ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی عورت کے متعلق روایت ہے جو حاملہ ہو
اور حمل کی حالت میں خون دیکھتی ہو تو اس کو خون کا آنا ادائی نماز کے لئے مانع نہیں ہے اس لئے کہ یہ
مستحاضہ سمجھی جائے گی۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں کی ہے اور اس کے راوی
جماعت محدثین کے راوی ہیں۔)
(1) His statement: "Regarding a pregnant woman who sees blood, etc.": Based on these narrations, it is stated in Al-Hidayah that the blood seen by a pregnant woman, whether at the beginning of pregnancy or during childbirth before the child is born, is considered istihadah (irregular bleeding), even if it is prolonged. Imam Al-Shafi'i, however, regarded it as hayd (menstruation), by analogy with nifas (postpartum bleeding), since both originate from the womb. Our stance is that during pregnancy, the mouth of the womb remains closed as per natural practice, and nifas occurs only after it opens upon the child's birth.
Note 1
قوله
(۱) قوله: في الحامل ترى الدم إلخ: لهذه الآثار قال في «الهداية والدم الذي تراه الحامل ابتداء أو حال ولادتها قبل خروج الولد استحاضة، وإن كان ممتدا. وقال الشافعي الله : حيض؛ اعتبارًا بالنفاس؛ إذ هما جميعا من الرحم. ولنا أن بالحبل يَنْسَدُّ فمُ الرَّحِم كذا العادة، والنفاس بعد انفتاحه بخروج الولد.
Note 1
ف: ان حدیثوں کے پیش نظر صاحب بدایہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ خون جس کو حاملہ عورت
حمل کے زمانہ میں دیکھے یا زچگی کے وقت بچے کے پیدا ہونے سے پہلے دیکھے وہ استحاضہ کا خون ہوگا اور
اگر دوران حمل میں خون زیادہ دنوں تک جاری رہے تو وہ بھی استحاضہ ہی ہوگا، البتہ امام شافعی رحمہ اللہ
علیہ نے اس خون کو جو ولادت کے وقت بچے کی پیدائش سے قبل نظر آتا ہے نفاس کا اعتبار کرتے ہوئے
حیض قرار دیا ہے کیونکہ امام موصوف کے پاس نفاس کا خون اور وہ خون جو ولادت سے پہلے نظر آتا ہے
رحم ہی سے نکلتے ہیں، لیکن احناف کی تحقیق یہ ہے کہ عادۃً حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے جو بچہ
کے پیدا ہونے کے بعد کھلتا ہے، اس لئے ولادت سے پہلے جو خون نظر آئے گا وہ رحم کا خون نہیں ہے
بلکہ ایک رگ کے پھٹ جانے کی وجہ سے آ رہا ہے، اس خون کو حیض کا خون کہنا یا نفاس کا خون
کہنا مناسب نہیں اور اسی بناء پر ہمارے پاس یہ استحاضہ ہی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ میں بھی ایسا ہی مذکورہ
ہے۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "Regarding a pregnant woman who sees blood, etc.": Based on these narrations, it is stated in Al-Hidayah that the blood seen by a pregnant woman, whether at the beginning of pregnancy or during childbirth before the child is born, is considered istihadah (irregular bleeding), even if it is prolonged. Imam Al-Shafi'i, however, regarded it as hayd (menstruation), by analogy with nifas (postpartum bleeding), since both originate from the womb. Our stance is that during pregnancy, the mouth of the womb remains closed as per natural practice, and nifas occurs only after it opens upon the child's birth.
Note 1
(۱) قوله: في الحامل ترى الدم إلخ: لهذه الآثار قال في «الهداية والدم الذي تراه الحامل ابتداء أو حال ولادتها قبل خروج الولد استحاضة، وإن كان ممتدا. وقال الشافعي الله : حيض؛ اعتبارًا بالنفاس؛ إذ هما جميعا من الرحم. ولنا أن بالحبل يَنْسَدُّ فمُ الرَّحِم كذا العادة، والنفاس بعد انفتاحه بخروج الولد.
Note 1
ف: ان حدیثوں کے پیش نظر صاحب بدایہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ خون جس کو حاملہ عورت حمل کے زمانہ میں دیکھے یا زچگی کے وقت بچے کے پیدا ہونے سے پہلے دیکھے وہ استحاضہ کا خون ہوگا اور اگر دوران حمل میں خون زیادہ دنوں تک جاری رہے تو وہ بھی استحاضہ ہی ہوگا، البتہ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے اس خون کو جو ولادت کے وقت بچے کی پیدائش سے قبل نظر آتا ہے نفاس کا اعتبار کرتے ہوئے حیض قرار دیا ہے کیونکہ امام موصوف کے پاس نفاس کا خون اور وہ خون جو ولادت سے پہلے نظر آتا ہے رحم ہی سے نکلتے ہیں، لیکن احناف کی تحقیق یہ ہے کہ عادۃً حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے جو بچہ کے پیدا ہونے کے بعد کھلتا ہے، اس لئے ولادت سے پہلے جو خون نظر آئے گا وہ رحم کا خون نہیں ہے بلکہ ایک رگ کے پھٹ جانے کی وجہ سے آ رہا ہے، اس خون کو حیض کا خون کہنا یا نفاس کا خون کہنا مناسب نہیں اور اسی بناء پر ہمارے پاس یہ استحاضہ ہی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ میں بھی ایسا ہی مذکورہ ہے۔)