Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 502

Chapter on Ghusl (Ablution after major impurity)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Chapter on Ghusl (Ablution after major impurity)

Zujajat al-Masabih 502Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 557
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد (یعنی ایک سیر مقدار) پانی سے وضوء اور ایک صاع (یعنی چار سیر) سے لے کر پانچ مد (یعنی پانچ سیر پانی سے) غسل فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 201 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 325a (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سیر مقدار پانی سے وضوء اور 4 سیر سے لے کر 5 سیر مقدار پانی سے غسل فرمایا کرتے، اس کے بارے میں علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے رد المحتار میں بحوالہ حلیہ یہ تحقیق بیان فرمائی ہے کہ وضوء اور غسل میں پانی کی مقدار کے متعلق بہت سے علماء نے مسلمانوں کا یہ اجماع نقل کیا ہے کہ وضوء اور غسل میں پانی کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں ہے البتہ ظاہر الروایہ میں وضوء میں کم سے کم پانی کی مقدار ایک سیر اور غسل میں 4 سیر سے لے کر 5 سیر جو بیان کی گئی ہے وہ بخاری اور مسلم کی اسی زیر بحث حدیث کی بناء پر ہے، لیکن یہ ایسی مقدار نہیں کہ جس کی پابندی لازمی ہے بلکہ یہ وضوء اور غسل کی کم سے کم مسنون مقدار ہے، چنانچہ بحر میں لکھا ہے کہ جس کسی کا وضوء یا غسل اس سے کم مقدار پانی سے پورا ہو جاتا ہے تو اس مقدار سے کم سے اس کا وضوء یا غسل جائز ہے اور اگر یہ مقدار اس کے لئے کافی نہیں تو اس مقدار سے زیادہ پانی استعمال کر سکتا ہے کیونکہ انسانوں کی طبیعتیں اور احوال مختلف ہوا کرتے ہیں، بدائع اور رد المحتار اور دیگر کتابوں میں یہی توضیح مذکور ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ پانی کے استعمال میں اسراف نہیں ہونا چاہئے جہاں تک ہو سکے پانی کافی احتیاط سے استعمال کیا کریں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے استعمال میں اسی احتیاط کو عملاً کر کے دکھایا ہے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار شامی سے لیا گیا ہے۔)