اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 796
معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے اُم المومنین عائشہ
رضی اللہ عنہا سے دریافت کی کہ کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزے کی قضاء کرتی ہے اور نماز کی قضاء نہیں
کرتی؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم خارجی عورت ہو؟ میں جواب دی کہ جی نہیں میں
خارجی عورت نہیں ہوں بلکہ صرف دریافت کرنا چاہتی ہوں، تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی
ہیں کہ ہم کو حیض آیا کرتا تھا تو ہم کو روزوں کی قضاء کرنے کا حکم دیا جاتا تھا لیکن نمازوں کی قضاء کرنے
کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
(اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 335c (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 321 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں لفظ حروریہ جو مذکور ہے وہ حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے نواح میں ایک قریہ ہے اور حروراء وہ قریہ ہے جہاں سے فتنہ خارجیت کا آغاز ہوا اور خوارج ایک ایسا فرقہ ہے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی ہے اور اہل سنت و جماعت کے مسلک سے ہٹ کر عقائد اور اعمال میں ایک علیحدہ راستہ اختیار کیا جو آگے چل کر ایک گمراہ فرقہ بن گیا۔ اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سائلہ عورت نے جب سوال کیا تو ام المومنین رضی اللہ عنہا کو اندیشہ ہوا کہ ان کا یہ سوال بد اعتقادی کی وجہ سے تو نہیں ہے اس لئے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ تمہارا تعلق حروریہ یعنی فرقہ خوارج سے تو نہیں ہے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ اس لئے بھی دریافت کیا کہ خوارج کی ایک جماعت نے حائضہ پر ایام حیض میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیا ہے جو خلاف اجماع ہے اور جب سائلہ عورت نے جواب دیا کہ میں خارجی نہیں ہوں تو پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جو جواب دیا تھا وہ حدیث میں مذکور ہے۔ (عینی، معجم البلدان اور دائرۃ المعارف بستانی۔)12۔