اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7482
اور ان ہی سے روایت ہے وہ فرمائیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنی بیماری کے زمانہ میں ارشاد فرمایا تم اپنے والد ابوبکر(12) اور اپنے بھائی کو بلا دو تاکہ میں ایک فرمان
لکھ دوں کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں حالانکہ وہ
لائق نہیں ہے۔ اللہ اور مسلمان منع کر دیں گے کسی کو بھی سوائے ابوبکر کے(13)۔ (مسلم)
اور حمیدی کی کتاب میں انا ولا کے بجائے انا اولی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2387 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement “your father”: in apposition, and “your brother” is conjoined with Abu Bakr, meaning Abdur-Rahman. In Sharh Muslim: He requested her brother to write the document. His statement “so I may write a document”: meaning to order a document written. “For I fear that someone may aspire”: meaning to the caliphate if no document is written. “And say a speaker”: meaning I fear a speaker aspiring to leadership says: “I am so-and-so,” meaning I am entitled to the caliphate, though not deserving it with Abu Bakr present, as indicated by his statement: “Allah and the believers refuse.” The commentator said: Meaning they refuse the caliphate for anyone except Abu Bakr. The meaning of “Allah refuses”: He prevents it due to His displeasure or decree. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “Allah and the believers refuse except Abu Bakr”: An-Nawawi said: This is evidence for Ahl as-Sunnah that Abu Bakr’s caliphate was not based on an explicit text from the Prophet (ﷺ), but the companions agreed to appoint him due to his virtue. If there were a text for him or another, no dispute would have arisen between the Ansar and others initially, and the text’s keeper would have cited it, and they would have agreed. As for the Shi‘a’s claim of a text for Ali (may Allah ennoble his face), it is baseless, with no foundation among Muslims. Ali himself refutes them, as when asked: Do you have anything not in the Qur’an? He said: I have only what is in this document. If he had a text, he would have mentioned it. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : أباك : بدل، و «أخاك» عطف على أبا بكر»، والمراد به عبد الرحمن. وفي شرح مسلم: إن طلبه لأخيها لكتب الكتاب، فقوله: «حتى أكتب كتابا أي أمر أن يكتب كتابا، فإني أخاف أن يتمنى متمن» أي للخلافة على تقدير عدم الكتابة، ويقول قائل أي وأخاف أن يقول قائل من يتمنى الإمارة: أنا ولا، أي أنا مستحق للخلافة، ولا يكون مستحقا لها مع وجود أبي بكر، كما يدل عليه قوله: ويأبى الله والمؤمنون أي خلافا للمنافقين والرافضة في أمر الخلافة إلا أبا بكر. قال شارح: أي يأبيان خلافة كل أحد إلا خلافة أبي بكر. ومعنى يأبى الله»: يمتنع لعدم رضاه أو لعدم قدره وقضاه. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله : يأبي الله والمؤمنون إلا أبا بكر : قال النووي: وهذا دليل لأهل النسة على أن خلافة أبي بكر له ليست بنص من النبي ﷺصريحا، بل أجمعت الصحابة على عقد الخلافة له وتقديمه لفضله، ولو كان هناك نص عليه أو على غيره لم تقع المنازعة بين الأنصار وغيرهم أولا، ولذكر حافظ النص ما معه، ورجعوا إليه واتفقوا عليه، وأما ما يدعيه الشيعة من النص على علي كرم الله وجهه، والوصية إليه، فباطل ، لا أصل له باتفاق المسلمين، وأول من يكذبهم علي حين سئل : هل عندكم شيء ليس في القرآن؟ قال: ما عندي إلا ما في هذه الصحيفة، ولو كان عنده نص لذكره. كذا في «المرقاة»
Note 1
(12) قوله: اباك بدل اور اخاك عطف۔ لفظ ترکیب میں بدل ہے، اور اخاك کا ابابكر پر عطف ہے اخاك سے مراد عبدالرحمن ہیں اور شرح مسلم میں ہے ان کے بھائی کو طلب کرنا یہ فرمان لکھنے کے لئے تھا۔ فقوله: حتى اكتب كتابا یعنی فرمان کو لکھنے کا حکم دوں۔ فانا اخاف ان يتمنى متمن مطلب یہ ہے کہ نہ لکھنے کی صورت میں کوئی خلافت کی تمنا کر بیٹھے۔ ويقول قائل یعنی اندیشہ ہے کہ اقتدار کی تمنا کرنے والا کہنے لگے۔ انا ولا مطلب یہ ہے کہ وہ کہنے لگے میں اس کا مستحق ہوں حالانکہ ابوبکر کے ہوتے ہوئے وہ اس کا مستحق نہیں ہے۔ قوله: ويأبى الله والمؤمنون۔ امر خلافت کے بارے میں برخلاف منافقین اور رافضہ کے الا ابابكر۔ شارحین نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور تمام مسلمان سوائے ابوبکر کی خلافت کے دوسرے کسی بھی شخص کی خلافت کا انکار کرتے ہیں۔ يابى الله والمؤمنون کے معنی یہ نہ اللہ کا فیصلہ ہے نہ اس پر اللہ راضی ہے۔(مرقات) (13) قوله: يابى الله والمؤمنون الا ابابكر. علامہ نووی نے فرمایا یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر اہل سنت و جماعت کی دلیل ہے۔ اس باب میں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نص صریح نہیں ہے بلکہ صحابہ نے آپ کی خلافت پر اور فضیلت میں آپ کے تقدم پر اجماع کیا ہے اور اگر اس باب میں آپ کے بارے میں یا کسی کے بارے میں بھی کوئی نص ہوتی تو شروع میں انصار کے اور دوسروں کے درمیان کوئی نزاع رونما نہیں ہوتا تھا۔ اور اگر کسی کے پاس نص ہوتی تو وہ اس کا ضرور ذکر کرتے اور سب اس کی طرف رجوع کر لیتے اور اس پر اتفاق کر لیتے۔ اب رہا شیعہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت پر نص کا جو دعویٰ کرتے ہیں وہ باطل ہے مسلمانوں کا اتفاق ہے اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اور ان کی سب سے پہلے تکذیب کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ جس وقت آپ سے پوچھا گیا تھا کیا آپ کے پاس ایسی کوئی چیز ہے جو قرآن میں نہیں ہے تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس صحیفہ میں جو کچھ ہے اس کے سوا کوئی چیز نہیں ہے۔ (الحدیث) اور اگر آپ کے پاس کوئی نص ہوتی تو اس کا ضرور ذکر کرتے تھے۔ (مرقات)