اردو
حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا
اُس ذات کی قسم جس نے دانہ کو پھاڑا اور جان دار کو پیدا کیا! نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد
فرمایا(9) کہ مجھ سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن اور مجھ سے دشمنی نہیں رکھے گا مگر منافق۔(مسلم)
اور ابن عدی نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما
کی محبت ایمان ہے اور اُن سے دشمنی کفر ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 78 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “it is the covenant of the unlettered Prophet (ﷺ) to me”: meaning he emphasized and stressed it to Ali as if it were a covenant. His statement “none will love me” means none will love me with a lawful, appropriate love, without excess or deficiency, excluding the Nusayri and Khariji, except a believer, meaning one with complete faith. Thus, one who loves him but hates the two Shaykhs, for example, does not love him with a lawful love. His statement “except a hypocrite” means in reality or by ruling. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: لعهد النبي الأمي ﷺ إلي : أي أكد ذلك وبالغ علي حتى كأنه عهد. وقوله: «أن لا يحبني» والمعنى لا يحبني حبا مشروعا مطابقا للمواقع من غير زيادة ونقصان ليخرج النصيري والخارجي، إلا مؤمن أي كامل الإيمان، فمن أحبه وأبغض الشيخين مثلا فما أحبه حبا مشروعا أيضًا. وقوله: «إلا منافق أي حقيقة أو حكما. كذا في «المرقاة».
Note 1
(9) قوله لعهد النبي الامي صلى الله عليه وسلم اليّ (مجھ سے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد فرمایا)یعنی مجھے اس بات کو یہاں تک تاکید اور مبالغہ کے ساتھ فرمایا گویا آپ نے مجھ سے عہد فرمایا ہو ”ان لا يحبني“ (کہ مجھ سے محبت نہیں کرے گا)یعنی مجھ سے کسی کی بیشی کے بغیر جائز اور واقع کے مطابق محبت نہیں تا کہ کرے گا نصیری اور خارجی نکل جائے۔ ”الا مؤمن“ (مگر مومن) یعنی کامل الایمان والا تو جس نے آپ سے محبت کی اور شیخین سے دشمنی رکھی مثال کے طور پر تو اُس نے بھی آپ جائز محبت نہیں کی، ”الا منافق“، (مگر منافق)یعنی حقیقی یا حکمی منافق۔(مرقات)