اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7654
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت
عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں داخل ہوئے اور میں
آپ کے پاس تھا، آپ نے فرمایا: کس چیز نے تم کو غصہ میں لایا؟ تو عرض کیا: یا رسول اللہ! قریش کو
ہم سے کیا ہو گیا وہ جب آپس میں ملاقات کرتے ہیں تو خوشی کے چہروں سے ملتے ہیں اور جب وہ ہم
سے ملاقات کرتے ہیں تو اس کے سوا چہروں سے ملتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلال میں
آ گئے یہاں تک کہ آپ کا رخ انور سرخ ہو گیا پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ
قدرت میں میری جان ہے کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اللہ کے لئے
اور اس کے رسول کے لئے تم سے محبت کرے پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! جو شخص میرے چچا کو تکلیف
دیا وہ مجھے تکلیف دیا کیونکہ کسی شخص کے چچا باپ کے مثل ہوتے ہیں(48)(ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3758 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement “like his father”: With a kasrah on the sad and sukun on the nun, meaning his equal. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: صنو أبيه بكسر الصاد وسكون نون، أي مثله. كذا في «المرقاة».
Note 1
اور مصابیح میں یہ حدیث حضرت مطلب سے مروی ہے اور صاحب مرقات نے فرمایا مصابیح میں جو روایت آئی ہے وہ سہو ہے اور اس کا سبب وہم ہے محدثین کرام کے پاس مطلب سے کوئی روایت نہیں ہے۔
Note 2
(48) قوله: صنو أبيه. صاد کو کسرہ (زیر) اور نون ساکن ہے۔ یعنی باپ کے مثل۔