English
Narrated Abu Gutaif al-Hudhali: I prayed with Abdullah ibn Umar the Zuhr prayer, then he went to his sitting place in his house. I followed him, and when the call for Asr prayer was made, he called for wudu, performed it, then went out and prayed Asr. Afterward, he returned to his sitting place, and I followed him. When the call for Maghrib was made, he called for wudu again, and performed it. I asked him: "What is this, O Abu Abdur Rahman, wudu for every prayer?" He replied: "You have noticed this from me; it is not a Sunnah. If my wudu from Fajr is enough, it is sufficient for all my prayers as long as I do not break it. But I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'Whoever performs wudu while in a state of purity, Allah will record for him ten good deeds.' And this is what I desired, O son of my brother."
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٧٨ - وَعَنْ أَبِي غُطَيْفِ الْهُذَلِيّ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ الظُّهْرَ، فَانْصَرَفَ فِي مَجْلِسٍ فِي دَارِهِ، فَانْصَرَفْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا نُودِيَ بِالْعَصْرِ دَعَا بِوَضُوْءٍ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَجْلِسِهِ، وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا نُوْدِيَ بِالْمَغْرِبِ دَعَا بِوَضُوْءٍ فَتَوَضَّأَ ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ؟ فَقَالَ: وَقَدْ فَطِنْتَ لِهَذَا مِنِّي، لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، إِنْ كَانَ لَكَافٍ وُضُوئِي لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَوَاتِي كُلَّهَا مَا لَمْ أُحْدِثُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللهُ لَهُ بِذَلِكَ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، فَفِي ذَلِكَ رَغِبْتُ يَا ابْنَ أَخِي. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 529
ابو غطیف ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز ظہر پڑھی اس کے بعد وہ اپنے گھر اپنی نشست گاہ کو واپس
ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ ہو لیا، جب عصر کی اذان دی گئی تو آپ نے وضوء کے لئے پانی منگوایا
اور وضو فرمایا، پھر آپ گھر سے نکلے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، اور جب مغرب کی اذان ہوئی
تو آپ نے وضوء کے لئے پانی طلب کیا اور وضوء کیا تو اس پر میں نے پوچھا اے ابوعبدالرحمن (رضی
اللہ عنہ) ہر نماز کے لئے وضوء کرنا کیسا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ میرا ہر نماز
کے لئے وضوء کرنا سنت نہیں ہے اور مجھے چاہئے تھا کہ صبح کی نماز کے وضوء سے اگر درمیان میں وضوء نہ
ٹوٹے تو باقی تمام نمازیں پڑھ لوں، ایسا نہیں ہے میرا ہر نماز کے لئے وضوء کرنا سنت ہے، اس لئے کہ میں
نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی وضوء کرے تو اللہ تعالیٰ
اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں تو اے بھتیجے! اسی ثواب کے لئے میرا یہ عمل ہے۔ (اس کی روایت
طحاوی نے کی ہے۔)