اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 588
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
مرد آدمی کو عورت کے غسل یا وضوء کے بعد بچے ہوئے پانی سے وضوء کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ اور ترمذی نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ترمذی نے ”اَوْ قَالَ بِسُؤْرِهَا“ یعنی لفظ
”فَضْل“ کے بجائے لفظ ”سُؤْر“ کی روایت کی ہے۔ (جس کے معنی یہ ہیں کہ عورت کے پینے کے
بعد بچے ہوئے پانی سے یا عورت کے نہانے یا وضوء کرنے کے بعد باقی ماندہ پانی سے مرد وضوء یا غسل
نہ کرے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 82 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 64 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 373 (unverified) 82% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں عورت کے بچائے ہوئے پانی سے وضوء یا غسل کی ممانعت ثابت ہو رہی ہے اور اس کے بعد والی حدیث (نمبر:25/591) جس کے راوی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں اور جس کو شرح السنہ میں آپ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اس سے بظاہر عورت کے بچائے ہوئے پانی سے وضوء یا غسل کا جواز معلوم ہوتا ہے تو یہ بات واضح رہے کہ اس حدیث میں جو ممانعت مذکور ہے وہ تنزیہی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بعد میں آنے والی حدیث میں جو اجازت وارد ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔