Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں) · Chapter 13

(یہ باب ہے حیض کے بیان میں)

27 narrations · In source reading order

Hadith 694

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 780
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باکرہ اور ثَیِّبَہ دونوں کے لئے کم از کم حیض کی مدت تین دن کی ہے اور زائد سے زائد مدت دس دن کی ہے، اس لئے اگر حیض دس دن سے زیادہ ہو جائے تو عورت مستحاضہ کہلائے گی ۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے)۔

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Exalted: "And they ask you about menstruation. Say, 'It is harm, so keep away from women during menstruation.'" (Al-Baqarah: 222)

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: مستحاضہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے رحم سے خون بغیر ایامِ حیض اور نفاس کے جاری رہتا ہے، عورت کے رحم میں ایک رگ ہوتی ہے جس کو ”عاذل“ کہتے ہیں اور اس رگ کے پھٹ جانے سے خون جاری ہوتا ہے تو عورت کو جب اس قسم کا خون جاری ہو تو وہ نماز، روزہ اور تمام عبادتیں بدستور پڑھا کرے اور اس حالت میں صحبت بھی ممنوع نہیں ہے۔ (مرقات 12)۔

Hadith 695

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 781Noor 782
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیض کی مدت (3) تین دن اور (4) چار دن اور (5) پانچ دن اور (6) چھ دن اور (7) سات دن اور (8) آٹھ دن اور (9) نو دن اور (10) دس دن ہے اور جب دس دن سے زائد ہوجائے تو عورت مستحاضہ کہلائے گی۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔) اور دارقطنی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح موقوفاً روایت کی ہے۔

Hadith 696

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 783
واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیض کی مدت کم از کم تین دن ہے اور زائد سے زائد مدت دس دن ہے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)

Hadith 697

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 784
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیض کی مدت تین دن سے کم کی نہیں، اور دس دن سے زائد مدت حیض میں شمار نہیں ہے۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔)

Hadith 698

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 785
خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زائد سے زائد مدت دس دن کی ہے اور دو حیض کے درمیان کم سے کم پاک رہنے کی مدت پندرہ دن ہے۔ (اس کی روایت ابن الجوزی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ردالمحتار میں لکھا ہے کہ حیض کی کم سے کم اور زائد سے زائد مدت کے تعین کے متعلق چند صحابہ سے مختلف اسناد کے ذریعہ روایتیں آئی ہیں اور یہ تمام اسناد حسن کے درجہ تک پہنچتی ہیں جس کی تفصیل علامہ کمال اور علامہ عینی رحمہما اللہ نے شرح ہدایہ میں بیان کی ہیں اور جس کی تلخیص ”بحر“ میں بھی کی گئی ہے۔12

Hadith 699

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 786
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حیض والی عورت کا خون دس دن سے متجاوز ہو جائے تو وہ عورت مستحاضہ کی طرح ہے، اس لئے وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے اور بیہقی نے اس اثر (یعنی حدیث کے متعلق کہا ہے کہ اس کے اسناد میں کوئی ضعف نہیں۔)
Commentary and footnotes (2)

Note 1

(1) Sahabi (Companion of the Prophet ﷺ).

Note 1

(۱) صحابي.

Hadith 700

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 787
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حیض کی کم سے کم مدت تین دن ہے۔ (اس کی روایت دارمی نے اپنی سنن میں کی ہے اور اس حدیث کے راوی مسلم کے راوی ہیں۔)

Hadith 701

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 788
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نفاس والی عورت چالیس دن تک بیٹھی رہا کرتی تھی۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 139 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 311 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 702

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 789
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی عورت کے لئے چالیس دن معین فرمایا ہے مگر یہ کہ چالیس دن کے پہلے پاکی دیکھ لے (یعنی چالیس دن کے اندر خون بند ہو جائے تو وہ پاک سمجھی جائے گی۔ (اس کی روایت دارقطنی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 649 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 703

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 790
ابودرداء اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نفاس والی عورت چالیس دن تک انتظار کرے مگر یہ کہ پاکی کو چالیس دن کے پہلے دیکھ لے اور اگر چالیس دن کی مدت کو پہنچ جائے اور پاکی نہ دیکھے تو وہ غسل کرلے اور وہ مستحاضہ کی طرح ہوگی۔ (اس کی روایت ابن عدی اور ابن عساکر نے کی ہے۔)

Hadith 704

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 791
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی عورت کے متعلق روایت ہے جو حاملہ ہو اور حمل کی حالت میں خون دیکھتی ہو تو اس کو خون کا آنا ادائی نماز کے لئے مانع نہیں ہے اس لئے کہ یہ مستحاضہ سمجھی جائے گی۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں کی ہے اور اس کے راوی جماعت محدثین کے راوی ہیں۔)
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Regarding a pregnant woman who sees blood, etc.

(1) His statement: "Regarding a pregnant woman who sees blood, etc.": Based on these narrations, it is stated in Al-Hidayah that the blood seen by a pregnant woman, whether at the beginning of pregnancy or during childbirth before the child is born, is considered istihadah (irregular bleeding), even if it is prolonged. Imam Al-Shafi'i, however, regarded it as hayd (menstruation), by analogy with nifas (postpartum bleeding), since both originate from the womb. Our stance is that during pregnancy, the mouth of the womb remains closed as per natural practice, and nifas occurs only after it opens upon the child's birth.

Note 1

قوله

(۱) قوله: في الحامل ترى الدم إلخ: لهذه الآثار قال في «الهداية والدم الذي تراه الحامل ابتداء أو حال ولادتها قبل خروج الولد استحاضة، وإن كان ممتدا. وقال الشافعي الله : حيض؛ اعتبارًا بالنفاس؛ إذ هما جميعا من الرحم. ولنا أن بالحبل يَنْسَدُّ فمُ الرَّحِم كذا العادة، والنفاس بعد انفتاحه بخروج الولد.

Note 1

ف: ان حدیثوں کے پیش نظر صاحب بدایہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ خون جس کو حاملہ عورت حمل کے زمانہ میں دیکھے یا زچگی کے وقت بچے کے پیدا ہونے سے پہلے دیکھے وہ استحاضہ کا خون ہوگا اور اگر دوران حمل میں خون زیادہ دنوں تک جاری رہے تو وہ بھی استحاضہ ہی ہوگا، البتہ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے اس خون کو جو ولادت کے وقت بچے کی پیدائش سے قبل نظر آتا ہے نفاس کا اعتبار کرتے ہوئے حیض قرار دیا ہے کیونکہ امام موصوف کے پاس نفاس کا خون اور وہ خون جو ولادت سے پہلے نظر آتا ہے رحم ہی سے نکلتے ہیں، لیکن احناف کی تحقیق یہ ہے کہ عادۃً حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے جو بچہ کے پیدا ہونے کے بعد کھلتا ہے، اس لئے ولادت سے پہلے جو خون نظر آئے گا وہ رحم کا خون نہیں ہے بلکہ ایک رگ کے پھٹ جانے کی وجہ سے آ رہا ہے، اس خون کو حیض کا خون کہنا یا نفاس کا خون کہنا مناسب نہیں اور اسی بناء پر ہمارے پاس یہ استحاضہ ہی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ میں بھی ایسا ہی مذکورہ ہے۔)

Hadith 705

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 792
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ حیض کے خون کو حاملہ سے روک دیتے ہیں اور اس حیض کے خون کو (جو رحم میں جمع ہوتا ہے) بچے کی غذا بنا دیتے ہیں (1)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں ”تَغِيضُ الْأَرْحَامُ“ کا ترجمہ تکملہ مجمع البحار سے لیا گیا ہے۔12

Hadith 706

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 793
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حاملہ کے خون کو روک دیا ہے اور اسی کو بچہ کا رزق بنایا ہے۔ (2) (ان دونوں حدیثوں کی روایت ابن شاہین نے کی ہے جن کو صاحب الجوہر النقی نے نقل کیا ہے۔)

Hadith 707

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 794
ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر حاملہ عورت خون دیکھے تو وہ حائضہ نہیں ہے تو اس کو چاہئے کہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور اس سے اس کا شوہر صحبت بھی کرسکتا ہے اور وہ ان تمام کاموں کو کرسکتی ہے جو ایک پاک عورت کرتی ہے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے۔)

Hadith 708

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 795
علقمہ بن ابی علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں جو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ باندی تھیں، علقمہ رضی اللہ عنہ کی ماں نے کہا: عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں تھیلی میں حیض کی چندیاں رکھ کر بھیجا کرتی تھیں اگر حیض کے خون کا رنگ زرد ہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا فرما دیا کرتیں کہ جلدی مت کرو، تاوقتیکہ تم حیض کو سفید پانی کی طرح نہ دیکھ لو(کیوں کہ حیض جب ختم ہوجاتا ہے تو آخر میں سفید پانی خارج ہوتا ہے جس سے رحم کی پاکی معلوم ہوتی ہے) یہ فرمانے سے اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا منشاء یہ ہوتا تھا کہ حیض سے بالکل پاکی حاصل ہوجائے۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے اور عبدالرزاق نے بھی اس کی روایت اسناد صحیح کے ساتھ کی ہے اور امام بخاری نے بھی اسی طرح تعلیقاً روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 97 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 320 (unverified) 35% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 709

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 796
معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کی کہ کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزے کی قضاء کرتی ہے اور نماز کی قضاء نہیں کرتی؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم خارجی عورت ہو؟ میں جواب دی کہ جی نہیں میں خارجی عورت نہیں ہوں بلکہ صرف دریافت کرنا چاہتی ہوں، تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم کو حیض آیا کرتا تھا تو ہم کو روزوں کی قضاء کرنے کا حکم دیا جاتا تھا لیکن نمازوں کی قضاء کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ (اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 335c (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 321 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں لفظ حروریہ جو مذکور ہے وہ حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے نواح میں ایک قریہ ہے اور حروراء وہ قریہ ہے جہاں سے فتنہ خارجیت کا آغاز ہوا اور خوارج ایک ایسا فرقہ ہے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی ہے اور اہل سنت و جماعت کے مسلک سے ہٹ کر عقائد اور اعمال میں ایک علیحدہ راستہ اختیار کیا جو آگے چل کر ایک گمراہ فرقہ بن گیا۔ اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سائلہ عورت نے جب سوال کیا تو ام المومنین رضی اللہ عنہا کو اندیشہ ہوا کہ ان کا یہ سوال بد اعتقادی کی وجہ سے تو نہیں ہے اس لئے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ تمہارا تعلق حروریہ یعنی فرقہ خوارج سے تو نہیں ہے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ اس لئے بھی دریافت کیا کہ خوارج کی ایک جماعت نے حائضہ پر ایام حیض میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیا ہے جو خلاف اجماع ہے اور جب سائلہ عورت نے جواب دیا کہ میں خارجی نہیں ہوں تو پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جو جواب دیا تھا وہ حدیث میں مذکور ہے۔ (عینی، معجم البلدان اور دائرۃ المعارف بستانی۔)12۔

Hadith 710

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 797Noor 798
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بیوی حیض کی حالت میں ہو تو مجھے اپنی بیوی سے کیا چیز حلال ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے جائز ہے کہ ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا ڈھانک کر کپڑے کے اوپر سے نفع لیں (اور بغیر کپڑا ڈھانکے ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ سے نفع لینا جائز نہیں۔) (اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ اور امام احمد نے کی ہے۔) نیز اس کی روایت ابویعلی رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کی ہے اور ابویعلی رضی اللہ عنہ کے تمام راوی صحیح کے راوی ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 212 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

What is above the waist wrapper (izar)

(1) His statement: "What is above the waist wrapper (izar)": The jurists have defined it as the area between the navel and the knees, based on common customary practice. This is mentioned in Fath al-Bari.

Note 1

قوله

(۱) قوله : ما فوق الإزار : وحده الفقهاء بما بين السرة والركبة؛ عملا بالعرف الغالب. كذا في «فتح الباري».

Note 1

اور نیل میں مذکور ہے کہ ابوداؤد کی روایت میں دو راوی صدوق ہیں اور ابوداؤد کے باقی راوی بھی ثقہ ہیں۔

Note 2

ف: عورت جب حیض کی حالت میں ہو تو اس کے بدن سے استفادہ کے متعلق علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ عورت کی ناف اور ناف کے اوپر کے سارے بدن اور گھٹنا اور گھٹنے کے نیچے پیروں تک کے حصہ سے کپڑا ڈھانکے بغیر عورت کے جسم سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے بلکہ ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ سے بھی کپڑا ڈھانک کر نفع حاصل کیا جا سکتا ہے اگرچہ کہ صرف یعنی حیض کے کپڑے پر خون آ رہا ہو، امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کا قول یہی ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قول جدید میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ (ردالمحتار ومرقات۔)

Hadith 711

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 799
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں خود اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں ایک برتن سے غسل کیا کرتے تھے اور حیض کی حالت میں آپ مجھے حکم دیا کرتے تھے کہ میں ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا ڈھانک لوں اور آپ مجھ سے لپٹتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں (مسجد میں بیٹھ کر) میری جانب اپنے سر مبارک کو بڑھاتے (اور میں مسجد کے باہر رہتی تھی) اور حیض کی حالت میں آپ کے سر مبارک کو دھویا کرتی تھی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 300 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

So I wrapped myself with a waist wrapper, and he would be intimate with me, etc.

(1) His statement: "So I wrapped myself with a waist wrapper, and he would be intimate with me, etc." The meaning is that I tied the izar around my waist. This indicates the permissibility of enjoyment above the izar but not below it. This is the opinion of Abu Hanifa, Malik, and Al-Shafi‘i in his later opinion. Perhaps the saying: "Do everything except intercourse" was a concession, while his (the Prophet's) action was a firm directive to teach the ummah, as it is more cautious. For indeed, whoever grazes near the forbidden pasture is likely to enter it. This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فأتزر فيباشرني إلخ والمعنى: فأعقد الإزار في وسطي، وهذا يدل على جواز الاستمتاع بما فوق الإزار دون ما تحته، وبه قال أبو حنيفة ومالك والشافعي في قوله الجديد. ولعل قوله : اصنعوا كل شيء إلا النكاح، كان رخصة، وفعله غزيمة؛ تعليما للأمة، فإنه أحوط، فإن من يرتع حول الحمى يوشك أن يقع فيه، كذا في «المرقاة».

Hadith 712

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 800
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بیوی حائضہ ہو تو ایسی حالت میں میرے لئے میری بیوی کی کیا چیز حلال ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا کہ تمہاری بیوی اپنی ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا باندھ لے اور پھر تم (ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ سے) کپڑے کے اوپر سے بغیر جماع کے نفع حاصل کریں (اس کی روایت امام مالک اور دارمی نے مرسلاً کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 555 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 94 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 555

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 713

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 801
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں پانی پیا کرتی اور پھر اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتی تو آپ (اس پانی کے کٹورے سے) جہاں میں منہ لگا کر پانی پیتی تھی، اسی جگہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منہ لگا کر پانی پیتے اور اسی طرح حیض کی حالت میں گوشت والی ہڈی کے گوشت کو منہ سے چھڑا کر کھاتی اور اسی ہڈی کو آپ کی خدمت میں پیش کرتی تو آپ میرے منہ لگا کر کھانے کی جگہ سے اپنا دَہن مبارک لگا کر گوشت کھاتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 300 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 714

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 802
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گود سے ٹیکا لگاتے پھر قرآن پڑھتے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 297 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 301 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 715

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 803
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ہاتھ بڑھا کر مسجد میں سے مجھے حصیر دے دو، میں جواب دی کہ میں حالت حیض میں ہوں آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 298a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 716

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 804
اُم المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھ کر نماز پڑھا کرتے تھے کہ جس کا کچھ حصہ مجھ پر ہوتا تھا اور کچھ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتا اور میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 370 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 717

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 805
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حیض کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی لحاف میں سو جایا کرتی تھیں۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے۔)

Hadith 718

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 806
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حائضہ سے جماع کیا، یا عورت کی پچھلی راہ سے صحبت کی، یا نجومی کے پاس گیا تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو چیز اتاری گئی ہے اس سے کفر کیا۔ (اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔) اور ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں ہے کہ جس نے نجومی کے قول کی تصدیق کی، پس بے شک وہ کافر ہوا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 135 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 639 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 551 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 551

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 719

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 807
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کر لے تو وہ نصف دینار خیرات کرے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی، دارمی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 135 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.527
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 266 (unverified) 72% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 720

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 808
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر (ایسی حالت میں جماع کرے کہ) حیض کا خون سرخ ہو تو ایک دینار (یعنی ساڑھے چار ماشہ سونا) خیرات کرے اور اگر خون کا رنگ زرد ہو تو نصف دینار، خیرات کرے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 137 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور اکثر علماء نے کہا ہے کہ حیض کی حالت میں جماع کرنے والے پر استغفار کے سوا کوئی چیز واجب نہیں ہے اور ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے، واضح رہے کہ جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ حالت حیض میں جماع کرنے سے خیرات واجب نہیں ہوتی، انہوں نے یہ جواب دیا کہ حائضہ سے جماع کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں خیرات کرنے کا جو ذکر ہے وہ استحباب پر محمول ہے چاہے تو خیرات کرے اور چاہے تو نہ کرے، چنانچہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو عمدۃ القاری میں بیان کیا ہے اور اسی طرح عالمگیریہ میں مذکور ہے، البتہ بذل المجہود میں لکھا ہے کہ علماء نے حائضہ سے جماع کرنے سے کفارہ واجب ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے کہ ایسے شخص پر کچھ بھی واجب نہیں ہے بلکہ خیرات دینا مستحب ہے اگر ابتدائی حیض میں جماع کرلیا ہو تو ایک دینار خیرات کرے اور اگر آخری حیض میں جماع کیا ہو تو نصف دینار خیرات کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے۔