Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5798

Chapter on the Virtues of Abu Bakr (may Allah be pleased with him)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of Abu Bakr (may Allah be pleased with him)

Zujajat al-Masabih 5798Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7492
اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی طرف سے دوزخ سے آزاد ہو پس اس دن آپ کا نام عتیق(26) رکھا گیا۔ (ترمذی) الحمد للہ باب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقب کا بیان ختم ہوا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3679 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

he was called Atiq

(1) His statement “he was called Atiq”: meaning he was given this title from that day. Ibn Zughar narrated in Inba’ Najaba’ al-Abna’ that Qadi Abu al-Hasan Ahmad ibn Muhammad az-Zubaidi reported with his chain in his book Ma‘ali al-‘Arsh ila ‘Awali al-Farsh that Abu Hurairah said: The Muhajirun and Ansar gathered with the Messenger of Allah (ﷺ). Abu Bakr said: “By your life, O Messenger of Allah, I never prostrated to an idol, though I was in Jahiliyyah for such-and-such years. My father, Abu Quhafah, took me by the hand to a chamber with idols and said: ‘This is your exalted deity, so prostrate to it,’ then left me. I approached the idol and said: ‘I am hungry, feed me,’ but it did not answer. I said: ‘I am naked, clothe me,’ but it did not answer. I took a rock and said: ‘I will throw this rock at you. If you are a god, protect yourself.’ It did not answer, so I threw the rock, and it fell on its face. My father returned and said: ‘What is this, my son?’ I said: ‘It is as you see.’ He took me to my mother and told her. She said: ‘Leave him, for he is the one Allah spoke to me about.’ I said: ‘O mother, what did He speak to you about?’ She said: ‘The night I was in labor, no one was with me. I heard a caller say: O maid of Allah, truly, rejoice in the freed son, named in the heavens as As-Siddiq, companion and friend to Muhammad.’” Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: When Abu Bakr (may Allah be pleased with him) finished, Jibril descended and said: “Abu Bakr has spoken the truth.” The author of Al-Mishkat said: His name is Abdullah ibn Uthman Abu Quhafah, with a dammah on the qaf, ibn Amir ibn Amr ibn Ka‘b ibn Sa‘d ibn Tamim ibn Murrah, joining the Prophet (ﷺ) at the seventh ancestor. He said: “Whoever wishes to see one freed from the Fire, let him look at Abu Bakr.” He witnessed all battles with the Prophet (ﷺ), never parting from him in Jahiliyyah or Islam. He was the first man to embrace Islam. He, his parents, children, and grandchildren were companions, a distinction no other companion had. He was born in Makkah two years and four months after the Event of the Elephant, minus a few days. He departed from this world in Madinah on Tuesday night, eight days remaining in Jumada al-Akhirah, year 13, between Maghrib and Isha, aged sixty-three. He willed that his wife, Asma’ bint Umais (may Allah be pleased with her), wash him, and she did. Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) prayed over him. His caliphate lasted two years and four months. Many companions and followers narrated from him, though he narrated few Hadiths due to his short time after the Prophet (ﷺ). (As stated in Al-Mirqat) Chapter on the Virtues of Umar (may Allah be pleased with him)

Note 1

قوله

(۱) قوله : سمي عتيقا أي لقب به من ذلك اليوم، ونقل ابن ظغر بل في إنباء نجباء الأبناء أن القاضي أبا الحسن أحمد بن محمد الزبيدي روى بإسناده في كتابه المسمى معالي العرش إلى عوالي الفرش أن أبا هريرة قال: اجتمع المهاجرون والأنصار عند رسول الله ، فقال أبو بكر وعيشك يا رسول الله، إني لم أسجد لصنم قط. وقد كنت في الجاهلية كذا وكذا سنة، وإن أبا قحافة أخذ بيدي، وانطلق بي إلى مخدع فيه الأصنام، فقال: هذه الهتك الشم العلى، فاسجد لها، وخلاني ومضى، فدنوت من الصنم فقلت: إني جائع فأطعمني، فلم يجبني، فقلت: إني عار فاكسني فلم يجبني، فأخذت صخرة فقلت: إني ملق عليك هذه الصخرة، فإن كنت إلها فامنع نفسك، فلم يجبني، فألقيت عليه الصخرة فخر لوجهه، وأقبل أبي فقال: ما هذا يا بني ؟ فقلت: هو الذي ترى، فانطلق بي إلى أمي فأخبرها، فقالت: دعه، فهو الذي ناجاني الله تعالى به فقلت: يا أمه ما الذي ناجاك به؟ قالت ليلة أصابني المخاض لم يكن عندي أحد، فسمعت هاتفا يقول: يا أمة الله على التحقيق، أبشري بالولد العتيق، اسمه في السماء الصديق، لمحمد صاحب ورفيق. قال أبو هريرة: فلما انقضى كلام أبي بكر نزل جبرئيل ، وقال: صدق أبو بكر . قال صاحب «المشكاة»: اسمه عبد الله بن عثمان أبي قحافة بضم القاف بن عامر بن عمرو ابن كعب بن سعد بن تميم بن مرة، وصل بالأب السابع إلى النبي . وقال : من أراد أن ينظر إلى عتيق من النار فلينظر إلى أبي بكر. شهد مع النبي ﷺ المشاهد كلها، ولم يفارقه في جاهلية ولا إسلام، وهو أول الرجال إسلاما، كان أبيض نحيفا خفيف العارضين معروف الوجه غائر العينين ناتي الجبهة، له ولأبويه وولده وولد ولده صحبة، ولم يجتمع هذا لأحد من الصحابة، كان مولده بمكة بعد الفيل بسنتين وأربعة أشهر إلا أياما، ومات بالمدينة ليلة الثلاثاء لثمان بقين من جمادى الآخرة سنة ثلاث عشرة بين المغرب والعشاء، وله ثلاث وستون سنة، وأوصى أن تغسله زوجته أسماء بنت عميس، فغسلته وصلى عليه عمر بن الخطاب، وكانت خلافته سنتين وأربعة أشهر، روى عنه خلق كثير من الصحابة والتابعين، ولم يرو عنه من الحديث إلا القليل؛ لقلة مدته بعد النبي . كذا في «المرقاة».

Note 1

(26) قوله: سمى عتيقا. یعنی اس دن سے آپ کا لقب عتیق ہوگیا علامہ ابن ظفر بل نے انباء نجباء الابناء میں نقل فرمایا ہے کہ علامہ قاضی ابوالحسن احمد بن محمد الزبیدی نے اپنی کتاب معالى العرش الى عوالى الفرش میں اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا مہاجرین اور انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی زندگی کی قسم میں کبھی بھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا اور میں ایام جاہلیت میں اچھی عمر کا تھا اور میرے والد ابوقحافہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کمرہ میں لے گئے جس میں بت تھے اور فرمایا یہ تمہارے بلند و بالا خدا ہیں تم ان کو سجدہ کرو اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو میں بت کے قریب گیا اور اس سے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھلا تو وہ مجھے جواب نہیں دیا تو میں اس سے کہا کہ میں ننگا ہوں مجھے کپڑے دے تو وہ مجھے جواب نہیں دیا تو میں ایک پتھر لیا اور اس سے کہا میں تجھ پر یہ پتھر ڈالتا ہوں اگر تو خدا ہے تو اپنے آپ کو بچا لے تو (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو میں اس پر پتھر ڈال دیا تو وہ منہ کے بل گر پڑا اور میرے والد صاحب آئے اور کہا اے میرے بیٹے یہ کیا ہوا تو میں نے کہا وہی ہوا جو آپ دیکھ رہے ہیں تو انہوں نے مجھے میری والدہ کے پاس لے گئے اور ان کو یہ سب بتایا تو والدہ نے کہا ان کو چھوڑ دو یہ وہ ہیں جن کی اللہ نے مجھے بشارت دی سرگوشی کی تو میں نے کہا امی جان آپ سے کس چیز کی سرگوشی کی گئی تھی تو وہ فرمائیں جس رات مجھے درد زہ شروع ہوا میرے پاس کوئی شخص نہیں تھا تو میں ایک غیبی آواز دینے والے کو کہتے ہوئے سنی اے اللہ کی بندی یقیناً تجھے خوشخبری ہے ایک لڑکے کی جو عتیق ہے آسمانوں میں اس کا نام صدیق ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا رفیق اور صحابی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا جب حضرت ابوبکر کی گفتگو ختم ہوئی تھی کہ جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمائے ابوبکر نے سچ کہا۔ صاحب مشکوٰۃ نے فرمایا آپ کی کنیت ابوقحافہ اور نام عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن غنم بن مرہ ہے۔ ابوقحافہ نام کے مشہوری کے ساتھ ہے اور آپ کا نسب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساتویں جد میں ملتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی دوزخ سے آزاد کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ ابوبکر کو دیکھے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک رہے، نہ جاہلیت میں آپ کو چھوڑے اور نہ اسلام میں۔ آپ سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں۔ اور آپ دبلے پتلے تھے اور رنگ آپ کا روشن تھا دونوں رخسار ہلکے تھے، آپ کا چہرہ خوشنما دونوں آنکھیں گہری تھیں پیشانی کشادہ تھی آپ کے والد والدہ اور آپ کے تمام اولاد اور اولاد کی اولاد سب صحابی ہیں اور صحابہ میں کسی کو یہ فضیلت حاصل نہیں ہے۔ آپ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے دو سال چند دن کم چار مہینے کے بعد ہوئی، اور مدینہ منورہ میں منگل کی رات ختم جمادی الاخریٰ سے آٹھ دن پہلے 13ھ مغرب عشاء کے درمیان آپ کی وفات ہوئی۔ آپ کی عمر تریسٹھ سال ہے آپ نے وصیت کی تھی کہ ان کی زوجہ محترمہ اسماء بنت عمیس آپ کو غسل دیں، چنانچہ وہ آپ کو غسل دیں اور عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھایا آپ کی خلافت دو سال چار مہینے رہی صحابہ اور تابعین کی کثیر جماعت نے آپ سے روایت کی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی مختصر حیات کی وجہ سے آپ سے بہت کم حدیثیں مروی ہیں۔ (مرقات)