اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 529
ابو غطیف ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز ظہر پڑھی اس کے بعد وہ اپنے گھر اپنی نشست گاہ کو واپس
ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ ہو لیا، جب عصر کی اذان دی گئی تو آپ نے وضوء کے لئے پانی منگوایا
اور وضو فرمایا، پھر آپ گھر سے نکلے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، اور جب مغرب کی اذان ہوئی
تو آپ نے وضوء کے لئے پانی طلب کیا اور وضوء کیا تو اس پر میں نے پوچھا اے ابوعبدالرحمن (رضی
اللہ عنہ) ہر نماز کے لئے وضوء کرنا کیسا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ میرا ہر نماز
کے لئے وضوء کرنا سنت نہیں ہے اور مجھے چاہئے تھا کہ صبح کی نماز کے وضوء سے اگر درمیان میں وضوء نہ
ٹوٹے تو باقی تمام نمازیں پڑھ لوں، ایسا نہیں ہے میرا ہر نماز کے لئے وضوء کرنا سنت ہے، اس لئے کہ میں
نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی وضوء کرے تو اللہ تعالیٰ
اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں تو اے بھتیجے! اسی ثواب کے لئے میرا یہ عمل ہے۔ (اس کی روایت
طحاوی نے کی ہے۔)