اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7178
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: مجھے تمام انبیاء پر چھ(6) چیزوں سے فضیلت دی گئی(16) مجھے جوامع الکلم دئے گئے
ہیں(17)، اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے، اور غنیمتیں میرے لئے حلال کر دی گئی ہیں، اور زمین
میرے لئے مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنا دی گئی اور میں ساری مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں(18)، اور
مجھ سے نبیوں کو ختم کر دیا گیا(19)۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 523a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (9)
Note 1
(1) His statement: “I was favored over the prophets with six”: At-Turbashti said: In Jabir’s Hadith, it is “five,” and this is not a contradictory difference but a difference in time. The Hadith with five may have come first, as he was given those, so he spoke of them, then he was given a sixth, so he reported six. The author of Al-Khalasah said: It is possible that five or six were mentioned depending on the context. Al-Kirmani said in such cases: The greater number does not negate the lesser. The truth is that he (ﷺ) was distinguished with many virtues that cannot be counted or enumerated, and in each instance, he mentioned what happened to be stated, without intending limitation. (Extracted from Al-Mirqat and Al-Lama’at)
Note 2
(2) His statement: “comprehensive speech”: Meaning the ability to convey profound meanings with concise words, expressing many meanings with few words. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: “I was sent to all creation”: Meaning to all beings generally, including jinn, humans, angels, animals, and inanimate objects. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
(4) His statement: “and the prophets were sealed with me”: Meaning their existence ended, so no prophet will come after me. This is not contradicted by the descent of Isa, as he will promote our Prophet’s religion perfectly, which is sufficient as a testimony to his honor and a distinction over all creation. At-Tibi said: The door of revelation was closed, the path of messengership was sealed, and he declared the self-sufficiency of people from messengers, manifesting the call after establishing the proof and perfecting the religion, as Allah said: “This day I have perfected for you your religion” [Al-Ma’idah: 3]. The door of inspiration remains open, as it is a support that aids perfect souls and continues due to their need for confirmation, purification, and reminder. As people became self-sufficient from messengership and the call, they needed reminder and awakening due to their immersion in whispers and indulgence in desires. Thus, Allah closed the door of revelation with His wisdom and opened the door of inspiration with His mercy, out of kindness to His servants. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فضلت على الأنبياء بست قال التوربشتي وفي حديث جابر بخمس، وليس هذا باختلاف تضاد، وإنما هو اختلاف زمان، يكون فيه حديث الخمس متقدما، وذلك أنه أعطيها فحدث به، ثم زيد له السادة، فأخبر عن ست. وقال صاحب الخلاصة: ويجوز أن يكون ذكر الخمس أو الست لمناسبة المقام. وقال الكرماني في أمثال هذه المواضع: إن الزائد من العدد لا ينافي الأقل. والحق أنه لة قد خص بفضائل كثيرة لا تعد ولا تحصى، ذكر في كل موضع ما اتفق ذكره، ولم يقصد الحصر التقطته من «المرقاة» و«اللمعات».
Note 2
(۲) قوله: جوامع الكلم : أي قوة إيجاز في اللفظ مع بسط في المعنى، فأبين بالكلمات اليسيرة المعاني الكثيرة. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: وأرسلت إلى الخلق كافة أي إلى الموجودات بأسرها عامة من الجن والإنس والملك والحيونات والجمادات. كذا في «المرقاة».
Note 4
(٤) قوله : وختم بي النبيون: أي وجودهم، فلا تحدث بعدي نبي، ولا يشكل بنزول عيسى وترويج دين نبينا على أتم النظام، وكفى به شهيدا شرفا، وناهيك به فضلا على سائر الأنام. قال الطيبي : أغلق باب الوحي وقطع طريق الرسالة وسد وأخبر باستغناء الناس عن الرسل وإظهار الدعوة بعد تصحيح الحجة وتكميل الدين، كما قال تعالى: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ﴾ (المائدة: (۳) وأما باب الإلهام فلا ينسد، وهو مدد يعين النفوس الكاملة، فلا ينقطع الدوام ضرورة حاجتها إلى تأكيد وتجريد وتذكير، وكما أن الناس استغنوا عن الرسالة والدعوة احتاجوا إلى التذكير والتنبيه لاستغراقهم في الوساوس، وانهماكهم في الشهوات، فالله تعالى أغلق باب الوحي بحكمته وفتح باب الإلهام برحمته لطفا منه بعباده. كذا في «المرقاة».
Note 1
(16) قوله: فضلت على الانبياء بست. علامہ توربشتی نے فرمایا: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں بخمس آیا(پانچ چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے)ان دونوں میں کسی قسم کا تضاد نہیں ہے کیونکہ یہ اختلاف آپ کے ارشاد کے زمانہ کا اختلاف ہے اور بخمس کی حدیث بست سے پہلے کی ہے، جب آپ کے لئے پانچ چیزوں سے فضیلت عطا کی گئی تو آپ نے اس کا اعلان فرمایا پھر اس میں چھٹویں خصوصیت کا اضافہ کیا گیا تو آپ (حاشیہ پچھلے صفحے سے) نے چھ کا ذکر فرمایا اور صاحب خلاصہ نے فرمایا: پانچ یا چھ کا ذکر موقع و محل کی مناسبت سے ہے، اور علامہ کرمانی نے فرمایا ان جیسے مقامات میں بڑا عدد چھوٹے عدد کے منافی نہیں ہوتا، اور حق بات تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و خصائل اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کو شمار نہیں کیا کیا جا سکتا۔ آپ نے ہر مقام پر اس مقام کی مناسبت سے ذکر فرمایا ہے اس میں حصر مقصود نہیں ہے۔ (ماخوذ از: مرقات)۔ (17) قولہ: جوامع الکلم۔ اس سے ایسی قوت مراد ہے جس کے ذریعہ سے وسیع تر معانی کو مختصر الفاظ میں بیان کر دیا جاتا ہے، چنانچہ میں بکثرت معانی و مفاہیم کو تھوڑے سے کلمات میں بیان کر دیتا ہوں۔ (مرقات)۔ (18) وارسلت الی الخلق كافة۔ یعنی ساری موجودات جن و انسان فرشتے اور تمام حیوانات و جمادات کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ (مرقات)۔ (19) وختم بی النبیون۔ یعنی انبیاء علیہم السلام کے وجود کو ختم کر دیا گیا۔ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے اور مکمل دینی نظام کو قائم کرنے اور اس کی خدمت کرنے سے اس حدیث پر کوئی اشکال نہیں ہوتا بلکہ تمہارے لئے یہ حدیث شریف ساری مخلوقات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی کے لئے کافی ہے، اور آپ کی ساری مخلوقات پر فضیلت کی گواہی دے رہی ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا: وحی کا دروازہ بند کر دیا گیا اور رسالت کا راستہ بھی بند کر دیا گیا اور ختم کر دیا گیا، اور اطلاع دیدی گئی ہے کہ اب لوگوں کے لئے حجت تام ہو گئی، اور دین مکمل ہو گیا، اس کے بعد جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ“۔ (5۔ سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:3) دعوت کے لئے اب رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اب رہا الہام کا دروازہ وہ بند نہیں ہوگا۔ الہام نفس کاملہ کے لئے مدد ہے اور یہ ختم ہوگا نہیں کیونکہ تاکید و تجرید اور تذکیر کے واسطے ہمیشہ اس کی ضرورت ہے، اور اب لوگوں کے لئے رسالت و دعوت کی ضرورت نہیں رہی، مگر چونکہ وہ وسائل میں گھرے ہوئے ہوتے ہیں اور خواہشات میں منہمک رہتے ہیں تو ان کو تذکیر و تنبیہ کی ضرورت باقی ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جب اپنی حکمت کی بناء پر وحی کا دروازہ بند کر دیا تو بندوں پر اپنی لطف و مہربانی سے الہام کے دروازے کو کھول دیا ہے۔ (مرقات)۔