اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7481
اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی قوم کے لئے جس میں ابوبکر ہوں سزاوار نہیں کہ ان کی امامت آپ کے
سوا کوئی دوسرے کریں(11)۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3673 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) His statement “that anyone else should lead them”: This is evidence that he is the most virtuous of all companions. Thus, his entitlement to the caliphate is established, as it is not fitting to appoint the less virtuous as caliph when the more virtuous is present. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : إن يؤمهم غيره فيه دليل على أنه أفضل جميع الصحابة، فإذا ثبت هذا فقد ثبت استحقاق الخلافة، ولا ينبغي أن يجعل المفضول خليفة مع وجود الفاضل. كذا في «المرقاة».
Note 1
شیخ نے لمعات میں فرمایا: یہ حدیث شریف دین میں تمام صحابہ پر آپ کی فضیلت کی دلیل ہے اور خلافت میں بھی آپ کی تقدم اولی وافضل ہے اسی لئے سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تمہارے دین کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مقدم کیا کون ہے وہ جو آپ کو ہمارے دنیا کے معاملہ میں مؤخر کرے۔
Note 2
(11) قوله: ان يؤمهم غيره۔ اس میں دلیل ہے کہ آپ تمام صحابہ میں افضل ہیں اور جب یہ بات ثابت ہے تو استحقاق خلافت بھی آپ کے لئے ثابت ہے کیونکہ فاضل کے ہوتے ہوئے مفضول کو خلیفہ نہیں بنانا چاہئے۔(مرقات)