ بھی چھوڑ دی کہ اس کو نہ دھویا
ہو تو اس کو دوزخ میں قسم قسم کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں
اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن ہوگیا، میں اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن ہوگیا، اس جملہ کو تین بار فرمایا (یعنی
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 249 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فمن ثم عاديت إلخ : قال الشيخ ابن حجر : ولا يخفي أن فعله إذا كان مخالفًا لسنته وبقية الخلفاء من عدم الحلق إلا بعد فراغ النسك يكون رخصة لا سنة.
Note 1
غُسل میں سر کے بالوں کے نیچے تک پانی نہ پہنچنے کی وعید سن کر میں نے اپنے سر کے بالوں سے دشمن
جیسا معاملہ کیا، جس طرح ایک دشمن دوسرے دشمن کو مار ڈالتا ہے، اسی طرح میں نے اپنے سر کے بال
مونڈھ دیئے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد کا سکوت صحت کی
علامت ہے اور تلخیص حبیر میں مذکور ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔
ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہوتا
ہے کہ آپ سر منڈوایا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تینوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم
سر میں بال رکھتے تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فعل رخصت اور اجازت پر محمول ہوگا خلاصہ یہ ہے کہ
تمام سر کا منڈوانا مستحب اور تمام سر کے بالوں کا رکھنا سنت ہوگا لیکن اس بحث سے حج کا مسئلہ خارج
ہوگا وجہ یہ ہے کہ احکام حج سے فراغت کے بعد سر کا منڈوانا سنت ہے۔
Narrated Aisha: When the Messenger of Allah ﷺ performed ghusl from janabah, he began by washing his hands, then poured water with his right hand over his left to wash his private parts. He then performed ablution (wudu) as for prayer, and then took water and inserted his fingers into the roots of his hair. After ensuring his hair was fully wet, he scooped three handfuls of water and poured them over his head. Then he poured water over the rest of his body, and finally washed his feet. [Narrated by Muslim. Abu Dawood al-Tayalisi narrated something similar, and added at the end: "Then, when he was finished, he washed his feet.")
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کیا کرتے تھے تو (یوں) شروع فرماتے کہ
دونوں ہاتھوں کو (پہنچوں تک) دھو لیتے پھر داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ کو
دھوتے، اور پھر ایسا وضو فرماتے جیسا کہ نماز کے لئے کیا جاتا ہے، پھر پانی لے کر پانی کو اپنی انگلیوں
کے ذریعہ بالوں کی جڑوں میں پہنچاتے اور جب یقین ہو جاتا کہ تمام بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ چکا
ہے تو تین چلو اپنے سر پر ڈالتے، اس کے بعد تمام جسم پر پانی بہاتے اور پھر دونوں پیروں کو دھو لیتے تھے
۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور ابوداؤد طیالسی نے بھی اس کی روایت اسی طرح کر کے یہ اضافہ کیا
ہے کہ جب فارغ ہو جاتے تو دونوں پیروں کو دھو لیتے تھے)۔
Narrated Aisha: When the Messenger of Allah ﷺ intended to perform ghusl from janabah, he began by washing his hands, then washed his arms, and poured water over them. Once he had cleaned them, he poured water onto his head. [Narrated by Abu Dawood.)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو دونوں ہاتھوں سے شروع
فرماتے یعنی ہاتھوں کو پہنچوں تک دھولیتے، پھر جسم کے ان حصوں کو دھوتے جہاں عموماً میل جمع ہوا کرتا
ہے (یعنی اطراف شرم گاہ چڈا اور بغل اور ران پر) پانی بہاتے اور جب اچھی طرح دھولیتے تو دیوار پر
ہاتھوں کو رگڑتے پھر وضو فرماتے اور اپنے سر پر پانی بہاتے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Narrated Aisha: "If you wish, I can show you the trace of the Messenger of Allah ﷺ's hand in the water tank where he used to perform ghusl from janabah." [Narrated by Abu Dawood.)
These narrations describe the method of ghusl from janabah as performed by the Prophet ﷺ, illustrating the steps for cleanliness and the order in which the body parts are washed.
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ اگر تم
چاہو تو میں تمہیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کے نشانات بتلادوں جہاں آپ
غسل جنابت کے وقت دیوار پر رگڑتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
"A woman from the Ansar asked the Prophet ﷺ about how to perform the ritual purification after menstruation. He instructed her on how to perform the ghusl (ritual bath), and then said: 'Take a piece of musk and purify yourself with it.' She asked, 'How should I purify myself with it?' He replied, 'Purify yourself with it.' She repeated, 'How should I purify myself with it?' He said, 'SubhanAllah, purify yourself with it.' I (Aisha) then pulled her towards me and said, 'Use it to cleanse the traces of blood.' [Agreed upon]"
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ انصار
کی ایک عورت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وہ حیض کا غسل کس طرح کیا کرے؟ تو
آپ نے اس کو غسل کس طرح کیا جائے تفصیل وار بتلایا پھر فرمایا کہ مشک میں یا کسی اور خوشبو میں
بسایا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرنی چاہئے، (دوسری حدیث میں ”مُمَسَّكَةٌ“ کے
لفظ سے جس کے معنی ”مشک میں بسا ہوا کپڑا“ کے ہیں اسی کی تائید ہوتی ہے) اس عورت نے پوچھا
کہ میں کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ نے ارشاد فرمایا! اس سے پاکی حاصل کرو، پھر اس نے
پوچھا کہ میں اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل
کرو۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ اس
خوشبودار کپڑے کو خون کے اثرات اور نشانات کے مقام پر مل لینا چاہئے)۔ (اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 313 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 332a (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Take a piece of musk...
(1) The statement: "Take a piece of musk..." – Al-Aini in Umdat al-Qari mentioned in his explanation of deriving legal rulings from this that it is recommended for a woman who is performing ghusl (ritual bath) after menstruation or childbirth to use perfume on all the areas of her body that were affected by blood. Al-Mahmali stated that this is because it helps in conceiving quickly and also prevents bad odors. There is a difference of opinion regarding when it should be used. Some say it should be applied after the ghusl, while others say it should be applied before. It is also recommended to use perfume on a woman's private parts by taking a piece of cotton or something similar, applying musk or something similar on it, and inserting it into her private parts after the ghusl, with the same practice recommended for a woman after childbirth.
Note 1
قوله
(۱) قوله: خذي فرصة من مسك إلخ : قال العيني في عمدة القاري في بيان استنباط الأحكام فيه استحباب التطيب للمغتسلة من الحيض والنفاس على جميع المواضع التي أصابها الدم من بدنها. قال المحاملي: لأنه أسرع إلى العلوق وأدفع للرائحة الكريهة، واختلف في وقت استعمالها لذلك. فقال بعضهم: بعد الغسل. وقال آخرون: قبله. وفيه استحباب تطيب فرج المرأة بأخذ قطعة من صوف ونحوها، وتجعل عليها مسكا أو نحوه، وتدخلها في فرجها بعد الغسل والنفساء مثلها.
Note 1
علامہ عینی رحمة اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں استنباط احکام کے بیان میں کہا ہے کہ اس حدیث
میں اس چیز کی دلیل ہے کہ حیض و نفاس سے فارغ ہوکر غسل کرنے والی عورت کے لئے مستحب ہے کہ
اس کے بدن میں جن جگہوں کو خون لگا تھا ان پر خوشبو لگائے۔ اور محاملی نے کہا کہ خوشبو لگانے سے جلد
حمل قرار پاتا ہے اور بہت جلد بدبو دور ہوتی ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ خوشبودار کپڑا کب
استعمال کیا جائے، بعضوں نے کہا کہ غسل حیض یا نفاس کے بعد استعمال کیا جائے اور دوسروں نے کہا
ہے کہ غسل کے پیشتر استعمال کیا جائے اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عورت کے لئے
مستحب ہے کہ اپنی شرمگاہ کو ایسے کپڑے سے خوشبودار کرے جس کو مشک یا کسی اور خوشبو میں بسایا گیا ہو،
اور غسل کے بعد اس خوشبودار کپڑے کو اپنی شرمگاہ میں رکھ لے اور نفاس والی عورت کے لئے بھی یہی
مستحب ہے۔
And from Umm Salama, she said: I said, "O Messenger of Allah, I am a woman who braids my hair tightly. Should I undo it for the ritual bath of janabah?" He said, "No, it is enough for you to pour three handfuls of water over your head, then pour water over yourself to purify." [Narrated by Muslim.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں اپنے سر کے بالوں کی چوٹیوں کو خوب مضبوط گوندھتی ہوں کیا غسل
جنابت کے وقت ان کو کھول دیا کروں؟ تو فرمایا: نہیں، تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ سر پر تین چلو پانی
اس طرح ڈالو کہ (پانی بالوں کی جڑوں تک اچھی طرح پہنچ جائے) پھر باقی بدن پر پانی بہا کر (اس
طرح) پاک ہو جایا کرو (کہ جسم میں بال برابر جگہ بھی خشک رہنے نہ پائے)۔ (اس کی روایت مسلم
نے کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عورتوں کے سر کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں اور وہ بوقت غسل اپنے سر کے بالوں پر
اس طرح پانی ڈالیں کہ بالوں کی جڑیں اچھی طرح تر ہو چکی ہوں تو ایسی صورت میں عورتیں اپنے بالوں
کو نہ کھولیں، اگر یہ معلوم ہے کہ بالوں کو کھولے بغیر جڑیں تر نہ ہوں گی تو پھر بالوں کا کھولنا ضروری ہے،
بخلاف مردوں کے کہ وہ بوقت غسل اپنے سر کے بال ضرور کھول لیا کریں۔
And from Jabir, he said: When a woman performs the ritual bath for janabah, she does not undo her hair, but she pours water over its roots and wets it. Narrated by Al-Darimi.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عورت غسل جنابت
کرے تو وہ اپنے سر کے بال نہ کھولے بلکہ بالوں کی جڑوں میں پانی بہائے اور جڑوں کو تر کرے
۔(اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔)
And from Ata, he was asked about a woman who is affected by janabah and her hair is tied up: Should she undo it? He said: No, but she should pour water over her head until the roots of her hair are thoroughly wet. Narrated by Al-Darimi.
عطاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ان سے ایسی عورت کے متعلق سوال کیا گیا
جس کو غسل جنابت کی ضرورت پیش آگئی ہو اور اس کے سر کی چوٹیاں گوندھی ہوئی ہوں تو کیا وہ اسے
کھول دے؟ عطاء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ وہ سر پر اچھی طرح پانی ڈالے کہ جس سے
اس کے سر کے بالوں کی جڑیں خوب بھیگ جائیں۔ (اس کی روایت دارمی نے کی ہے)۔
And from Anas, he said: The Prophet ﷺ used to perform wudu with a mud, and used to bathe with a sa' (a unit of measurement), which is equal to five amdad (a handful).
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ایک مد (یعنی ایک سیر مقدار) پانی سے وضوء اور ایک صاع (یعنی چار سیر) سے لے کر
پانچ مد (یعنی پانچ سیر پانی سے) غسل فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے
بالاتفاق کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 201 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 325a (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سیر مقدار پانی سے
وضوء اور 4 سیر سے لے کر 5 سیر مقدار پانی سے غسل فرمایا کرتے، اس کے بارے میں علامہ شامی رحمۃ
اللہ علیہ نے رد المحتار میں بحوالہ حلیہ یہ تحقیق بیان فرمائی ہے کہ وضوء اور غسل میں پانی کی مقدار کے متعلق
بہت سے علماء نے مسلمانوں کا یہ اجماع نقل کیا ہے کہ وضوء اور غسل میں پانی کی کوئی خاص مقدار مقرر
نہیں ہے البتہ ظاہر الروایہ میں وضوء میں کم سے کم پانی کی مقدار ایک سیر اور غسل میں 4 سیر سے لے کر
5 سیر جو بیان کی گئی ہے وہ بخاری اور مسلم کی اسی زیر بحث حدیث کی بناء پر ہے، لیکن یہ ایسی مقدار نہیں
کہ جس کی پابندی لازمی ہے بلکہ یہ وضوء اور غسل کی کم سے کم مسنون مقدار ہے، چنانچہ بحر میں لکھا ہے کہ
جس کسی کا وضوء یا غسل اس سے کم مقدار پانی سے پورا ہو جاتا ہے تو اس مقدار سے کم سے اس کا وضوء یا
غسل جائز ہے اور اگر یہ مقدار اس کے لئے کافی نہیں تو اس مقدار سے زیادہ پانی استعمال کر سکتا ہے
کیونکہ انسانوں کی طبیعتیں اور احوال مختلف ہوا کرتے ہیں، بدائع اور رد المحتار اور دیگر کتابوں میں یہی توضیح
مذکور ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ پانی کے استعمال میں اسراف نہیں ہونا چاہئے جہاں تک ہو سکے پانی کافی
احتیاط سے استعمال کیا کریں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے استعمال میں اسی احتیاط
کو عملاً کر کے دکھایا ہے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار شامی سے لیا گیا ہے۔)
And from Musa al-Juhani, he said: Mujahid was brought a pot, which I estimated to be eight artils, and he said: Aisha told me that the Messenger of Allah ﷺ used to perform his ritual bath with something like this. Narrated by Al-Nasa'i.
موسی الجُہَنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجاہد رضی اللہ عنہ کے
پاس ایک بڑا برتن لایا گیا، میں نے اس کے متعلق اندازہ کیا کہ اس میں آٹھ رطل (یعنی 4 سیر) کی
گنجائش تھی، پھر کہا کہ مجھ سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اس برتن بھر پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے)۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا کہ وضوء میں دو رطل (یعنی ایک سیر) پانی کافی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
And from Mu'adhah, she said: Aisha said: I used to perform the ritual bath along with the Messenger of Allah ﷺ from one container between me and him, and he would hurry to use it until I would say, "Leave some for me, leave some for me." She said: And both of them were in a state of janabah.
معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے
فرمایا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے جو ہمارے درمیان
میں رکھا جاتا تھا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانی لینے میں جلدی فرماتے تھے تو میں کہتی تھی کہ
میرے لئے چھوڑ دیئے، میرے لئے چھوڑ دیئے، ام المومنین فرماتی ہیں کہ دونوں جنابت کی حالت
میں ہوتے تھے جس کے لئے غسل کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی
ہے۔)
And from Aisha, she said: The Prophet ﷺ did not perform wudu after the ritual bath. Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawood, Al-Nasa'i, and Ibn Majah. Its chain of narration is authentic.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کے بعد وضوء نہیں فرمایا کرتے تھے (پہلے کئے ہوئے وضوء پر اکتفا فرماتے
تھے)۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور اس حدیث کے اسناد صحیح
ہیں۔)
And from her (Aisha), she said: The Prophet ﷺ used to wash his head with a comb while in a state of janabah, and he would suffice with that, without pouring water over it. Narrated by Abu Dawood.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم غسل جنابت میں سر مبارک کو خطمی سے (جو ایک قسم کی خوشبودار بوٹی ہے) دھولیا کرتے
تھے اور آپ اسی پر اکتفا فرماتے اور اس پر پانی نہ ڈالتے (یعنی خطمی کے نکالنے کے لئے جس پانی کو سر
پر ڈالتے اسی پر کفایت فرماتے اور نہاتے وقت سر دھونے کے لئے مزید پانی استعمال نہیں فرماتے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
And from Ya'la, he said: The Messenger of Allah ﷺ saw a man washing himself in an open area, so he ascended the pulpit, praised Allah, and then said: "Indeed, Allah is Shy and Concealing. He loves modesty and concealment. When one of you takes a ritual bath, let him conceal himself." Narrated by Abu Dawood and Al-Nasa'i, and in his narration, it says: "Indeed, Allah is Concealing. So if one of you wants to take a bath, let him conceal himself with something."
یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میدان میں (برہنہ) غسل کررہا ہے تو آپ منبر پر چڑھے اور بعد حمد وثنا کے
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بیحد حیا والے ہیں اور بہت پردہ پوش ہیں، حیا اور پردہ کرنے کو دوست رکھتے ہیں
،جب تم میں سے کوئی شخص غسل کرے تو پردے میں کیا کرے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے
کی ہے۔)
اور نسائی کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ
نہایت پردہ پوش ہیں، جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کرلے۔
And from Ali, he said: A man came to the Prophet ﷺ and said: I performed the ritual bath from janabah and prayed Fajr, but I saw that a small part, the size of a fingernail, did not get water. The Prophet ﷺ said: "If you had wiped it with your hand, it would have sufficed." Narrated by Ibn Majah.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا کہ میں نے غسل جنابت کیا اور فجر کی نماز پڑھی، اس
کے بعد دیکھا کہ ناخن برابر جگہ چھوٹ گئی ہے کہ جہاں پانی نہیں پہنچا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا اگر تم اس جگہ پر غسل کے وقت بھیگا ہوا ہاتھ جس سے پانی ٹپکتا ہوا ہو پھیر لیتے تو کافی تھا اور
غسل ہو جاتا، چونکہ ایسا نہیں ہوا ہے اس لئے اس جگہ کا دھو لینا اور نماز لوٹانا ضروری ہے۔ (اس کی
روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: چار شاخوں سے مراد عورتوں کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ بوقت جماع ذکر کے سر داخل ہو جانے سے غسل لازم ہو جاتا ہے خواہ منی نکلے یا نہ نکلے، خلفاء راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے۔