اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 655
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ان سے ایک عورت نے دریافت کیا کہ
میرا دامن لمبا ہوا کرتا ہے اور میں ناپاک جگہ سے گزرتی ہوں (تو کیا میرا دامن پاک رہے گا؟) تو
اس پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
کپڑے کو اس مقام کے بعد کی جگہ پاک کر دیتی ہے۔ (اس کی روایت امام مالک، امام شافعی، امام
احمد، ترمذی، ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے) اور دارمی نے کہا ہے کہ وہ سوال کرنے والی عورت ابراہیم
بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد تھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 143 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 383 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The phrase "in the dirty place" refers specifically to a dry place. This interpretation, assuming the authenticity of the hadith, is agreed upon by all, because there is consensus that if a garment is soiled by impurity, it is only purified by washing, unlike a shoe, which has differing opinions. Thus, the statement about purification should be understood metaphorically. This is as mentioned in "Al-Mirqat."
Note 1
(۱) قوله: في المكان القذر: هذا يقيد باليابس، وهذا التأويل على تقدير صحة الحديث متعين عند الكل؛ لانعقاد الإجماع على أن الثوب إذا أصابته نجاسة لا يطهر إلا بالغسل، بخلاف الخف؛ فإن فيه خلافًا، فإطلاق التطهير مجازي. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: حدیث میں ناپاک جگہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ جگہ سے مراد خشک جگہ ہے اس پر دامن گزر جائے تو ناپاک نہیں ہوتا اگر جگہ تر ہو تو اس کا یہ حکم نہیں ہوگا کیوں کہ اس بات پر اجماع ہے کہ کپڑے کو جب نجاست لگ جائے تو وہ دھونے سے ہی پاک ہوتا ہے البتہ چمڑے کے موزے کا یہ حکم نہیں ہے اور اس کا حکم بھی آئندہ حدیثوں میں مذکور ہے اور اس حدیث میں زمین کا کپڑے کو پاک کر دینے کا جو ذکر موجود ہے قرینہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سائلہ عورت کا دامن خشک زمین پر ہی سے گزرتا تھا۔ (ماخوذ از مرقات۔)12۔