ابوبکر صدیق اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا تو اس کے تمام گناہ اور
خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں اور جب وہ نماز جمعہ کے لئے چلنے لگتا ہے تو اس کے لئے ہر قدم پر بیس
نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ (اس کی روایت طبرانی نے کبیر اور اوسط میں کی ہے۔)
اور ابن حبّان کی روایت میں ہے کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا تو وہ آئندہ جمعہ
تک پاک رہے گا۔
عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عراق کے چند لوگ آئے اور
ان لوگوں نے کہا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما کیا آپ جمعہ کے دن کے غسل کو واجب سمجھتے ہیں؟ تو
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں بلکہ وہ بڑی پاکی کی بات ہے اور غسل کرنے والے کے حق میں
بہتر ہے اور جس نے اس دن غسل نہیں کیا تو اس پر واجب بھی نہیں اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ (جمعہ کے
دن) غسل کی ابتدا کس طرح ہوئی، لوگ محنت مزدوری کیا کرتے تھے اور کمبل پہنتے تھے اور اپنے
پیٹھوں پر بوجھ ڈھوتے تھے اور ان کی مسجد تنگ تھی اور چھت ان کے قریب تھا (یعنی زیادہ بلند نہ تھا)
گویا کہ وہ چھپر تھا (مثل منڈوے کے) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف
لائے اور گرمی کا موسم تھا لوگوں کو کمبل کے لباس میں پسینہ آیا جس سے بو پھیلی اور ایک کو دوسرے کے
پسینہ کی بو سے تکلیف پہنچی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کی بو موجود پائے تو حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! جب جمعہ کا دن آئے تو غسل کر لیا کرو اور چاہئے کہ تم میں
سے ہر ایک بہتر سے بہتر تیل اور خوشبو جو اسے میسر ہو لگا کرے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ
پھر اللہ تعالیٰ نے مال سرفراز فرمایا اور لوگ کمبل کے لباس کے سوا دوسرے کپڑے پہننے لگے اور محنت
کے کام سے بچ گئے اور ان کی مسجد وسیع کر دی گئی اور پسینہ کی وجہ سے ایک دوسرے کو جو اذیت پہنچتی تھی
وہ جاتی رہی۔ (اس کی روایت ابوداود اور طحاوی نے کی ہے۔)
حماد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، وہ ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے
ہیں حماد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ میں نے ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روز جمعہ کے غسل اور پچھنا لگانے
کے بعد غسل اور عیدین کے غسل کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے جواب دیا کہ اگر غسل کر لو تو بہتر
ہے اور اگر غسل نہ کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں، میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
یہ نہیں فرمایا ہے کہ جو جمعہ کو جائے تو وہ غسل کرے، ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں
؟ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے) لیکن یہ غسل ان چیزوں میں سے نہیں ہے جو
واجب ہیں بلکہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”وَأَشْهِدُوا اِذَا تَبَايَعْتُمْ“ یعنی جب تم خرید و فروخت کرتے
ہو تو گواہ رکھ لیا کرو) کی طرح ہے تو جس نے گواہ رکھا اس نے اچھا کیا اور جس نے گواہ رکھنا ترک کیا
تو اس پر گواہ رکھنا واجب نہیں اور یہ (یعنی غسل جمعہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ”فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ
فَانْتَشِرُوا فِى الْأَرْضِ“ یعنی جب نماز جمعہ ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ) کی طرح ہے تو جو نماز
جمعہ کے ختم پر باہر نکل جائے تو اس پر کوئی حرج نہیں اور جو بیٹھ جائے تو مضائقہ نہیں۔ (اس کی روایت
امام محمد نے مؤطا میں کی ہے۔)
سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن وضوء کیا تو اس نے فرض اداء کیا اور خیر اچھا
کیا اور جس نے غسل کیا تو اس کا غسل کرنا افضل ہے۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ترمذی،
نسائی اور دارمی نے کی ہے۔)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جمعہ کے دن غسل
کرنا سنت ہے۔ (اس کی روایت بزّار نے کی ہے اور اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں جو مجمع
الزوائد میں مذکور ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جمعہ کے لئے آئے تو وہ غسل کر لیا کرے اور جب موسم سرما آ گیا تو ہم نے
عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم کو جمعہ کے لئے غسل کا
حکم دیا ہے، اب تو موسم سرما آ گیا ہے اور ہم سردی محسوس کرتے ہیں، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا: جس نے غسل کیا تو اس نے سنت پر عمل کیا اور بہت اچھا کیا اور جس نے غسل نہیں کیا تو اس پر
کوئی حرج نہیں۔ (اس کی روایت ابن عدی نے ”کامل“ میں کی ہے۔)
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ پر جمعہ کے لئے جانا واجب ہے اور جو مسجد کو جائے تو اس پر غسل
کرنا (سنت ہے۔) (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ہر ہفتہ میں ایک دن غسل کرے کہ جس میں اپنے سر اور اپنے پورے
جسم کو دھو لیا کرے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 898 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 849 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہفتہ میں ایک دن غسل کو جو لازم فرمایا ہے
اگر وہ دن جمعہ کا مقرر کر لیں تو اس سے سنت کی ادائی بھی ہو جاتی ہے۔12
فَاکِہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روز
جمعہ اور روز عید الفطر اور روز عید قربانی اور روز عرفہ میں غسل کیا کرتے تھے۔
(اس کی روایت امام احمد اور طبرانی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حلیہ المحلی شرح منیہ المصلی میں لکھا ہے، عرفہ کے دن غسل میدان عرفات میں وقوف عرفہ
کے لئے مسنون ہے تو اس دن تمام دنیا کے مسلمانوں پر غسل مسنون نہ ہوگا بلکہ ان ہی حضرات پر یہ غسل
مسنون ہوگا جو عرفات میں ہوں اور وقوف عرفہ کر رہے ہوں۔ (عمدہ الرعایہ)12۔
مصعب بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ثابت بن قتادہ رضی اللہ عنہ، نے کہا
کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ، نے ثابت رضی اللہ عنہ، سے کہا کہ جمعہ کے لئے غسل کر لو تو ثابت رضی اللہ عنہ،
نے ان سے کہا کہ میں نے جنابت کی وجہ سے غسل کر لیا ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم روز عید الفطر اور روز عید الاضحی میں غسل فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید
الفطر کے دن اور عید قربانی کے دن اور عرفہ کے دن غسل فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ
نے کی ہے۔)
خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد سے روایت
کرتے ہیں، ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام
کے لئے کپڑے اتارے اور غسل فرمایا۔ (اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا، سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب
مکہ معظمہ کو روانہ ہوتے اور جس وقت احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو غسل فرماتے تھے۔
(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار
چیزوں کی وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے: (1) جنابت کی وجہ سے اور (2) بروز جمعہ اور (3) پچھنا لگوانے
کی وجہ سے اور (4) میت کو غسل دینے سے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میت کو غسل دے تو وہ غسل کر لے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
اور امام احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے یہ اضافہ کیا ہے کہ: جو میت کو اٹھائے تو وہ وضوء کر لے۔
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایسے پانی سے غسل کر لیں کہ جس میں بیری کے پتے
ڈالے گئے ہوں۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب میں نے
اسلام قبول کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتے سے غسل کر لو اور کفر کی حالت کے بالوں کو اپنے سے مونڈھ دو
۔ (اس کی روایت ابونعیم نے کی ہے۔)
اور طبرانی نے کبیر میں اسی طرح قتادہ ابی ہشام سے روایت کی ہے اور اس
حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ مجمع الزوائد میں مذکور ہے۔
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما حرم
(یعنی مکہ المکرمہ) کے قریب ترین مقام کو پہنچ جاتے تو ٹھہر جایا کرتے اور مقام ذی طویٰ میں شب
گذارتے پھر صبح کی نماز وہیں ادا کرتے اور وہیں پر غسل کرتے تھے اور یہ بیان کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل مبارک بھی ایسا ہی تھا۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہفتہ میں ایک دن غسل کو جو لازم فرمایا ہے اگر وہ دن جمعہ کا مقرر کر لیں تو اس سے سنت کی ادائی بھی ہو جاتی ہے۔12